کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

Muhammad Naeem Qureshi
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: محمد نعیم قریشی

ان دنوں کراچی میں غیر قانونی تعمیراتی کے افسران اور بلڈرز کی دوڈیں لگی ہوئی ہیں،کیونکہ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کا مسلہ ایک سنگین سماجی حیثیت اختیار کرچکاہے،اس وقت کراچی کے کسی بھی کونے پر نظر دوڑائیں کہیں نہ کہیں ناجائز تعمیرات ضرور دکھائی دینگی،ناجائز تجاوزات کے نام پر سرکاری زمینوں پر قبضے اوربغیر نقشوں کے فلیٹ و مکان نے شہر قائد کے حسن کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیاہے،یہ ہی وجہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کے معزز جج صاحبان ان دنوں ان قبضہ گروپوں کے خلاف سخت برہم دکھائی دیتے ہیں،کراچی میں اس سے قبل بھی سپریم کورٹ کی جانب سے غیر قانونی عمارتوں کے خلاف ایکشن لیے جاتے رہے ہیں مگر ان غیر قانونی کاموں میں ملوث لوگ کسی نہ کسی طرح سے معاملے کو طول دیتے چلے آئے ہیں۔ایک ریکارڈ کے مطابق 2004اور 2021تک پیپلزپارٹی اور دیگر اثررسوخ رکھنے والی جماعتوں کے ایما پر دل کھول کر غیر قانونی تعمیرات کے این اوسی جاری کئے گئے، زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ جنوری 2019میں جسٹس گلزار اور جسٹس ساجد علی شاہ نے تمام غیر قانونی شادی حال اور عمارتوں اور مکانات کو گرانے کا حکم دیاتھااور کہاتھا کہ کراچی کا چالیس سال پرانا حسن بحال کیا جائے،جبکہ موجودہ وقتوں میں شاہراہ فیصل اور شاہراہیں قائدین کے سنگم پر موجود نسلہ ٹاور ایک پندرہ منزلہ عمارت ہے جسے سپریم کورٹ آف پاکستان نے گرانے کا حکم دیاہواہے،جبکہ عدالت کے حکم کے بعد سوئی سدرن گیس کمپنی،کے الیکٹرک کمپنی اورواٹر بورڈ حکام نے اس عمارت میں فراہم کردہ اپنے اپنے تمام کنکشنز کاٹ دیئے ہیں،سپریم کورٹ آف پاکستان نے نسلہ ٹاور کی طرح کراچی میں واقع ایک اور عمارت تجوری ہائٹس اورمکہ ہائٹس کو غیرقانونی قراردیکر گرانے کا حکم دیدیا ہے، تجوری ہائٹس کراچی میں حسن اسکوائر کے قریب واقع ہے، یہ ریلوے کی زمین پر ناجائز طور پر اور سندھ حکومت کے دو ادارے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے کاغذات میں ہیر پھیر کرنے کے بعد تعمیر کی جارہی تھی۔، سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الحسن نے وکیل تجوری ہائٹس رضا ربانی سے تجوری ہائیٹس کیس کی ہیئرنگ میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپ کو ملکیت منتقل ہی نہیں ہوئی اگر ترمیم کی اجازت ملی بھی تو سروے ایک سو نوے کو ملی آپ سروے ایک سو اٹھاسی کے بارے میں دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں وکیل نے کہا کہ زمین سندھ حکومت نے پرانے مالک کو الاٹ کی تھی جسٹس نے کہا کہ زمین کسی کی بھی ہو فی الحال آپ کی نہیں ہے چیف جسٹس نے کہا کہ یہ طے ہو چکا ہے کہ عمار ت غیر قانونی ہے اور دستاویزات میں بھی ردوبدل کیا گیا ہے آپ ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں پیسے دیکر کچھ بھی کرواسکتے ہیں، سندھ حکومت کے بارے میں چیف جسٹس کے یہ الفاظ ہیں کہ ریونیوڈیپارٹمنٹ سندھ سے آپ پیسے دیکر کچھ بھی کرواسکتے ہیں پھر بھی ان لوگوں کو شرم نہیں آتی، سپریم کورٹ نے عمارت گرانے کے متعلق وکیل سے کہا کہ اپنے کلائنٹ سے پوچھ کربتائیں کہ عمار ت خود گرائیں گے یاہم حکم دیں، یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے، اگر نہیں رکا تو کبھی نہیں رکے گا جو بھی اسٹریکچر ہے ہم گرانے کا حکم دیں گے زمین منتقل کرانے کا طریقہ کار ہی غلط ہے، سروے نمبر 190سے سروے نمبر188پر منتقل ہوئی وہ جرم ہے، کراچی سرکلر ریلوے کی زمین پر قبضہ کرنے والے کامران ٹیسوری کو پولیس نے پچیس سو گز کے پلاٹ پر قبضے کے خلاف مامزد کیا ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے کبھی کراچی میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کبھی کوئی ایکشن نہیں لیا نہ کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم غیرقانونی تعمیرات روکیں گے یا ہوگئی ہیں تو ان کے خلاف کاروائی کریں گے نہ انہوں نے کبھی اپنے کوئی افسر نکالا ہے، بلکہ وزیراعلیٰ سندھ میں ہونے والی غیرقانونی تعمیرات میں پوری طرح شامل ہیں، اس کے علاوہ تجوری ہائٹس کے بعد کراچی میں غیرقانونی تعمیر کی گئیں عمارتوں میں سے ایک عمارت مکہ ٹیرس بھی گرائی جائیگی، پریڈی اسٹریٹ پر پانچ سو گز پر بنائی گئی چار منزلہ عمارت ہے، یہ ایم اے جناح روڈ پر تبت سینٹر سے قریب ہے، ڈی جی ایس بی سی کے درمیان جو بات ہوئی، سندھ ہائی کورٹ نے مکہ ٹیرس کے خلاف ایک ماہ میں کاروائی کرنے کے احکامات دے دیئے، افسران زندہ ہیں یا مردہ تمام رپورٹس دی جائیں پورامحکمہ بھی خالی ہوجائے لیکن کاروائی ہوگی، پانچ سو اسکوائر یارڈ میں چار منزلہ بلڈنگ کیسے کھڑی کردی گئی، جسٹس محمد فیصل کمال نے کہا کہ غیرقانونی تعمیرات گرائی جائیں گے، عدالت عالیہ نے ریمارکس دیئے کہ جس افسرنے بلڈنگ بنانے کی اجازت دی ان کے نام دیئے جائیں زندہ یا مردہ اور حاضر ہیں یا ریٹائرڈ، ایس بی سی اے کی کارکردگی صفر ہے جو غیرقانونی ہیں سب توڑیں، ڈی جی سندھ کو تمام ملوث افسران کے خلاف کاروائی کرنے کا حکم دیدیا، جب یہ بنتی ہیں تو آپ کے افسر کہاں ہوتے ہیں، سندھ ہائی کورٹ نے نہایت واضح الفاظ میں کہا کہ جن افسران نے غیرقانونی تعمیرات بنانے کی اجازت دی ان کے خلاف کاروائی کی جائے اور یہ کہا کہ جب عمارتیں بن رہی ہوتی ہیں تو متعلقہ اداروں کے افسران سورہے ہوتے ہیں، سندھ ہائی کورٹ کی تیز ترین کاروائی اور افسران کے خلاف کاروائی کے احکامات کے بعد بہت سارے افسران کراچی چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں اور اندرون سندھ روپوش ہوگئے ہیں، سندھ حکومت کے دیگر کرتا دھرتا لوگوں نے بھی روپوش ہونے والے افسران کو میڈیا سے بات کرنے سے منع کردیا ہے اور فون استعمال کرنے سے بھی منع کردیا، کراچی کے لوگوں کے لیئے یہ خوش آئند ہے کہ عدالت غیرقانونی قبضوں کو ختم کروا رہی ہے اور کراچی کے لوگوں کے باپ دادا کی زمینیں اور پلاٹوں پر قبضہ نہیں ہوگا عدالت کے صرف تین فیصلوں سے سندھ حکومت کے افسران اور بلڈرزما فیا کے درمیان ہلچل مچ گئی ہے۔مکہ ٹیرس کی صورتحال یہ ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے معزز ججز نے یہ حکم دیاتھا کہ ا اسے یک ماہ میں گرایا جائے ایس بی سی اے کے افسران نے اپنی ٹیم وہاں بھجوائی اور مکینوں کو مجبور کیا کہ وہ لوگ بلڈنگ خالی کردیں، ایک ماہ میں تو بلڈنگ خالی نہیں ہوسکتی تھی اس لیئے لوگوں نے افسران کے خلاف نعرے بازی کی اور بلڈنگ خالی کرنے سے منع کردیا، اور کچھ مکینوں نے عدالت میں درخواست دیدی اور فریقین میں ایس بی سے کے افسران کو نامزد کیا جس میں کہاگیا کہ ایس بی سے اے کے افسران رشوت لیتے ہیں اور غیرقانونی بلڈنگز کے نقشے پاس کردیتے ہیں،اگر ان افسران کے خلاف کاروائی کی جائے تو کراچی کے لوگ آج جس مشکل کا شکار ہیں وہ نہ ہواس کے علاوہ میں سمجھتا ہوں کہ ایس بی سی اے کے افسران کے اثاثے بباقاعدہ چیک ہونے چاہیے اور ساتھ ہی جو خزانے ان افسران نے اپنی تجویوں میں بھر رکھے ہیں ان سے وہ پیسہ واپس لیکرغیرقانونی بلڈنگز میں رہنے والے لوگوں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے اور جب تک ان کو متبادل جگہ نہیں ملتی تب تک ان بلڈنگز کو نہ گرایا جائے مگر اس کے برعکس زیر تعمیر غیر قانونی تعمیر ہونے والی بلڈنگز کو فوری طورپر گرایا جائے، اس سلسلے میں میں سمجھتاہوں کہ کراچی کی عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے علاقوں کی کمیٹیاں بنائیں اور علاقے کے پڑھے لکھے لوگوں کو کمیٹی میں شامل کریں کسی بھی سیاسی جماعت کے لوگوں کے پیچھے نہ بھاگیں اور کسی بھی قسم کی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف عدالت میں درخواست جمع کروائیں اس طرح غیرقانونی تعمیرات کاسلسلہ روکنے میں عدالت عظمیٰ کی مدد بھی ہوجائیگی۔

Short URL: https://tinyurl.com/2eyztde9
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *