داعی توحید وسنت مولانا قاضی عبداللہ خالد رحمۃ اللہ علیہ

M. Tariq Nouman Garrangi

تحریر: مولانا محمدطارق نعمان گڑنگی

ہمارے پیارے ملک پاکستان کواللہ پاک نے اپنے دین کی خدمت کے لیے ایسے قیمتی ہیرے سے نوزاکہ جن کی چمک صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دوسرے اسلامی ممالک تک بھی پہنچی ان کے کام پہ اپنوں نے بھی اوربیگانوں نے بھی اعتماد کیا،اللہ پاک نے پیارے پاکستان کے ہر صوبے میں ایسے انمول ہیرے پیداکیے کہ جنہوں نے اس رب کے پیارے دین کی خدمت کاحق اداکیا،پیارے ملک میں اگر نظر دوڑتی ہے توکہیں قاضی حمیداللہ جان رحمۃ اللہ علیہ کی طرح چمکتاہیرہ نظرآتاہے توکہیں غلام اللہ خان رحمۃ اللہ علیہ کی طرح،،کہیں مولاناخواجہ خان محمدرحمۃ اللہ علیہ کی طرح توکہیں مولاناحکیم محمداختررحمۃ اللہ علیہ کی طرح،کہیں مفتی نظام الدین شامزئی توکہیں مولانایوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح،کہیں مولانااسلم شیخوپوری رحمۃ اللہ علیہ کی طرح توکہیں مولاناعبدالغفورندیم رحمۃ اللہ علیہ کی طرح،کہیں مولانااسحق رحمۃ اللہ علیہ کی طرح توکہیں مولاناعبدلحکیم ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح،کہیں مولانامفتی محمودرحمۃ اللہ علیہ کی طرح توکہیں مولاناادریس کاندھلوی ؒ کی طرح،کہیں مولاناغلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح توکہیں مولانامفتی عبدالستارملتانی کی طرح،کہیں عبدالستارتونسوی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح توکہیں مولاناعبدالسلام رحمۃ اللہ علیہ کی طرح،کہیں مولاناسرفرازخان صفدررحمۃ اللہ علیہ کی طرح توکہیں صوفی عبدالحمید سواتی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح،کہیں مولاناحق نواز جھنگوی شہیدرحمۃ اللہ علیہ کی طرح توکہیں مولاناشعیب ندیم رحمۃ اللہ علیہ کی طرح، کہیں مولانا ضیاء القاسمی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح توکہیں مولاناضیاء الرحمن شہیدرحمۃ اللہ علیہ کی طرح،کہیں مولاناعلی شیرحیدری ؒ کی طرح توکہیں مولانااعظم طارق شہید ؒ کی طرح ،قلم ان ہیروں کے نام لکھتے ہوئے جواب دے دیتاہے کہ اتنے قیمتی ہیرے شمار کرنامیرے بس میں نہیں لیکن ان کاکام ہی اپنی چمک دکھارہاہے اورہر کوئی ان کی چمک سے آج فائدہ حاصل کر رہاہے،ان ہی قیمتی ہیروں میں سرزمین مانسہرہ کاایک ہیرہ مجھے چمکتاہوادکھائی دینے لگاجب میں نے اس ہیرے کانام پوچھاتومجھے میرے والد (مولاناقاضی محمداسرائیل گڑنگی) صاحب نے بتایاکہ بیٹااس ہیرے کانام مولانامحمدعبداللہ خالدرحمۃ اللہ علیہ ہے والد صاحب نے بتایاکہ اس کی چمک سے بھی لاتعداد علم دین کی طلب رکھنے والوں نے فائدہ حاصل کیاجن میں میں بھی شامل ہوں

؎یہ فخر بھی کیاکم ہے کہ بُرے ہیں کہ بھلے ہیں
دوچار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں

قارئین کرام آپ کوبھی اس قیمتی ہیرے سے ملاقات کرواتے ہیں۔۔۔۔۔۔
مولاناعبداللہ خالد صاحب رحمۃ اللہ علیہ حضرت مولاناقاضی عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ کے گھرپیداہوئے،زندگی کاانمول حصہ ابتدائی تعلیم کااپنے والد ماجد کے پاس گزارااوران سے ہی قران پاک سیکھنے کی ابتداء کی،علم دین کاشوق آپ رحمۃ اللہ علیہ کووراثت میں ملاوالد محترم کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے دینی مدارس کارخ کیا،قطب الاقطاب خواجہ خواجگان مولاناخواجہ خان محمدرحمۃ اللہ علیہ کے پیارے چمن خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف اورجامعہ اشرفیہ وقاسم العلوم ملتان سے علمی پیاس کوسیراب کیا،
والد محترم فرماتے ہیں کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ نہایت ہی متقی وپرہیز گار تھے،کیوں کہ ان حضرات کی نسبت ملی جنہیں اللہ پاک نے کمال درجے کی دنیاسے بے رغبتی اورقال اللہ وقال الرسول ﷺکافیضان جاری کرنے والامنصب عنایت فرمایاجن میں شیخ المشائخ حضرت مولاناخواجہ خان محمدرحمۃ اللہ علیہ،مفکراسلام حضرت مولانامفتی محمودرحمۃ اللہ علیہ،استاذالعلماء حضرت مولانارسول خان رحمۃ اللہ علیہ،شیخ الحدیث حضرت مولانامفتی ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ شامل ہیں۔مولاناعبداللہ خالدرحمۃ اللہ علیہ نہایت ہی نرم دل اورخوش مزاج انسان تھے،ایک نظرجو آپ ؒ کودیکھتابس آپ ہی کاہوکر رہ جاتا،آپ ؒ نے ضلع مانسہرہ میں امن کی فضاء کوہمیشہ قائم رکھا کبھی بھی ایسی بات آپ کے کام سے یاکلام سے نہیں ہوئی کے ضلع میں کوئی مسئلہ درپیش آجائے،اپنے بھی بیگانے بھی آپ کے کام سے مطمئن تھے اورہیں،آج بھی آپ کاتذکرہ جب چھڑتاہے تووہ سوہانہ منظر دیکھنے کاجی کرتاہے

؎آتی ہی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
گلشن تیری یادوں کامہکتاہی رہے گا

والدمحترم (مولاناقاضی محمداسرائیل گڑنگی)اپنی کتاب رنگ برنگی بیاض گڑنگی صفحہ 93پہ لکھتے ہیں کہ میرے نہایت ہی شفیق استاذمجاہدختم نبوت جراٗ ت وبہادری کے عظیم سپوت اسلام کے عظیم سپاہی حضرت مولاناقاضی محمدعبداللہ خالد صاحب مرحوم نے ایک عجیب واقعہ سنایاکہ دارالعلوم دیوبند میں ایک مرتبہ رات کوعشاء کی نماز کے بعدسات آدمی بیٹھے اورکچھ عجیب وغریب گفتگوشروع کر دی،درمیان میں علماء کرام کابھی ذکر آگیا ان میں ایک نے کہاکچھ علماء یوں بیان کرتے ہیں کچھ یوں کرتے ہیں وہاں دیوبند میں ایک مدرس تھے مولانامحبوب الٰہی واقعی وہ محبوب الٰہی تھے ان کے ہاتھ کی کچھ انگلیاں اندر کوتھیں اس نے ان کامذاق کرتے ہوئے ہاتھ لہراکر اشارہ کیاکہ کچھ یوں کرتے ہیں بس پھراچانک اٹھے اوررات کوگھروں کوچلے گئے رات کوساتوں آدمیوں کورحمت کائنات ﷺ خواب میں آئے اور سخت غصے میں ہیں،اورفرمارہے ہیں میرے محبوب الٰہی کی توہین کی جائے،میرے محبوب الٰہی کی توہین کی جائے۔اوردوسری طرف بانی دارالعلوم دیوبند مولانامحمدقاسم نانوتوی ؒ دامن پھیلارہے ہیں اورفرمارہے ہیں ان کومعاف کردیاجائے آپ ﷺ نے آخر میں چھ کومعاف کردیااورساتویں کے بارے میں فرمایااس کے لیے معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے صبح کی نماز میں چھ آدمی آئے انہوں نے اپنے خواب بھی سنائے اورمعافی بھی مانگی اورآنسوبرسات کی طرح برسائے،ساتواں جورات کومسجد میں مزے لے لے کر باتیں کر رہاتھامعلوم ہوکہ موت نے اسے اپنالقمہ بنالیاہے،جسم سوج گیااسی حالت میں دفنادیاگیا،علماء کی توہین کی توجان سے ہاتھ دھوگیا۔۔۔
قارئین کرام مولاناعبداللہ خالد ؒ ہمیشہ اپنے شاگردوں سے کہتے کہ مستقل مزاجی کواپناؤآپ ؒ نے تقریباً 45سال تک مرکزی جامع مسجد مانسہرہ میں امامت وخطابت کے فرائض سرانجام دئیے ،حق وصداقت کی صدابلندکرناہمیشہ فرض عین سمجھا،توحید وسنت کی فضاء سے ضلع مانسہرہ کوچارچاندلگائے،ضلع کے بڑے بڑے جاگیرداراورنواب آپ ؒ کے سامنے دوزانوں ہوکربیٹھاکرتے تھے ہمیشہ اپنے مسائل مولاناکی دہلیز پہ لاکر رکھتے جوفیصلہ آپ دیتے توسرتسلیم خم کر دیتے،مولاناؒ کی زندگی ایک بہترین کتاب کی مانند ہے جسے جتناپڑھاجائے اتناہی سکون حاصل ہوتاہے ان کی یادیں ان کی باتیں آج بھی ان کے صاحبزادگان سے سننے کوملتی ہیں اوردل گواہی دیتاہے

؎قرطاس کے نوری آنگن پہ لفظوں کی جوانی دوڑتی ہے
اُن جیسے مردِ مومن کی ہر وقت ضرورت ہوتی ہے

مولاناؒ کے صاحبزادگان کوبھی اللہ پاک نے دین کی خدمت کے لیے قبول فرمایا!حضرت مولانامفتی وقارالحق عثمان اطال اللہ عمرہ آج اپنے والد محترم کی صحیح جانشینی کاحق اداکررہے ہیں وہی انداز وہی کمال وہی جلال وہی پیاردکھائی دیتاہے جوآپ ؒ کی زندگی میں تھا۔
حافظ حسین احمدزبیرصاحب،مفتی محمودالحسن صاحب بھی اپنے اخلاق وکردار میں والد محترم کے ثانی ہیں۔
مولاناعبداللہ خالد ؒ کے فیوض وبرکات کواگردیکھناہوتولاتعدادآپ کے شاگرد آج دین کی خدمت اندرون وبیرون ملک جاری رکھتے دکھائی دیتے ہیں
عظیم لوگوں کی محنت کی پہچان ان کی اولادکودیکھ کریاان کے شاگردوں کودیکھ کے ہواکرتی ہے ماشاء اللہ دونوں میں آپ ؒ کی جھلک نظرآتی ہے مولاناؒ نے پوری زندگی دین کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی،اچانک عارضہ قلب میں مبتلاء ہوئے آپ ؒ کی بیماری میں والد محترم نے خطبہ جمعۃ المبارک اس وقت پڑھایاجب ہدایۃ النحو پڑھاکرتے تھے
مولاناؒ عارضہ قلب کی بیماری میں اللہ پاک کے حضور27 جون 1994کوپیش ہوگئے والد صاحب فرماتے ہیں کہ آپ ؒ کاتکیہ کلام یہ ہواکرتاتھاجب بیان ختم ہوتاتوکہتے وماعلیناالاالبلاغ بھیڑیں ساری منہ کالیاں۔۔۔۔
حضرت پہ لکھتے ہوئے حضرت شورش کشمیری ؒ کے یہ اشعار ذہن میں جمے رہے اوربالآخرذہن سے زبان اورزبان سے قلم پہ آگئے

؎کئی دماغوں کاایک انساں میں سوچتاہوں کہاں گیاہے
قلم کی عظمت اُجڑگئی ہے زباں کازورِبیاں گیاہے
اتر گئے کئی منزلوں کے چہرے میرکیاکارواں گیاہے
مگرتیری مرگِ ناگہاں کامجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے

اللہ پاک حضرت ؒ کی دینی وملی خدمات کوقبول ومنظورفرمائے

Short URL: https://tinyurl.com/2ntf3zsq
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *