صدارتی ایوارڈ کے حامل شعراء اور ادیب ۔۔۔۔ تحریر:سلمان رحمانی

Salman Rehmani

پاکستان میں کتب خانوں کی ابتدا انیسویں صدی کے نصف پر محیط ہے۔ سب سے پہلا کتب خانہ سندھ کراچی میں فریئرہال لائبریری کے نام سے 1851 میں قائم کیا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد اس کتب خانے کا نام لیاقت میموریل لائبریری رکھ دیا گیا۔ جسے آج کل کراچی میٹروپولیٹن سٹی لائبریری کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔خالق دینا ہال لائبریری اس کے بعد 1869 میں سکھر میں جنرل لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا۔ راولپنڈی کی میونسپل لائبریری 1873 میں قائم ہوئی۔ جب کہ پنجاب پبلک لائبریریاس کے بعد 1884 میں قائم ہوئی۔ ملتان میں باغ لنگے خان کی لائبریری اور کوئٹہ میں سینڈیمن لائبریری 1886 میں، 1891کو کنٹونمنٹ بورڈ لائبریری، راولپنڈی اور اقبال لائبریری سیالکوٹ 1892 میں قائم کی گئی۔ اس طرح اور بھی بہت سے عوامی کتب خانے مختلف شہروں میں قائم کیے گئے ان میں صوبہ سرحد میں بنوں کی میونسپل لائبریری جو 1905 میں میونسپل لائبریری سرگودھا اور کنگ لائبریری گجرات 1920-30 کے عشروں میں بنائی گئیں۔
مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ پروف سیکشن میں بیٹھے کام کرنے والے بزرگ سے ادب کے بارے بات ہوئی اُس بزرگ کے چہرے پرپڑی جھریوں سے ناانصافی اور ظلم کی داستانیں واضح نظر آرہی تھیں تو انہوں نے محض ایک جملہ کہا اور اپنی بات مکمل کردی اور میں ششدر رہ گیا ، وہ بولے ’’بیٹا ادب سے لگاؤ اور لکھاریوں کی ثقافت سے دلچسبی نہایت ہی اچھی بات ہے لیکن ان چیزوں سے پیٹ کے جہنم کو نہیں پالا جا سکتا ‘‘ قسم ہے قلم کو پیدا کرنے والے کی جس ذات نے اسکو ذریعہ علم بنایاابد سے ہی معاشرتی اقدار کو بحال کرنے میں اورمعاشرے کو صحیح سمت لانے میں گاہے بگاہے مسلسل قلم کے شاہسوار میدان لافانی کی حدوں کو سر کرنے کی تگ و دو میں سر گرداں چلے آرہے ہیں اور ملکی و ریاستی تخت نشینوں کو رہنمائی کے امور سرانجام دے رہے ہیں، ہمیشہ معاشرے کی نمائندگی ثقافت سے ہوا کرتی ہے جس سے معاشرہ دیگر معاشروں سے ممتاز ہوتا ہے شعراء ہوں یا ادیب اپنے اپنے زاویے اور کمال فن سے رعایا میں شعور و آگاہی کے دیپ تاریک و جہالت کی اندھیر نگری میں روشن کرتے آئے ہیں ۔
عوامی کتب خانے معاشرے کا ایک لازمی جزو ہے اور اس کا اہم کردار ہے ۔موجودہ دور میں علم میں بے پناہ وسعت آ گئی ہے۔ لا تعداد کتابیں شائع ہو رہی ہیں، بے شمار نئی تحقیقات ، مضامین ومقالات کی شکل میں آرہی ہیں۔ سائنس دانوں اور محققین کا جدید تحقیق سے واقف ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی عام آدمی کے لیے بھی جدید معلومات سے بہرہ ور ہونا لازمی ہے تاکہ وہ موجودہ معاشرے کے تقاضوں کو جانچ اور پرکھ سکے ۔عوامی کتب خانے تعلیم، ثقافت اور معلومات کی ایک زبردست قوتِ متحرکہ ہیں۔
مہذب قومیں اپنی ثقافت کلچر کے رکھوالوں کی قدردان ہوا کرتی ہیں یہ حقیقت ہے کہ صدارتی ایوارڈ کے حامل شعراء اور ادیب آج خود کسی مسیحا کے منتظر ہیں یہ واضح طور پر ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے ؟
روزنامہ خبریں اس حوالے سے بہت ہی داد کا حامل ادارہ ہے کہ جس نے ان افراد کی حوصلہ افزائی ہی نہیں بلکہ ان کی آواز کو برسوں سے عوام الناس اورایوان بالا میں بیٹھے منتخب نمائندگان تک پہنچا رہا ہے ، اپنی کم علمی اور کم فہمی کو سامنے رکھتے ہوئے اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ زبان کو تراش کر نوک قلم پر لانا اس قدر دقیق اور ضخیم کام ہے جس کا اندازہ عام آدمی سمجھ ہی نہیں سکتا ،یہ لوگ اپنی معاش کی پرواہ کئے بغیر قلم کے ذریعے معاشرے کے ناسوروں اور نا انصافیوں ،ظلم و بربریت کے خلاف سراپا جدال رہے ہیں ،
انسانی تہذیب کی پہلی تحریر علامت پتھر پر کنندہ نقوش ہیں۔ عہد قدیم میں کتابت کے لیے مختلف سامان دریافت کیے گئے جیسے پتیاں، کیلے کی پتیاں، کنول کی پتیاں، درختوں کی چھال، پتھر،چمڑا،کپڑا، دھات، لکڑی، وغیرہ ۔اور اس سامان کے استعمال میں فراہمی اور ضرورت کے لحاظ سے وقتا فوقتا کمی بیشی ہوتی رہی۔عہد وسطی میں مغلوں نے کاغذ بنانے اور اس کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنا شروع کیا۔ ابتدائی ادوار میں تحریر خاص طبقہ کے استعمال کی چیز رہی، جو ابتدائی تحریریں سامنے آتی ہیں وہ خطوط، حسابات، کھانے پکانے کے نسخے اور سفرنامے وغیرہ ہیں اس طرح بتدریج کتابت اور مطالعہ کے فن کو فروغ حاصل ہوا۔
ہمارا شمار ان بد نصیب اقوام میں ہوتا ہے جو اپنے رول ماڈلز کے کارنامے ،تاریخ پیدائش اس جہان فانی سے رحلت کرنے کے بعد موروثی طریقے سے دوآنسو بہاکر،ان کی یاد میں شمعے جلا کر ، محفل مشاعرہ کا انعقاد کر کے دو چار گھنٹوں کے لئے اظہار افسوس کا ملمع اور دلفریب ڈراما رچا لیتے ہیں اور بعد میں آنے والی نسلوں کو انکی حکایات اور دانائی کی باتیں سناتے سناتے اپنی زبان تو کیا کوے بھی گھسا دیتے ہیں ۔
ہر وہ معاشرہ جو اغیار کی تہذیب کو اپنائے بظاہر عروج یافتہ نظر آتا ہے حقیقت میں زوال پذیری کا شکار ہو کر بے سکونی کا سبب بنتا ہے ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں شمولیت کی دوڑ میں ہم اپنی تہذیب و ثقافت کو بھولتے جا رہے ہیں ،ہمی ں ترقی کے منازل ضرور طے کرنے چاہیءں لیکن اپنے مذہب اور ثقافت کو سر کاتاج سمجھتے ہوئے اور کبھی بھی مذہب اور ثقافت ترقی کی راہ میں آڑے نہیں آسکتا جب تک فرد اغیار کی تہذیب سے مرعوب ہو کر اپنے بزرگوں کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دے ،برصغیر میں فرنگیوں نے ایک نظام تعلیم متعارف کرایا اور ادیب و شعراء کو اس قدر دور پھینکا کہ وہ آج تک اپنی بقاء کی جنگ لڑتے اور اپنی ثقافت کا مضبوطی سے دامن پکڑے نظر آتے ہیں ، جس کا نقصان یہ ہوا کہ ہمارا نوجوان اپنی ثقافت اور تہذیب سے دور اور اخلاق حمیدہ سے عاری ہو گیا ۔
آج سے بیسیوں سال پہلے لارڈ میکالے نے برصغیر سے جاتے وقت کہا تھا کہ انگریز برصغیر سے چلا تو جائے گا لیکن وہ ایسا نظام تعلیم رائج کر کے جا رہا ہے کہ یہاں کا نوجوان شکل و صورت سے تو ہندستانی ہوگا لیکن ذہن و خیالات کے اعتبار سے انگریز ہوگا ۔
آج جب 18کروڑ کی آبادی معاشرتی برائیوں سے اٹ گئی ہے تو تہذیب و ثقافت کے علمبرداروں کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کی تہذیبی و اخلاقی رہنمائی کریں یہ حقیقت ہے کہ ناخواندگی کا واحد حل تعلیم ہی ہے لیکن جہالت اور بے راہ روی کا تریاق انہی گوشہ نشینوں کی محافل اور ان کے فرمودات پر عمل کرنا ہی ہے ۔

Short URL: http://tinyurl.com/hyan7de
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *