آئینے بیچتا ہوں اندھوں کے شہر میں۔۔۔۔ تحریر: سلمان رحمانی

لفظ بے جان ،بے صوت اور بے حس نہیں ہوتے اور نہ ہی منافق، ان کے اندر جذبے سانس لیتے ہیں ،لفظوں اور جملوں کو جنم دیتے وقت لکھنے والا جس نفسیاتی کیفیت میں ہوتا ہے وہی لفظوں کا ابلاغی ورثہ قرار پاتی ہے قلم سے سلائے گئے لفظوں کو جب بھی جگایا جائے گا وہ درداور خوشی یارنج کی ترسیل کریں گے جن کی گرفت میں لکھنے والا تخلیق کے وقت تھا ، جملوں کی فطرت نہیں بدلتی ،وہ اپنے اصل سے جڑے رہتے ہیں۔ یوں لگتا ہے پاکستان میں سب سے بے بس ،لاچار اور بے اختیار جمہوریت کو تقویم دینے والے جمہور ہیں اور پاکستان کا عدالتی نظام ہے، عدلیہ کی آزادی پر گھنٹوں دلائل دینے والوں میں وکیلوں کی فوج ظفر موج سے لے کر دانشور سیاست دان اور صحافی سب شامل ہیں ججوں کو سو فیصد یقین ہوتا ہے کہ ان سے جرم سرزد ہوا ہے لیکن وہ ان کو سزا نہیں دے سکتے، کہتے ہیں اس کے خلاف صفحہ مثل پر کچھ نہیں ہم سزا کیسے دیں ؟ سب باعزت بری ہوجاتے ہیں ۔ یہ ہے ہمارے عدالتی نظام کی بے بسی اور بے اختیاری ۔میڈیا کی چکا چوند روشنی میں مائیں اپنے اپنے لخت جگر کا ماتم کرتی نظر آئیں ، لوگ اور میڈیا باقاعدہ قاتلوں کی نشاندہی کرتے رہے لیکن ان ماؤں کے سامنے عدالتی نظام قاتلوں کے سامنے لاچار اور بے ہنگم ہو گیا ۔
لیکن اگر اس ملک میں اللہ کے بتائے ہوئے اصول قصاص و دیت کے تحت کوئی وارث اپنے مقتول کے قاتل کو معاف کر دے تو اخبارات کے صفحے اس قانون کے خلاف کالے ہونے لگتے ہیں ،رات کو مختلف ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز میں نمائشی دانشور اس قانون کے خلاف آستینیں چڑھا لیتے ہیں ۔میں نے صدیوں سے پاکستان کے قبائلی علاقہ میں یہ اصول دیکھا ہے کہ جب جرگہ کسی قتل کا فیصلہ کرنے بیٹھتا ہے تودشمنی اور قتل و غارت کو مزید بڑھانے کے بجائے صلح اور دیت پر زور دیتا ہے تاکہ خون بہا لے کر صلح اور امن کے قیام کا بول بالا ہو ،لیکن ہم وہ بدقسمت اور پڑھے لکھے لوگ ہیں جو ایسے عدالتی نظام کا دفاع کرتے ہیں جس میں دھونس ،دباؤ اور لالچ سے عدالت کے سامنے جھوٹ بول کر قاتل کو چھڑا لیا جاتاہے اور پھر وہی ا نسانی جانوں پر شب خون مارنے کو اپنا وتیرہ بنا لیتے ہیں اور قتل و غارتگری میں دھنستے چلے جاتے ہیں لیکن اسلام کے اصولوں کے تحت کسی کو معاف کر کے دینا میں امن اور اخوت و بھائی چارے کی مثال قائم نہیں ہونے دیتے ۔
ہماری منافقت اور اسلام دشمنی کا یہ عالم ہے کہ روزانہ ہزاروں بے گناہ غلط ایف آئی آر درج ہونے کی وجہ سے جیل میں سڑتے رہتے ہیں لیکن کسی دانشور اور وکیل نے آج تک یہ آواز نہیں اٹھائی کہ پاکستان کے ضابطہ فوجداری میں ترمیم کی جائے اور اس وقت تک کسی کو گرفتار نہ کیا جائے جب تک تفتیش مکمل نہ ہوجائے ، راقم نے پہلے بھی کئی بار اپنے کالم میں لکھا ہے کہ مقدمات اور بالخصوص قتل کے واقعات میں خالی شہادت پر اکتفاء ضروری نہیں بلکہ آج کے جدید دور میں شواہد بھی باریک بینی سے تلاش اور محفوظ کیے جائیں ، ایف آئی آر کو فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کے بجائے فرسٹ انوسٹی گیشن رپورٹ بنایا جائے ۔میرا ماتم عدلیہ کے قوانین کی خلاف ورزی کرنا نہیں ہے بلکہ میرا ماتم تو یہ ہے کہ رائج قوانین کی اسلامی مملکت پاکستان کا قانون اسکی اجازت نہیں دیتا۔
دوسری طرف بنائے پاکستان سے ہی حکمران طبقہ موروثی سیاست کو عروج دینے میں مصروف ہے جس کی وجہ سے ریاست کو اچھی قیادت مل سکی ہے اور نہ ہی اسلامی جمہوریت کی تکمیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکا ہے ،ہماری جمہوریت عام طور پر سرمایہ داروں اور وڈیروں کا کھیل ہے جس میں مغربی آقاؤں کی جی حضوری کو ملحوظ خاص رکھا جاتا ہے اس اعتبار سے جمہوریت اور ملوکیت میں محض لیبل کا فرق رہ جاتا ہے ۔
فاؤنڈر آف جوڈیشنل رولز اور موجد سیاست حضرت عمر فاروقؓ نے عدالتی قوانین اور ریاستی اصول قرآن مجید اور سنت نبوی ﷺ کو سامنے رکھ کر اس طرح مدون کرائے کہ آج دنیا میں جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں وہ حضرت عمرؓ کے عدل و انصاف کی مثالیں دیتے دیتے نہیں تھکتے ، اچھے کام کا اچھا صلہ ہوتا ہے ،ذاتی سیاست کو بالائے طاق رکھ کر ملکی امور سرانجام دینے والے حکمران کو تاریخ سنہرے الفاظ میں اپنے اندر سمو لیتی ہے لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا قوانین میں ترمیم در ترمیم ہوتی گئیں مفسرین و محدثین اور قانون دانوں نے اپنے ذاتی فائدے کو سامنے رکھ کرکتاب اللہ کے ابدی اور لافانی قوانین کو اپنی خواہش کے مطابق سہل در سہل بناتے گئے آج دہشت گردی ، نا انصافی،ظلم و بربریت اسلامی ریاست کا مقدر بن گئی ہے اور انصاف کے حصول میں تاخیر ہی اصل ناانصافی ہوتی ہے۔
اور رعایا کو ایسا مسافر بنا دیا جس کو اپنی منزل کا پتہ ہی نہیں اور جگہ جگہ ہر نئے چہرے کو آزمانے کے لئے اسکے سامنے پڑاؤ ڈالتے ہیں لیکن یہ ان کو کون سمجھائے کہ پڑاؤ منزلیں نہیں ہواکرتے ، اصل مسئلہ مسافت (عدل و انصاف) کا ہے جو عام رعایا اور حکمران طبقے کے درمیا ن ہے ایوان اقتدار میں آنے کے بعد حکمران جمہور کو بھول جاتے ہیں ،کورٹ ،کچہریوں کی سیاست میں آج ہم لتھڑے پڑے ہیں حضرت عمرؓ اور رعایا کے درمیان تعلق کی یہ حالت تھی کہ آپؓ کا انتقال ہوا تو آپؓ کی سلطنت کے دور دراز علاقے کا ایک چرواہا بھاگتا ہوا آیا اور چیخ کر بولا لوگو! عمر کاا نتقال ہو گیا ۔لوگوں نے حیرت سے پوچھا کہ تم مدینے سے ہزاروں میل جنگل میں ہو تمہیں اس سانحے کی اطلاع کس نے دی ؟ چرواہا بولا جب تک عمرؓ زندہ تھے میری بھیڑیں جنگل میں بے خوف پھرتی تھیں لیکن آج پہلی بار ایک بھیڑیا میری بھیڑ کا بچہ اٹھا کر لے گیا ، بھیڑیے کی اس جراء ت سے میں نے جان لیا کہ آج دنیا میں حضرت عمرؓ نہیں ہیں ۔ آ ج پتہ نہیں کتنے بھیڑیے ہیں جو عوام کی بے بسی اور لاچاری کا فائدہ اٹھا کر ان کا خون پی رہے ہیں ۔
کیا ہی خوب کہا ایک شاعر نے
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا
یہ بھی بتاتا چلوں کہ حضرت عمرؓ کی سلطنت 28لاکھ مربع میل کے رقبے تک پھیلی ہوئی تھی لیکن عدل و انصاف اور احتساب کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ وہ مسجد میں منبر رسولﷺ پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہو گیا ور کہا کہ اے عمر ! ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک تم یہ نہ بتاؤ کہ یہ جو کپڑا آپ نے پہنا ہوا ہے بیت المال سے ملنے والے کپڑے سے کہیں زیادہ ہے اور یہ کہاں سے آیاہے ؟ حضرت عمرؓ نے کہا کہ مجمع میں میرا بیٹا عبداللہ موجود ہے ، عبداللہ بن عمر کھڑے ہوگئے اور کہا کہ جو کپڑ ا بیت المال سے ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس لئے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد کو دے دیا ۔لیکن آج جب اداروں اور سیاسی مگر مچھوں کے احتساب کی بات ہوئی تو کسی نے اس کو جمہوریت کے خلاف عمل قرار دیا تو کسی نے اس کو اپنے خلاف پراپیگنڈہ قرار دیا ۔
کیا پوچھتے ہو حال میرے کاروبار کا
آئینے بیچتا ہوں اندھوں کے شہر میں










Leave a Reply