کتاب تشیع علوی و تشیع صفوی (حصہ اول)

تحریر: میر افسر امان
معمول کے مطالعہ کے دوران شیعہ رہنما ،ڈاکٹر علی شریعتی صاحب کی مشہور کتاب” تشیع علوی و تشیع صفوی“ کا ذکر آیا تو سوچا کہ یہ امام خمینیؒ کی طرح عالم اسلام میں اتحاد و اتفاق کی بات کرنے والا کوئی شیعہ اسلامی اسکالر ہو گا ۔ مکتبہ تحریک محنت اسلام آباد کے انچارج محمد ارشد یوسف صاحب سے کتاب مہیا کرنے درخواست کی جو انہوں نے مہربانی فرما کر مہیا کر دی۔ ڈاکٹر علی شریعتی ،اس کتاب کے پہلے حصہ میں شیعہ کو” علوی شیعہ “ اوربعد والوں کو ”صفوی شیعہ“ کہتے ہیں۔ راقم!بادشاہ اسماعیل صفوی جس نے سنی ترکوں سے ایران چھینا تھا۔۲۰۵۱ءمیں اپنی شیعہ حکومت کی بنیاد رکھی تھے۔ سنی آبادی کو زبرستی شیعہ بنایا تھا۔اصحاب رسولؓ پر تبرا شروع کیا۔سرخ ٹوپی ۲۱ اماموں والے کنگورے پہنے شاہ اسماعیل صفوی کی فوج قزلباش کہلاتی تھی۔یہ ترکی زبان کا لفظ ہے یعنی سرخ ٹوپی والے۔ ان ہی کو ڈاکٹر علی شریعتی صفوی شیعہ کہتے ہیں۔
ایک اور حقیقت ہمیں یاد رکھنی چاہےے کہ خلیفہ راشدسوم حضرت عثمان ؓ کے خلاف بلوئیوں نے جب بغاوت کی تھی تو خلیفہ راشدعثمان ؓ نے ایک بڑی سلطنت کی فوج کے کمانڈر اور سربراہ مملکت ہونے کے باوجود اتحاد امت کو سامنے رکھتے ہوئے مٹھی بھربلواﺅں کے خلاف حکومتی سطح پر اپنی جان بچانے کے لیے کوئی بھی کاروائی کرنے سے منع کرتے ہوئے اپنی جان اپنے اللہ کو پیش کر دی تھی۔ اس طرح خلیفہ راشد چہارم حضرت علی ؓ کے دور خلافت میں اختلافی امور سے ہٹ کر امت کے اتحاد کا ہی خیال رکھا تھا۔ کچھ کوفیوں نے جب آپ ؓ سے سوال کیا تھا کہ آپ ؓ کے دور آپس میں لڑائی جھگڑے ہی ہیں فتوحات نہیں
ہوئیں۔ تو خلیفہ راشد سوم حضرت علی ؓ نے تاریخی جواب دیا تھا” کہ میں پہلے والے خلفاءکا مشیر تھا اور تم میرے مشیر ہو۔پھر خلافت ملوکیت میں تبدیل ہو گئی ۔ اموی دور حکومت میںممبر رسول پر حضرت علیؓ کی شان میں گستاخی کی جاتی رہی۔ مسلمان ،نواسہ رسول حضرت حسنؓ کوخلیفہ راشد پنجم اور ان کے بعد حضرت عمر بن عبدلعزیزؒکو خلیفہ راشد ششم مانتی ہے۔ ان کے دور حکومت میںحضرت علیؓ پر گستاخی کے رواج کو ختم کیا گیا تھا۔حضرت عمر بن عبدلعزیزؒ نے باغ فدک بھی اہل بیت کے حوالے کر دیا تھا۔ اہل سنت کے علماءنے جمعہ کے خطبے میں چاروں خلفائے راشدینؓ کے ساتھ اہل بیت کو بھی شامل کر کے اتحاد و اتفاق کی فضا کو قائم رکھنے کی تاریخی کوشش کی۔
شیعہ آج بھی بنو امیہ کے خلاف بغض رکھتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ تاریخ اسلام میں اموی دور خلافت کی فتوحات کو اگر شیعہ، سنی تلخیوں کی وجہ سے ایک طرف رکھ دیا جائے، تو پھر سارا دور” خلافت اور امامت“ کی بحث و مباحث کی نظر ہو جاتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ سیاسی اختلافات کو سیاسی اختلافات ہی سمجھا جائے ۔مگر شیعہ حضرات نے اسے مذہبی اختلافات میں تبدیل کر دیا۔ آج بھی امام بارگاہوں میں شیعہ حضرات شیخین ؓ پر تبرا بھیجتے ہیں۔
اس بنیادی تمہید کے بعد اب آتے کتاب کی طرف ۔ اس کتاب کے پہلے حصہ میں ڈاکٹر علی شریعتی پہلے والے علوی شیعہ کو تشیع سرخ مہذبِ شہادت اورشاہ اسماعیل صفوی کے بعد والے تشیع سیاہ کو مہذب عزا کہتے ہیں۔لکھتے ہیں صفوی دور سے پہلے ظالم حکومت مثلاً خلافت اموی، عباسی،عثمانی، سلطنت غزنوی، سلجوقی،تیموری و ایلیخانی کی مہذب اہلسنت کو سرکاری مہذب کے طور پر اعلان کر چکے تھے، ان کے خلاف علوی شیعہ مسلسل جہادِ فکر و عمل کرتی دکھائی دیتی ہے ۔ڈاکٹر صاحب کے مطابق پہلے والے سرخ شیعہ اہل سنت حکمرانوں کے خلاف تحریک چلاکر اپنے عقائد کو پھیلاتے تھے ۔ صفوی دور کے بعد کے شیعہ صرف اعزاداری تک معدود ہیں۔راقم !کیا اس کا یہ مطلب ہوا کہ اہل سنت حکمران تو قیصر و کسرا کے
کافر حکمرانوں سے لڑ کر اسلام کو اُس وقت کی معلوم دنیا کے پونے چار براعظموں تک پہنچا چکے تھے۔جبکہ سرخ شیعہ اسلامی سلطنت کی ٹانگیں کھینچنے اوراندرونی طور پر بغاوت کے مرتکب ہوئے اور لڑ رہے تھے۔
کتاب کے دوسرے حصہ میں مذہبِ شہادت۔ مذہب ِ عزاءکے صفحہ۸ ۴ تا ۴۵ میں لکھتے ہیں جس وقت دنیا دو قطبوں یعنی مسیحیت اور اسلام میں تقسیم تھی۔ اسلام سلطنت عثمانیہ تھا اورمسیحیت مشرقی یورپ تھا۔ عثمانیوں کو اگر اسلام سے موزانہ کیا جائے تو بیشک فاسد حکومت تھی مگر عثمانیوں کو یورپی مسیحیت سے موازنہ کیا جائے اور عثمانی فتوحات کو سامنے رکھا جائے تو یہاں ہماری رائے مختلف ہو گی ۔مگر متعصب و کند زہین شیعہ ان کو صرف رائج تشیع کی مذہبی عینک لگا کر دیکھتے ہیں۔ انہیں سنی، عمری، منکر امامت، مخالف ِو صایت اور منکر مہدویت سمجھتے ہیں۔ لہٰذا مسیحیت کے مقابلے میں انہیں بھی بُرا سمجھتے ہیں۔اگر شیعہ اور سوشلسٹ اپنی اپنی آنکھوں سے صرف ایک طرف دیکھنے والی عینک اُتار کر سلطنت عثمانیہ کا اسلامی و استعمار دشمن پلیٹ فارم کے طور پر لیں تو رائے بل لکل مختلف ہو گی۔ڈاکٹرعلی شریعتی اپنی کتاب ” اسلام شناسی“ کے مقدمے کے آغاز عثمانیوں سے ہمدردی جتاتے ہوئے یہ جملے لکھتے ہیں”مارچ ۴۲۹۱ءسے اور سلطنت ِ عثمانیہ کی شکست کے بعد، اسلام مغرب کے مقابلے میں ایک سیاسی، عسکری قوت سے محروم ہو گیا۔ اور اس سے مغربی استعمار کی مشرقی بالخصوص اسلامی ممالک پر جارحیت و یلغار کی راہ ہموار ہوئی“
اس پر شیعہ حلقوں سے ڈاکٹر صاحب پرعثمانیوں کی طرف طرفداری کے الزامات لگے۔راقم! یہ ایسی ہی بات ہے کہ جیسے سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ پر کتاب خلافت ملوکیت میں حقاحق بیان کرنے پرکچھ سنی حلقوں کی طرفداری کے الزامات لگے ہیں۔لکھتے ہیں مکہ میں اسلامی کانفرنس میں مجھے بلایا گیا وہاں وہا بی ملاﺅں نے مجھے تقریر سے روک دیا کہ ”غالی شیعہ“ ہے۔ دوسری طرف شیعہ حضرات، شیعہ عوامی مجالس میں میرے حسینیہ ءارشاد میں لیکچر کو نشانہ بناتے۔مجھے مخالف ولایت، منکر اہل بیت، سنی ،وہابی اور نجانے کیا کیا کہا گیا۔باقی انشاءاللہ آیندہ















Leave a Reply