کشمیرمیں ظلم و ستم کی انتہا

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: نائرہ عثمان غنی


مقبوضہ کشمیر تقریبا ایک کروڑ انتالیس لاکھ کی آبادی والا خطہ۔ جہاں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ کم و بیش تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے انسان بستے ہیں۔اس خطے میں ہندو،عیسائی، بدھ مت، اور مسلمان رہتے ہیں۔ سب سے بڑی آبادی تقریبا پچاسی لاکھ مسلمانوں کی ہے۔ ہم نے کشمیر میں کبھی بھی مسلمانوں کے علاوہ کسی بھی مذہب پر ظلم ہوتے ہوئے نہی سنا۔یہ ظلم و ستم صرف اور صرف مسلمانوں پر ہے۔ تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ جنگ کسی خطے کہ نہیں بلکہ مذہب کی ہے۔سری نگر میں مسلمانوں کی آبادی تقریبا بارہ لاکھ ہے اور ہندو آبادی بیالیس ہزار ہے۔ سری نگر میں مسلمانوں پر ہندوں کی ظلم و بربریت کی داستان آئے دن ہم لوگ دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں۔تہوار اور رسومات تو دور کی بات وہاں کے مسلما ن نماز پرھنے مساجد میں نہیں جا سکتے۔اور اگر ہندوں کے ظلم کے خلاف کوئی یکجا ہوکر آواز اٹھائے تو ہندوستان کو کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم کا بازار گرم کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔اتنے سالوں سے مظالم سہنے کے باوجود کشمیر کے مسلمانوں نے ہار نہیں مانی اور آج بھی وہ اپنے لئے مذہب اور آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
۱۹۴۷ میں مقبوضہ جموں کشمیر کا ایک حصہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ہونے والی پہلی جنگ کے نتیجے میں الگ ہو کر پاکستان میں شامل ہو گیا جس کو آج ہم آزاد جموں کشمیر کہتے ہیں۔ اس کی آبادی تقریبا بیالیس لاکھ ہے اور آج یہ حصہ ہمارے ملک کا ایک بہترین سیاحتی مقام ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں نے آزاد جموں کشمیر کی سیر کی ہو گی۔اس کی خوبصورت وادیاں،پرفضاء مقام، خوبصورت جھرنے، مشہور جھیلیں، روائیتی کھانے، مہمان نواز لوگ ہمیں بہت عرصے تک محصور کئے رکھتے ہیں۔ آزاد جموں کشمیر میں کسی ملکی اور غیر ملکی کا داخلہ ممنوع نہیں ہے۔ کسی غیر مذہب سے نارواں سلوک نہیں کیا جاتا ۔ ۱۹۴۷ سے لے کر آج تک کسی پاکستان مخالف تحریک نے آزاد جموں کشمیرمیں جنم نہیں لیا۔ کیونکہ آزاد جموں کشمیر کے عوام حقیقت میں آزاد اور خودمختار ہیں۔ جن کاپاکستانی مملکت کے زیرسایہ اپنا چنندہ وزیراعظم، صدر اور جمہوری اسمبلی ہے۔
کشمیرجسے جنت نظیر کہا جاتا ہے۔ اس جنت کا ایک بڑا خطہ اس کے مکین مسلمانوں کے لئے دوزخ بنا ہوا ہے۔جہاں ایک طرف آزاد جموں کشمیر کی وادیوں میں سیر کرتے ہوئے ہمیں کبھی کسی ماں کی چیخ و پکار، کسی باپ کی آہ و بقا، کسی بیٹی کی لٹتی ہوئی عصمت کی دہائیاں، کسی بیٹے کے سینے سے نکلتی آخری آہ سنائی نہیں دیتی۔
وہیں دوسری طرف مقبوضہ کشمیرکی حسین وادیاں لیکن خون میں نہائی ہوئی، وہی پرفضاء مقام لیکن گولیوں اور بارود کی بدبو سے مذین، وہی خوبصورت جھیلیں اور جھرنے لیکن بھارتی فوجیوں کے دستوں کی زد میں، وہی مہمان نواز لوگ لیکن خوف زدہ چہرے۔
سیدعلی شاہ گیلانی سے لے کر برہان مظفر وانی تک تمام لوگ اس جنت کو ہندوستان کی قید سے رہائی دلانے میں اپنے تئیں کوششیں کرتے رہے۔ اور اپنی جان و مال کی قربانی دیتے رہے۔
برہان مظفر وانی! ایک مسلمان ،ایک مجاہد،ایک نوعمرشہید جس نے ۱۵ سال کی عمر میں ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔ جس کی آواز نے آزادی کی تحریک کو ایک نئی جان دی۔ وانی نے ایک ایسا پلیٹ فارم چنا جس سے آج کے دور میں بری تیزی سے اپنے مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔برہان مظفر وانی کا مقصد آزادی کی تحریک کو نوجوانوں میں پھر سے زندہ کرنا اور اسے مزید آگے بڑھانا تھا۔ وانی کی جرات اور شہرت دشمنوں کو ڈرانے لگی تھی۔ اور ۲۱ سال کی عمر میں اس نوجوان کو شہید کر دیا گیا۔ برہان وانی شہید کی موت کے بعد کشمیر بھرک اٹھا۔ تقریبا ۳ ماہ ہو گئے ہیں، وانی شہید کی سلگائی ہوئی آگ کی چنگاریاں آج بھی بھڑک رہی ہیں۔
وانی شہید کی موت کے بعد لگنے والی آگ کی تپش نے ہمارے حکمرانوں کو بھی گرمادیا ہے۔ اور اب یکے بعد دیگرے بین لاقوامی سطح پر ہمارے وزیراعظم اور باقی رہنما بھی کشمیر پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں ۔
میری وزیراعظم پاکستان اور حکومتی نمائندوں سے پوری قوم کی طرف سے التجا ہے کہ اس آ واز کو اتنا بلند کریں کہ باقی تمام مخالف آ وازیں دب جائیں اور اس بار مقبوضہ جموں کشمیر ہمارے پاکستان کا حصہ بن جائے۔
خدا ہمارے کشمیری مسلمانوں کی مدد کرے۔ آمین

692 total views, 2 views today

Short URL: //tinyurl.com/glh8vgu
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *