مودی کی ملکی سیاست ۔۔۔۔ تحریر: سلمان رحمانی

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر میں بگلیہار ڈیم کی تعمیر کا افتتاح کیا ہے اور اسی طرح افغان حکومت نے بھارت سے دفاعی معاہدے کے تحت چار روسی ساختہ ہیلی کاپٹر طالبان کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کے لئے خریدے ہیں واضح رہے کہ افغان حکومت نے پاکستان کو یکسر نظرانداز کر کے یہ معاہدہ بھارت کے ساتھ کیا ہے حالانکہ طالبان کے خلاف آپریشنز اور مختلف کارروائیوں میں پاکستان اپنا بہت سارا نقصان کر چکا ہے اور اپنے جوانوں کو اس آگ میں دھکیل کر دنیا پر یہ واضح کر چکا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے پاک فوج اور تمام پاکستانی حالت جنگ میں ہیں جبکہ بھارتی سرکا ر نے مقبوضہ کشمیر کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے جو کہ کشمیریوں کی امنگوں اور حق خود ارادیت کے خلاف ہے کشمیریوں نے اس کو ایک جسم کو دو لخت کرنے کے مترادف قرار دیا ہے اور بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی ہائیکورٹ نے گائے ذبح کرنے اور اسکا گوشت پیچنے کے خلاف ایک شہری کی طرف سے دی گئی درخواست کو مسترد کردیا ہے جبکہ بھارت میں گائے ذبح کرنے اور اسکا گوشت بیچنے پر مودی سرکار کے پالتوغنڈوں نے مسلم کش فسادات بپا کر رکھے ہیں جس میں متعدد مسلمانوں پر تشدد کے ساتھ ساتھ ان کو قتل بھی کیاجاچکا ہے ۔
پاکستان کی طرح بھارت میں بھی بلدیاتی انتخابات کا عمل شروع ہوچکا ہیاور واضح طور پر بی جے پی کو بھارتیہ جنتا نے یکسر مسترد اور وائٹ واش کر دیا ہے بلدایتی انتکابات کا مقصد انتقال اقتدار ہے پاکستان میں 73کے آئینی اصلاحات کے مطابق صوبائی خود مختاری،عدلیہ کی آزادی،میڈیا کی آزادی کے آزاد الیکشن کمیشن کا قیام بھی شامل ہے ہمارے ہاں نہ صرف اس کو نظر انداز کیا جاتا ہے بلکہ انتقال اقتدار کو مقتدر افراد سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے اور سیاست دانوں نے آپسی اختلافات کو وتیرہ بنا لیا ہے ایک دوسرے کی صوبائی حکومت پر تنقید کے ساتھ ساتھ بلدیاتی اداروں کو تباہ و برباد کر دیا ہے حالانکہ جتنا لوکل گورنمنٹ کا رول اہم ہے اس پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ،اور تو اور وزیر اعضم نواز شریف صاحب کی سیاست بھی این اے-122اور این اے-154کی انتخاابی کمپین چلانے کو ہی اپنی سیاست سمجھتے ہیں میرا ماتم یہ نہیں ہے ترقیاتی کام ضرور کریں لیکن ملکی سیاست پر بھی تھوڑی نظر ڈالی جائے کہ آج پاکستان کہاں کھڑا ہے ؟ پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کیسے ہیں ؟ جبکہ بھارت پہلے ہی دنیا پر یہ واضح کرنے کی کوشش کر چکا ہے کہ پاکستان کی جوہری توانائی غیر محفوظ ہاتھوں میں ہے اور اب بھارت مسلسل ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کر کے کولڈوار کے ذریعے پاکستان کی سرحدوں کو دنیا کے سامنے غیر محفوظ دکھانا چاہتا ہے افغان سرحد پر آئے روز دہشت گردوں کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر دراندازی کی مسلسل کوشش پاک افغان تعلقات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ رعایا ہوگی تو حکمران ہونگے یعنی عام لافظوں میں جمہور ہونگے تبھی جمہوریت ہو گی جب ریاست اور ملک ہی نہ ہو تو سیاست کہا ں اور کیسے ہوگی؟ دریں حالات ملکی سیاست ایک نظریاتی سیاست بن چکی ہے جس میں صرف ذاتی مفادات کو سامنے رکھ کر ملکی مفادات کو یکسر نظر انداز کیا جا چکا ہے جبکہ حریف ملک بھارت ڈیم پہ ڈیم بنا کر پاکستان کے خلاف صنعتی،اقتصادی اور زرعی جنگ لڑ رہا ہے دوسری طرف ایران،افغانستان کے ساتھ تعلقات استوار کر کے ملکی سرحدوں کو دنیا کے سامنے غیرمحفوظ دکھانا چاہتا ہے گو کہ بھارت کے اندرونی حالات نہایت ہی کشیدگی کی صورت اختیار کر چکے ہیں لیکن بھارتی حکومت نے اندرونی معاملات کی دیکھ بھال کے لئے عوامی اداروں کو یہ کا م سونپ رکھا ہے جبکہ خود نریندر مودی ملکی سیاست میں اہم رول پلے کر رہے ہیں جس کی واضح مثال حال ہی میں اقوام متحدہ میں بھارتی سفارت خانے کو فعال کرنا ہے تاکہ کوئی بھی بھارتی لیڈر اگر اقوام متحدہ آئے تو اسکو صحیح طور پر گائیڈ لائن دی جا سکے۔
بڑے افسوس کہنا پڑھ رہا ہے کہ ہمارے ایسی سیاست کا خاتمہ ڈکٹیٹر ضیاء الحق نے جب جمہوریت پر شب خون مارا تو بھٹو کے ساتھ ہی یہ سیاست منوں مٹی تلے دفن ہو گئی 1970ء کہ دہائی میں بھٹو نے تمام اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا تھا آج دو بھایؤں کو اکٹھا کرنا مشکل ہے لیکن انکا یہ خواب آج تک پورانہیں ہو سکا ،ظاہرہے اگر قیادت صحیح ہو گی تو فیصلے ملکی بقاء اور عوام کے حق میں ہونگے دوسری طرف آئی ایم ایف سے مشروط قرضہ جو کہ میٹرو بس کی آنییں اور جانییں دیکھنے کے لئے لیا گیا تھا اسکی ریکوری نہیں ہوسکی تو یہ خوشخبری غریب اور ننگی تھڑنگی عوام کے لئے ہے کہ اب اپنی کمر مہنگائی در مہنگائی کو جھیلنے اور ٹہکس در ٹیکس ادا کرنے کے لئے تیار ہو جائیں اور یہ بھی بتا تا چلوں کہ پہلے ہی ائی ایم ایف نے قرضے کی فراہمی کی سمری بھارت کی سفارش کے ساتھ مشروط کر رکھی ہے ۔
اگر پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کی بات کی جائے تو ٹرکی نے 36جنگی طیارے مفت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے اور پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تعلقات بھی کوئی سود مند نظر نہیں آرہے جبکہ افغانستان کو یہ باور کرانا چاہیے کہ پاکستان پہلے ہی افغان جنگ لڑھ رہا ہے اور افغانستان میں قیام امن کی راہیں ہموار کر رہا ہے دریں حالت حکومت کو چاہیے کہ انتقال اقتدار کو جلد از جلد عوامی اداروں تک پہنچایا جائے اور لوکل گورنمنٹ کو اس قدر فعال کیا جائے کہ وہ اندرونی حالات سے نمٹنے کے لئے خود مختار ہوں اور گورنمنٹ کو چاہیے کہ ملکی سالمیت کی سیاست کو وتیرہ بنائیں اور باریاں لینے کے بجائے ملکی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمسایہ ممالک سے تعلقات استوار کرنے چاہییں اور ان منصوبوں کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جو 1970ء سے کر آج تک التواء کا شکار ہیں ۔
کچھ عرصہ ہی قبل چین کی طرف سے ایشیا ئی بلاک بنانے کی درخواست کو سنجیدہ لیا جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے اور صدیوں پرانا مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ یا وائٹ ہاؤس کے بجائے ایشیائے ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر اس مسئلہ کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کر سکیں نہیں تو دشمن اور بیرونی طاقتیں اس قدر رول پلے کر رہی ہیں کہ کچھ ہی عرصہ پہلے انڈیا نے دنیا کے سامنے پاکستان کی جوہری توانائی کو غیر محفوظ دکھانے اور پھر ورکنگ باؤنڈری پر آئے روز بلا اشتعال فائرنگ کے ساتھ ساتھ ایران بنگلہ دیش اور افغانستان میں بھارتی ایجنسیوں کا فعال ہونا ریاستی امن کے لئے کوئی خوش آئند نہیں ہو سکتا۔










Leave a Reply