قیدیوں کے حقوق ومراعات اور اسلامی نقطہ نظر

M. Tariq Nouman Garrangi

Rights and Privileges of Prisoners

Rights and Privileges of Prisoners

Rights and Privileges of Prisoners

Rights and Privileges of Prisoners

Rights and Privileges of Prisoners Rights and Privileges of Prisoners Rights and Privileges of Prisoners Rights and Privileges of Prisoners Rights and Privileges of Prisoners Rights and Privileges of Prisoners Rights and Privileges of Prisoners

تحریر: مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

دین اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں،
بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام نے جہاں اعلی اخلاقیات کا حکم دیا ہے وہیں مجرموں اور قیدیوں کے حقوق بھی بیان کر دئیے ہیں تاکہ کسی کے ساتھ کوئی ظلم نہ ہو سکے

دین اسلام نے انسان ہونے کے اعتبار سے قیدیوں کے ساتھ بھی حتی الامکان حسنِ سلوک روا رکھنے کا درس دیا،کیونکہ قیدیوں سے انسانیت باطل نہیں ہو گی۔

وما کان مِن خواصِ الآدمِیۃِ فِی الرقِیقِ لا یبطل بل یبقی علی اصلِ الحرِیۃِ۔(فتح القدیر:198/4)

ایک انسان کو انسان ہونے کی حیثیت سے جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے، اسے بہرحال فراہم کی جائیں گی، جیسے پیٹ بھر کھانا، پیاس بجھا نے کے لیے پانی فراہم کرنا، تن ڈھانکنے کے لیے کپڑا مہیا کرنا وغیرہ۔ لہذا قیدیوں کو بھوکا، پیاسا رکھنا، یا بے لباس کرنا جائز نہیں۔

قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی حرکت

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی قریظہ کے قیدیوں کے بارے میں اپنے صحابہ کرام کو ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا:
انھیں خوش اسلوبی سے اور حسن سلوک سے قیدکرو،انہیں آرام کا موقع دو، کھلاؤ،پلا ؤاور تلوار اور اس دن کی گرمی دونوں کو یکجا مت کرو(الموسوعۃ الفقھیۃ4:198/) جن دنوں میں بنو قریظہ کے قیدیوں کو قید کیا گیا تھا، وہ گرمی کے ایام تھے، تپش زیادہ تھی؛ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ طور خاص دن کی گرمی اور دھوپ میں قیلولہ کے لیے مواقع فراہم کر نے کی تاکید فرمائی؛ کیونکہ گرمی کے ایام میں قیدیوں کی گرمی کا خیال نہ رکھنا، انھیں دھوپ میں چھوڑ دینا؛ بلکہ آرام کا موقع نہ دینا بھی غیر انسانی حرکت ہے اور قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی حرکت جائز نہیں۔معلوم ہوا کہ قیدیوں کوا لکٹرک شاٹ لگانا، قیدیوں پر کتے چھوڑنا، قیدیوں کو سخت ٹھنڈک میں بر ف کی سلوں پر ڈال دینا، حدسے زیادہ مار پیٹ کرنا،مسلسل جاگنے پر مجبور کرنا، یا ان کی جائے رہائش میں تیز روشنی یا تیز آواز کا انتظام کر نا، شرعا درست نہیں ہے۔

غیرانسانی فعل

قتل وغارت گری،چور ی،زنا کاری، شراب نوشی، ظلم وزیادتی اور اس طرح کے دیگر جرائم یقینا اسلام کی نظر میں بھی انتہائی شنیع اور قابل مذمت ہیں، ان کے مر تکبین سخت سے سخت سزا کے مستحق ہیں؛ لیکن شریعت نے اس کے بھی حد و د متعین کیے ہیں اور ان میں اہم چیز انسانیت کا احترام ہے، ہر وہ سزا جس سے آدمیت کی تو ہین ہوتی ہو جائز نہیں ہے۔اسیرانِ بدر میں ایک شخص سہیل بن عمر و تھا جو نہایت فصیح اللسان تھا اور عام مجمعوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تقریر یں کیا کرتاتھا، حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ!اس کے دونیچے کے دانت اکھڑوادیجئے کہ پھر اچھا نہ بول سکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اگر اس کے عضو بگاڑوں تو گونبی ہوں؛ لیکن خدا اس کی جزا میں میرے اعضاء بھی بگاڑ ے گا۔(تاریخ طبری صفحہ1344)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں توہین آمیز کلمات کہنا یقینا بڑا جرم ہے؛ لیکن اس کے باوجود اس کے عوض میں دانت اکھاڑنے کی رائے قبول نہیں کی گئی؛ اس لیے کہ یہ مثلہ کے دائرے میں آتا ہے، اسی طرح دانت اکھاڑنے سے ایک عضو سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاتا جو انسانی ضرورت ہے، اس سے یہ مستفاد ہو تاہے کہ قیدیوں کو اس طرح بے تحاشہ نہیں مارا جائے گا اور نہ کوئی ایسی سزا دی جائے گی جس کے سبب ان کا کوئی عضو شل اور ضائع ہو جائے یا ان کے کسی عضو کی منفعت ختم ہو جائے؛ کیوں کہ یہ غیر انسانی فعل اور رحم وکرم کے خلاف ہے۔

صحابہ کرام ؓ کا قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک

اسلام میں حقوقِ انسانی اور بنیادی آزادی کے تحفظ کا مکمل لحاظ رکھا گیا ہے، غیر انسانی یا ذلت آمیز سلوک کی قطعا گنجائش نہیں، آج کل دنیا کے مختلف ممالک میں قیدیوں کے ساتھ جو نارواسلوک کیا جاتا ہے، وہ نا مناسب؛ بلکہ ناجائز ہے، جیسے قیدیوں کو ٹارچر کرنا، تفتیش وتحقیق کے نام پر الٹا لٹکا دینا، ایسی جگہ قیدکرنا، جہاں بیٹھنے، لیٹنے اور آرام کرنے کی گنجائش نہ ہو، بے لباس کرنا وغیرہ، ابوغریب جیل میں جو سزائیں دی جاتی ہیں، کون سادل ہے جو ان سزاؤں کی کیفیت سن کر تڑ پتا نہ ہو اور ان سزاؤں کی تصویر دیکھ کر رونگٹے کھڑے نہ ہو تے ہوں، دیگر شعبہ ہائے حیات کی طرح اس شعبے میں بھی اسلا م نے عدل واحسان پر مبنی تعلیمات اور اصول پیش کیا ہے، اس سلسلے میں جنگِ بدر کے قیدیوں کے احوال پیش کیے جاسکتے ہیں، مشہور سیرت نگار علامہ شبلی نعمانی اسیرانِ بدر کے ساتھ صحابہ کرام کے سلوک کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
صحابہ کرام ؓنے ان کے ساتھ یہ برتاؤ کیا کہ ان کو کھانا کھلاتے تھے او رخود کھجور کھاکر رہ جاتے تھے، ان قیدیوں میں ابو عزیز بھی تھے جو حضرت مصعب بن عمیرؓ کے بھائی تھے، ان کا بیان ہے کہ مجھ کو جن انصاریوں نے اپنے گھر میں قید کر رکھاتھا، جب صبح یا شام کا کھانا لاتے تو روٹی میرے سامنے رکھ دیتے اور خود کھجور یں اٹھا لیتے، مجھ کو شر م آتی اور میں روٹی ان کے ہاتھ میں دیتا؛ لیکن وہ ہاتھ بھی نہ لگاتے اور مجھ ہی کو واپس دیتے اور یہ اس بنا پر تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید کی تھی کہ قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیاجائے۔(سیرۃ النبی:1 330/)

قیدیوں کو ہتھکڑیاں، بیڑیاں لگانا اور زنجیروں سے جکڑنا

ایسے لوگ جو جنت میں جائیں گے، ان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ایک وصف یہ بھی بیان کیا کہ وہ لوگ قیدیوں کو کھانا کھلاتے تھے ارشاد باری ہے ویطعِمون الطعام علی حبِہ مِسکِینا ویتِیما واسِیرا(سور الدھر، آیت8)اور کھلاتے ہیں کھانا اس کی محبت پر محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو قیدی سے مراد ظاہر ہے کہ وہ قید ی ہے جس کو اصولِ شرعیہ کے مطابق قیدمیں رکھا گیا ہو خواہ وہ کافر ہو یا مسلمان مجرم؛ چوں کہ مجر م قیدیوں کو کھانا کھلانا حکومت کی ذمہ داری ہے، اگر کوئی شخص قیدیوں کو کھلاتا ہے تو گویا اسلامی بیت المال کی اعانت کرتاہے بالخصوص ابتدائے اسلام میں جب کہ بیت المال کا کوئی منظم نظام نہیں تھا؛ اس لیے صحابہ کرام میں قیدیوں کو تقسیم کر کے ان کے کھانے پینے اور ضروریاتِ زندگی کی تکمیل کی جاتی تھی۔

تاہم قرآن واحادیث سے قیدیوں کو زنجیر وں سے جکڑ نے، ہتھکڑیاں لگانے اور پاؤں میں بیڑیاں لگانے کی اجازت معلوم ہوتی ہے کہ مجر م کی شوکت ختم ہو جائے اور اس کے شر سے لوگ محفوظ رہیں، ارشاد باری ہے، فاِذالقِیتم الذِین کفرو افضرب الرِقابِ حتی اِذا اثخنتموھم فشدو الوثاق (سورہ محمد، آیت 4)

سو جب تمہارا مقابلہ کا فروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مار چلو؛ یہاں تک کہ جب ان کی خوب خونریزی کر چکو تو خوب مضبوط باند ھ لو۔

حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوج کا ایک دستہ قبیلہ نجد کی طرف روانہ فرمایا، ان لوگوں نے یمامہ کے رئیس ثمامہ بن اثال کو گرفتار کر لیا، ان کو مدینہ لے کر آئے اور مسجدِ نبوی کے ایک ستون سے اچھی طرح باندھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی؛ بلکہ جب ان کے پاس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ہو تا تو سوال کر تے ماذا عِندک یا ثمامۃ؟

تمہارا میرے بار ے میں کیا خیال ہے؟ __ وہ جواب میں کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں میرا اچھا اور بہتر خیال ہے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قتل کریں تو ایک واجب القتل کو قتل کریں گے اور اگر
ا ٓپ چھوڑ دیں تو ایک شکر گذار شخص کو چھوڑیں گے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مال ودولت مطلوب ہے تو فرمائیے مال حاضر کردوں گا، ایمان قبول نہ کرنے کی بنیاد پر مصلحتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تین دن تک اسی طرح ستون میں بندھا ہوا رکھا اور یہی سوال وجواب ہوتا رہا، تیسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چھوڑ دینے کی ہدایت دی، وہ قید سے آزاد ہوئے، دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور ایما ن کی الفت گھر کر چکی تھی، غسل کے بعد ایمان قبول کر لیا۔(سنن ابی داؤدحدیث نمبر 2331)

اس زمانے میں باضابطہ کوئی قید خانہ نہیں تھا، قیدیوں کو اسی طرح باندھ کربے بس کیا کرتے تھے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیدیوں کو باندھنا، ہتھکڑیاں پہنانا اور پاں میں بیٹریاں ڈالنا جائز ہے

اگر قیدیوں کے بھاگنے یا ان کے بے بس نہ ہونے کا اندیشہ ہو تو ان کو تصرفات سے روکنے کے لیے قید کرنے کے ساتھ آنکھوں پر پٹی باندھی جاسکتی ہے یا تنہا کسی مکان میں قید کیا جا سکتا ہے

قیدکا اصل مقصد قیدیوں کو اپنے تصرفات اور شرارت سے روکنا ہے اور یہ چاہے جس طرح بھی حاصل ہو جائے، اس کے ساتھ معاملہ ویسا کیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے تمام قیدیوں کو ان کے ذاتی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے گا،ہر قیدی کا مزاج، قوت وطاقت اور منصوبے الگ الگ ہوتے ہیں، اگر کسی قید ی کے بارے میں اطمینان ہوکہ یہ نہیں بھاگے گا تو اسے ہتھکڑی یا بیڑی لگا نے کی ضرورت نہیں اور اگر کوئی قیدی طاقتور ہو اور اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ہو، فرار ہونے کا احتمال ہو تو اس کی آنکھوں پر پٹی بھی باندھی جاسکتی ہے، وغیرہ وغیرہ؛ غرضیکہ اصل مقصد قیدیوں کو زیر کرنا اور ان کی شوکت کو ختم کرنا ہے، اس کے لیے جیل میں ڈالنا ضروری نہیں، یہ مقصد جس طرح بھی حاصل ہو وہ قید شرعی میں داخل ہے۔

قیدیوں کو جسمانی اذیت دینا

سرکش قیدیوں کو معمولی جسمانی اذیت بھی دی جا سکتی ہے، اس کے جواز پر عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس واقعے سے روشنی پڑتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے موقع پرقریش کے حالات معلوم کر نے کے لیے بعض صحابہ کو مامور کیا، ان حضرات نے ابو سفیان کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کی غرض سے ایک غلام کو گرفتار کر لیا اور اس کی پٹا ئی بھی کر تے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، جب نماز سے فارغ ہوے تو غلام کی پٹائی پر کسی ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا؛ بلکہ فرمایا کہ غلام صحیح کہتا ہے، اس کو ابو سفیان کا علم نہیں۔(ابو داؤد حدیث نمبر 2332)
لیکن یاد رہے کہ کوئی بات اقرار کرانے یا کسی جانکاری کے حصول کے لیے صرف معمولی ضرب ہی لگا ئی جا سکتی ہے، غیر انسانی مار، جیسے ضربِ شدید، ٹارچر کرنا، کرنٹ لگانا وغیرہ کسی بھی صورت میں جائز نہیں، ایسے قیدیوں کو زیادہ سے زیادہ طویل عرصے تک کے لیے قید خانہ میں ڈالا جا سکتا ہے یا مصلحت دیکھی جا ئے اور شروفساد زیادہ ہوتو قتل کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ باغیوں کے قتل کی اجازت ہے

قیدیوں کے بنیادی حقوق

اسلام انسانی حقوق اور بنیادی آزادی کے تحفظ کا پا بند کرتا ہے اورکسی ایسے عمل کی اجازت نہیں دیتا جو حقوق انسانی اور بنیادی آزادی کو متاثر کرتا ہو، جیسے انسان کے زندہ رہنے کے لیے مناسب غذا، صاف پانی کی ضرورت ہے، قیدیوں کو اس سے محروم نہیں رکھا جائے گا، اسی طرح علاج ومعالجہ، حفظانِ صحت کے لیے ورزش وتفریح، بیوی سے جنسی تعلق وغیرہ ضروریاتِ زندگی کی تکمیل کی انہیں مکمل اجازت ہو گی کہ یہ چیزیں انسانی حقوق میں داخل ہیں مذہبی امور میں بھی ان سے کوئی تعرض نہیں کیا جا ئے گا،
جس مذہب کو وہ مانتا ہے اس کی یا اس مذہب کے پیشواؤں اور کتابوں کی توہین نہیں کی جائے گی اور نہ دوسرے مذہب کے قبول کرنے پر انہیں مجبور کیا جائے گا، مذہبی کتابوں کے مطالعہ، مذہبی تعلیمات کے مطابق غذا فراہم کرنا،دوسرے قیدیوں کے درمیان دعوتِ دین یہ سب مذہبی امور ہیں جو انسان کے بنیادی حقوق اور بنیادی آزادی میں شامل ہیں،
کسی جرم کے سبب ان کے یہ حقوق ختم نہیں ہوں گے، یہی وجہ ہے کہ عام حالات میں مشرک سے اور ذمی ومستامن سے ان کے عقائد ومذہب سے تعرض کرنے سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے؛ جب کہ شرک بہت بڑا جرم ہے، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے انسانی اوربنیادی حقوق سے کوئی تعرض نہیں فرمایا۔

بنیادی حقوق میں اخبار ات پڑھنا، ریڈیو سننا، فون پر احباب واقارب سے گفتگو کرنا، دوسرے قیدیوں سے ملاقات، تعلیم اور ہنر سیکھنا بھی داخل ہے، ان حقوق سے انہیں محروم نہیں کیا جائے گا؛ البتہ فون پر بات چیت میں اگر اندیشہ ہو کہ اس کے ذریعے وہ سازش کر سکتا ہے تو اسے روک دیا جائے گا، ورنہ عام حالات میں اس کی اجازت ہو گی۔

قیدیوں کو قید خانہ سے فرار ہونے کے خوف سے نکلنے کی اجازت تو نہ ہوگی؛ البتہ فون پر بات چیت یا رشتہ داروں سے ملاقات سے نہیں روکا جائے گا، اسی طرح حکومت کو چاہیے کہ اخلاقی امور کی طرف بہ طور خاص توجہ دے، مثلا مردوں اور عورتوں کو الگ الگ قید خانے میں رکھیں؛ تاکہ دونوں کے باہم اختلاط کے سبب مسائل پیدا نہ ہوں، اسی طرح بالغ اور نا بالغ بچوں کے قید خانے بھی الگ کیے جائیں؛
تا کہ جنسی استحصال وہراسانی کی شکایت کا موقع نہ ہو، یہ تمام امور یعنی مذہبی امور،اخلاقی امور، عام سماجی حقوق جسمانی ضروریات وغیر ہ انسانی حقوق میں شامل ہیں، جن کی فراہمی کی شریعت نے نہ صرف اجازت دی ہے؛ بلکہ مختلف نوعیتوں سے ان کی تاکید کی گئی ہے؛ چونکہ انسان کو آزادی جیسی عظیم نعمت سے محروم رکھنا ہی ایک سخت سزا ہے، قید فی نفسہ بہت سے حقوق سے بے انتہا محرومی کا نام ہے؛
اس لیے شریعت نے مخصوص حالات ہی میں قید وبند کی سزا کی اجازت دی ہے جب یہ سزا دے دی گئی تو قید یوں کے لیے یہی سزا کافی ہے، اب مزید حقوقِ انسانی یا بنیادی آزادی سے محروم رکھنے کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی یہ عمل شرعا جائز ہے۔لہذا ارباب اقتدار کو چاہیے کہ وہ جیلوں کے انتظامات کو بہتر سے بہتر بنائیں اور قیدیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم نہ رکھیں۔

Short URL: https://tinyurl.com/2ptomxvb
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *