بے چارہ مولوی!۔۔۔۔ تحریر: سلمان رحمانی

صوبہ پنجاب میں آجکل پولیس مسجدوں ‘ مدرسوں اور مولویوں کی اصلاح پر تلی ہوئی ہے 133 ایسے لگتاہے کہ خادم اعلیٰ پنجاب یہ ٹھان چکے ہیں کہ ’’ملاء’’ اور مدرسے کو سبق سکھا کر ہی دم لیں گے133 مسجدوں سے سپیکر ایسے اتارے جارہے ہیں کہ جیسے پاکستان بالخصوص پنجاب میں تمام دہشت گردی اور فسادات کی جڑ یہی سپیکر ہوں۔ سنا ہے کہ پنجاب پولیس کو مولویوں سے اتنا پیار ہوگیا ہے کہ 133 تقریر کرنے سے قبل ہی مذہبی منافرت کی تقریر کرنے کے جرم میں انہیں اْٹھا کر 133 جیلوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے 133 مولوی حضرات اس پر خادم اعلیٰ پنجاب کا شکریہ ادا کریں 133 کہ اْن کے ’’مقدس سائے’’ کے نیچے 133 مولویوں کو جیلوں میں ڈال کر کم از کم اْن کے ورثاء4 سے ملاقات کی اجازت کا حق تو حاصل ہے 133 ورنہ روسیاہ ڈکیٹر کے تاریک دور میں تو لوگوں کو دھڑا دھڑ اٹھا کر سرے سے ہی لاپتہ کر دیا جاتا تھا 133 خادم اعلیٰ کا دور پرویز مشرف اور چوہدری پرویز الٰہی کے اس دور سے دو بدرجہا بہتر ہے 133 ’’مولوی اور جیل’’ کا ہمیشہ سے آپس میں گہرا تعلق اور رابطہ رہا ہے ایک دور تو ایسا بھی تھا کہ جس ’’مولوی’’ کو جیل نہیں ہوتی تھی 133 تو اس کے مقتدی اسے شک کی نظروں سے دیکھا کرتے تھے 133 کہیں یہ ’’مولوی سرکار کا مخبر تو نہیں’’133براعظم ایشیا کے سب سے بڑے خطیب کہ جن کے خطاب کی گرج سے فرنگیوں کے ایوانوں پر لرزہ طاری ہو جایا کرتا تھا 133 امیر شریعت سید عطاء اللہ شا ہ بخاری تو فرمایا کرتے تھے کہ 133 ’’آدھی کٹی جیل میں آدھی کٹی ریل میں’’۔
جن علماء کو جیلوں میں ڈالا جارہا ہے 133 وہ بھی اس بات پر غور کریں کہ 133 کہیں وہ تن آسان تو نہیں ہوگئے تھے؟ کہیں دین کی تبلیغ اور اشاعت میں اْن سے کوئی کوتاہی اور غفلت تو سرزد نہیں ہوگئی تھی؟ اگر ایسی کوئی بھول ہوئی ہے 133 تو جیل میں رہ کر انہیں توبہ تائب ہونے کا بہت موقع ملے گا 133 باقی رہ گئی مذہبی منافرت اور فرقہ واریت تو اس میں کوئی شک نہیں یہ حرام ہے 133 اور اس ’’مکروہ دھندے’’ میں ملوث کوئی بھی کیوں نہ ہو 133 اس کا معاشرے میں کھلے عام پھرنا معاشرے کیلئے سخت نقصان نقصان دہ ہے ہے 133 لیکن کیا کی جائے حکومتی ’’بھونپوؤں’’ کا ؟کہ جنہیں پیران پیر حضرت شیخ عبد القادر جیلانی اور حضرت اقدس پیر مہر علی شاہ گولڑوی کی کتابوں سے بھی فرقہ واریت کی بو محسوس ہوتی ہے 133 حکمران یاد رکھیں کہ ’’مولوی’’ بھی انسان ہیں 133 ان کے بھی بیوی بچے اور بوڑھے ماں باپ ہیں 133 پولیس اگر صرف ’’نمبر’’ پورے کرنے کیلئے بے گناہ مولویوں یا طالبعلموں کو اْٹھا کر جیلوں میں ٹھونسے گی تو ان کے بچوں ‘ بیوی اور ماؤں کی آہ و بکا سے عرش الٰہی بھی ہل جائے گا133 دہشت گردی تو خوفناک جرم ہے ہی 133 مگر کسی دہشت گرد کی حمایت بھی کرنا میرے نزدیک بہت بڑا جرم ہے 133 لیکن محض شک اور نمبرپورے کرنے کیلئے کسی کو گرفتار کرنے سے پرہیز ہی کیا جائے تو یہ سب کے لئے بہتر ہے۔
مولویوں نے آخر ایسا کون سا جرم کر دیا ہے کہ ہر کوئی انہیں پربھنایا ہوا نظر آتا ہے 133 امریکہ کو مولویوں پر غصہ’ برطانیہ مولویوں سے ناراض’ اسرائیل مولویوں کا دشمن ‘ سیکولر اور لبرل کو مولویوں سے خدا واسطے کا بیر اور آجکل تو ہمارے بعض دانش فروشوں کو سعودی عرب ‘ امارات ‘ مصر وغیرہ کی مساجد کی یاد بہت ستا رہی ہے 133 کہ جیسے وہاں مساجد کو کنٹرول کیا جاتا ہے 133 چھپی چھپائی حکومتی تقریریں اماموں اور خطیبوں کو مہیا کر دی جاتی ہیں 133 ویسا ہی سسٹم پاکستان میں بھی بنا دیا جائے۔ اسے دوسرے لفظوں میں علماء کرام ‘ خطباء اور مساجد کی آزادی پر قدغن لگانا قرار دے دیا جائے تو یقیناًغلط نہ ہوگا133 فرقہ واریت پھیلانے والوں کو روکنا ایک علیحدہ بحث ہے اور ہم اس حق میں ہیں کہ فرقہ واریت پھیلانے والوں پر ہر قسم کی پابندی بھی لگنی چاہیے اور قدغن بھی۔
مگر کلیتاً 133 ہر مسجد کے امام اور خطیب کی آزادی پر پابندی کے مطالبے کرنے والے تجویز نگار ‘ کالم نگار اور ا ینکر اس بارے میں کیا فرمائیں گے کہ 133 جیسے عرب امارات اور دوسرے ممالک نے اپنے اپنے ممالک میں ’’میڈیا’’ یعنی اخبارات و جرائد اور الیکٹرانک چینلز کو بانہوں میں جکڑ رکھا ہے 133 اسی طرح کے قوانین اور پابندیاں پاکستانی میڈیا پر لگنا چاہئیں؟
اگر خلیجی ممالک کی حکومتوں کے علما ء اور مساجد کیلئے بنائے جانے والے قوانین یہاں قابل قبول ہیں 133 تو پھر انہیں ممالک نے 133 میڈیا کے حوالے جو پالیسیاں بنا رکھی ہیں 133 ان کو یہاں قبول کرنے میں کیا قباحت ہے؟ کیا بعض اخباری گروپوں پر 133 پاکستان دشمنی کے الزامات نہیں لگ چکے ؟ کیا بعض کالم نگاروں اور صحافیوں پر پاکستان کی مخالفت کے لیبل چسپاں نہیں کیے جاچکے؟ انڈیا سے پیسے لینے کا الزام ہو ‘ امریکہ اور برطانیہ سے ڈالر کھانے کے الزامات ہوں 133 پاکستان میں فحاشی و عریانی اور جھوٹ کو عام کرنے کا الزام ہو 133 یہ سارے الزامات میڈیا کے بعض گروپوں پر لگتے چلے آرہے ہیں ‘ اگر فرقہ واریت یا مذہبی منافرت کے الزامات کے تحت 133 کْل مساجد’ مدارس ‘ علماء4 اور خطباء4 کیلئے دوست ممالک میں بنائے جانے والے قوانین 133 پاکستان میں متعارف کروانا ضروری ہیں 133 تو پھر الزامات کی زد میں آئے ہوئے میڈیا کو بھی انہیں ممالک کے قوانین اور نظام کو یہاں ناف ذکرکے جکڑنا ضروری ہے ‘ بے چارہ ’’مولوی’’ لادین عناصر کا سب سے آسان ٹارگٹ رہا ہے ‘ ضمیر جعفری نے اپنی مزاحیہ مگر حقیقت پر مبنی شاعری میں علماء4 کے خلاف جاگیرداروں اور سیکولر عناصر کی سوح واضح کی تھی۔
مولوی اونٹ پر جائے ہمیں منظور مگر
مولوی کار چلائے ہمیں منظور نہیں
وہ نمازیں تو پڑھائے ہیں منظور مگر
پارلیمنٹ میں آئے ہمیں منظور نہیں
حلوہ خیرات کھائے تو ہمارا جی خوش
حلوہ کو گھر میں پکائے ہمیں منظور نہیں
احترام آپ کا واجب ہے مگر مولانا!
حضرت والا کی رائے ہمیں منظور نہیں










Leave a Reply