ریاست کی رٹ برقرار ہے؟

Safdar Ali Khan
Print Friendly, PDF & Email

State’s writ upheld State’s writ upheld State’s writ upheld State’s writ upheld State’s writ upheld State’s writ upheld State’s writ upheld

تحریر: صفدرعلی خاں

پاکستان میں سیاسی تنازعات سے نقصانات کی صورت عیاں ہے اس پر محب وطن قوتیں یکجا ہوکر کردار نبھائیں گی تو بات بن سکتی ہے ورنہ ملک میں افراتفری کے حالات کسی بھی فریق کے حق میں نہیں،مرضی کی حکومت ہر فریق کی خواہش تو ہوسکتی ہے مگر کسی کا اس وقت تک حق نہیں بنتا جب تک وہ اس قابل نہ ہو جائے اور قابلیت کا دار و مدار کارکردگی پر ہے،جلسے جلسوں کی آب وتاب اپنی جگہ مگر ووٹ ملک کے وسیع تر مفاد میں صرف کام کرنے والی جماعت کو ہی دیا جاتا ہے اگر کوئی بہترین پرفارمینس سے عوام کے دل جیت کر منتخب ہوجائے تو پھر اسے حق ہے کہ وہ حکومت بنائے،موقع ملنے پر کارکردگی نہ دکھاسکنے والی حکومتوں سے قبل ازیں وقت چھٹکارہ پالینے کی روایت بھی اب جمہوریت کا حصہ بن چکی ہے،اس کا طریقہ کار موجود ہے جس کے تحت عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے اپنی مرضی سے تبدیلی کا مینڈیٹ دیتے ہیں،پاکستان میں 75برسوں سے عوام کی بہبود کیلئے کام کرنے کے دعوے کرنے والی مختلف سیاسی جماعتیں کچھ خاص نہیں کرسکیں،عوام کو جس طرح کے خواب دکھا کر اقتدار حاصل کیا جاتا رہا اس پر کبھی عملدرآمد نہ ہوا،عوام اپنے مسائل کے حل کی خاطر ہر طرح کے سیاستدان اور سیاسی جماعتوں کو آزما رہے ہیں،عوامی آزمائش پر پورا نہ اترنے والوں کو اقتدار کی خواہش رکھنے کا بھی اصولی طور پر حق نہیں بنتا مگر وہ اکثر نئے رنگ سے نئے وعدے اور نعرے لگاکر آ جاتے ہیں، ملک میں بار بار غیر جمہوری طریقے سے اقتدار حاصل کرنے والوں کی طاقت کا کوئی بھی سامنا نہیں کرسکا،طاقت کے سامنے ٹھہرنا مشکل ہوتا ہے، اس بات کی نوبت بھی اس وقت آتی ہے جب ریاست اپنی رٹ برقرار نہیں رکھ سکتی تو پھر ریاست کی رٹ برقرار رکھنے والے سیاستدانوں کو یہ ڈسپلن سکھاتے ہیں،کئی بار اسباق پڑھانے پر بھی سیاستدان کچھ نہیں سیکھتے اور پھر انکی کلاس لینے والے آ جاتے ہیں ایسا تب ہوتا ہے جب سیاستدان ایک دوسرے کو قبول کرنے کی صلاحیت سے عاری ہوجاتے ہیں۔اقتدار سے دور رہنے کے دعوے تو طاقتور ہر دور میں کرتے ہیں مگر جب سوال ملکی مفاد اور قومی سلامتی کا ہو تو پھر سارے وعدے اور دعوے بھی دھرے رہ جاتے ہیں،پاکستان میں ایسا آخر بار بار کیوں ہوتا ہے؟ اس حوالے سے تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں اقتدار سے سیاستدانوں کے تسلط کو ختم کرنے میں خود سیاستدان ہی کردار نبھاتے ہیں،عملی طورپر ریاست کی رٹ ختم کرتے اور کبھی باقاعدہ ”سبق دہرانے ”کی دعوت دی جاتی ہے اور ایسا اب تک ہورہا ہے پوری ریاست کی رٹ بقول جاوید چودھری گاؤں سے آنے والے تیرہ،چودہ برس کی عمر کے چار دیہاتی لڑکے توڑ رہے ہیں،پوری ریاست کے نظام کو لاہور میں صرف چار نوجوان یرغمال بنانے کی کوشش برسر عام کرتے دکھائی دیتے ہیں تو دوسری طرف انکے لیڈر عمران خان کہتے ہیں کہ ”سیاست سے فوج کا کردار مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں، ان کی طاقت کا تعمیری استعمال ملک کو ادارہ جاتی بحران سے نکال سکتا ہے”۔ان حالات میں دیکھا جائے تو پاکستان میں افراتفری کی صورت پیدا کرنے والوں کی کچھ تو سمجھ آنی چاہئے،عوام کو چند لوگ گمراہ کرکے ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے رہیں گے تو اس کا نقصان عوام کو ہی ہوگا،عوام کے لئے یہ بات سوچنے اور سمجھنے والی ہے کہ انکے ووٹ کی طاقت سے ہی حالات بدلے جائیں گے،عوام کے نام پرگمراہ کن پروپگنڈا کر کے سیاسی فائدے حاصل کرنے والوں کو اب مات ہونی چاہئے،قوم کے وقت اور وسائل کو ضائع کرنے کی اس ہٹ دھرمی کا نام کسی طور بھی جمہوریت نہیں،جمہوریت دوسروں کو برداشت کرنے کا درس دیتی ہے۔پاکستان میں یہ بات اب عملی طور ثابت ہوچکی ہے کہ جب حکومت ڈلیور نہیں کرسکتی تو پھر انتقال اقتدار کی راہ خود بخود ہموار ہو جایا کرتی ہے جس کا آئین میں باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے،اب حالات عوام کے سامنے ہیں،تحریک انصاف نے جن نعروں اور وعدوں کے بل بوتے پر اقتدار حاصل کیا وہ ان پر کہاں تک عمل کرسکی اس پر عوامی ردعمل یہ دیکھنے میں آیا کہ 2018ء کے دوران جس عوامی مینڈیٹ کے بل بوتے پر وہ اقتدار میں آئے تھے اسی نے انہیں اقتدار سے نکال دیا ہے،اسبملی وہی ہے اور آئین بھی وہی ہے بس اقتدار کے اوجھل ہوجانے پر دل برداشتہ چیئرمین پی ٹی آئی ”اب نہ کھیل سکا تو کھیلنے بھی نہ دونگا ”کی انوکھی پالیسی اور منطق پر پاکستان کے عوام کی تکالیف میں اصافہ کرتے چلے جارہے ہیں،ایک طرف وہ اقتدار کی خاطر مقتدرہ سے ہاتھ ملانے کے لئے بھی تیار ہیں تو دوسری جانب مقتدرہ سے تصادم کا عملی مظاہرہ کررہے ہیں۔جس کے نتیجے میں اقتدار کا کھیل سیاستدانوں کی دسترس سے اوجھل ہونے کے خدشات بھی ہیں،صدر مملکت اپنا غیر جانبدارانہ کردار نبھانے کی بجائے ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ نرم گوشہ رکھنے کا مظاہرہ بھی کررہے ہیں،ملک انتہائی نازک موڑ پر ہے یہاں محب وطن سیاستدانوں کو پاکستان کے وسیع تر مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ریاست کی رٹ چیلنج کرنے۔

Short URL: https://tinyurl.com/2qqutnbl
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *