نماز کے فضائل ۔۔۔۔ تحریر: حا فظ شمس الر حمن، اوریا خیل

Hafiz Shams ur Rehman
Print Friendly, PDF & Email

نماز اسلام کا وہ عظیم رکن ہے جس کی اہمیت و عظمت کے بارے میں امیر المو منین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ تأ ثر منقول ہے کہ:۔
۔’’جب نماز کا وقت آتا تو ان کے چہرہ مبارک کا رنگ متغیر ہو جاتا، لوگوں سے پوچھا کہ: امیر المؤ منین ! آپ کی یہ کیا حالت ہے؟ جواب میں فرمایا کہ : اب اس امانت کے ادا کرنے کا وقت آگیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں، پہاڑوں اور زمین پر پیش فرمایا تھااور سب اس امانت کے لینے سے ڈر گئے اور انکار کر دیا‘‘۔ (احیاء العلوم)۔
نماز کی تاکید اور اس کے فضائل سے قرآن کریم کے مبارک صفحات مالا مال ہیں، نماز کو ادا کرنے اور اس کی پا بندی کرنے کے لئے جس سختی سے حکم دیا گیا ہے وہ خود اس عبادت کی اہمیت اور فضیلت کی دلیل ہے۔ ایمان کے بعد نماز ہی اسلام کا رکن اعظم ہے۔
نماز دین کا ستون ، جنت کی کنجی، مومن کی معراج اور بندے کے لئے اللہ تعالیٰ سے بات چیت کا ذریعہ فقیہ ابو اللیث سمر قندی رحمتہ اللہ علیہ نے ’’تنبیہ الغافلین ‘‘ میں نقل کیا ہے کہ نماز اللہ تعالیٰ کی رضا کا سبب، فرشتوں کی محبوب چیز، انیباء کرام علیہم السلام کی سنت ہے، نماز سے معرفت کا نور پیدا ہوتا ہے، دعا قبول ہوتی ہے، رزق میں برکت ہوتی ہے، نماز ایمان کی بنیاد ، بدن کے لئے راحت، دشمن کے لئے ہتھار ہے ، نمازی کے لئے سفارشی ، قبر کا چراغ اور اس کی و حشت میں دل بہلانے والی ہے، منکر نکیر کے سوال کا جواب ہے، قیامت کی دھوپ میں سایہ اور اندھیرے میں روشنی ہے ، جہنم کی کنجی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے المنبہات میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ جو شخص اوقات کی پا بندی کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نو چیزوں سے اس کا اکرام فرماتے ہیں۔
۔(ا) اس کو اپنا محبوب بنا لیتے ہیں (۲)اس کو تندرستی عطا کرتے ہیں (۳) فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہیں (۴) اس کے گھر برکت عطا کرتے ہیں (۵) اس کے چہرے پر صلحا ء کا نور طاہر ہوتا ہے (۶) کا دل نرم فرما دیتے ہیں (۷) میدان حشر میں اس کو پل صراط سے بجلی کی سی تیزی سے گزار دیں گے (۸) جہنم سے نجات عطا فر مائیں گے۔ (۹) جنت میں نیک ساتھی عطا کریں گے۔
نماز اسلام کا دوسرا رکن ہے لیکن تمام عبادات کو جامع ہے ، اور تمام اعمال میں اس کو پہلی پوزیشن حا صل ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ کے دیدار کی دولت جو معراج کی رات عالم بالا میں میسر ہوئی تھی، معراج سے واپس آنے کے بعد دنیا میں یہ دولت نماز میں میسر ہوئی، اس لئے نبی کریم صلی اللہ لعیہ و سلم نے فرمایا’’ الصلوٰ ۃ معراج المؤمنین‘‘ (نماز مومن کی معراج ہے) اور بندے کو اپنے رب کے ساتھ سب سے زیادہ قرب نماز میں ہوتا ہے اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اقرب ما یکون العبد من الرب فی الصلوٰ ۃ‘‘۔
نماز ہی غمگساروں کے لذت بخش اور بیماروں کو راحت دینے والی ہے ’’ارحنی یا بلال‘‘ (اے بلال مجھے راحت دے) اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ’’قرۃ عینی فی الصلوٰۃ ‘‘ (میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے)۔
دوسری جانب حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا قیامت کے دن آدمی سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا اگر نماز درست ہوئی تو سارے اعمال درست ہو جائیں گے اور اگر نماز خراب ہوئی تو سارے اعمال خراب ہو جائیں گے ، دوسری روایت میں ہے وہ برباد ہوا اور نقصان اُٹھایا۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس نے جان بوجھ کر نماز کو چھوڑا اس کا نام جہنم کے اس دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ (مکاشفۃ القلوب)۔
حضرت نوفل بن مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’ من فاتہ صلوٰۃ فکا نما و ترا ھلہ و ما لہ ‘‘ جس کی نماز فوت ہو گئی گو یا اس کے گھر اور مال کو لوٹ لیا گیا۔
ایک حدیث میں ہے کہ بلا عذر جان بوجھ کر نماز چھوڑنے والے کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن التفات ہی نہیں کریں گے اور اس کو درد ناک عذاب دیا جائے گا۔
ایک دحدیث میں ہے کہ قیامت کے دن بے نماز ی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں گے، فرشتے منہ اور پشت پر ڈنڈے لگا رہے ہوں گے، جنت کہے گی میرا تیرا کوئی تعلق نیہں نہ میں تیرے لئے نہ تو میرے لئے ، دوزخ کہے گی کہ آجا میرے پاس میں تیرے لئے اور تو میرے لئے۔
ایک حدیث میں ہے کہ جہنم میں ایک وادی ’’جب الحزن‘‘ ہے جو بچھوؤں کا گھر کہلاتا ہے ، بچھو خچر کے برابر ہوگا اس میں بے نماز کی عذاب دیا جائے گا۔
بعض فقہانے لکھا ہے کہ جو عورت سمجھانے کے با وجود نماز نہیں پڑھتی ہے اسے طلاق دیدو اگر چہ مہر ادا کرنا مشکل ہو۔ قیامت کے دن بے نمازی کا خاوند بن کر پیش ہونے سے قرض کا بوجھ لے کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا بہتر ہے۔
ابن جوزی نے لکھا ہے کہ قیامت کے دن بے نمازی کی پیشانی پر تین سطریں لکھی جائیں گی: ۔
۔* اے الہ کے حق ضا ئع کرنے ولے
۔* اے اللہ کے غضب اور ناراضگی کے مستحق
۔* جس طرح تو نے اللہ کا حق ضا ئع کیا اس طرح آج اس کی رحمت سے مایوس ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ قیامت کے دن حکومت کی وجہ سے نماز میں سستی کرنے والوں کے سامنے حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام کو پیش کیا جائے گا، بیماری کی وجہ سے نماز چھوڑنے والوں کے سامنے حضرت ایوب علیہ السلام کو پیش کیا جائے گا، اولاد کی وجہ سے نماز چھوڑنے والوں کے سامنے حضرت یعقوب علیہ السلام کو پیش کیا جائے گا، اور نوکری کے خوف سے سستی کرنے والوں کے سامنے بیبی آسیہ کو پیش کیا جائے گا۔
ایک بزرگ کی شیطان سے راہ چلتے ملاقات ہوگئی ، بزرگ نے پو چھا کہ ایسا کام بتا دو کہ میں تمہارا بن جاؤں اس نے کہا نماز پڑھنے میں سستی کرو اور جھوٹی سچی قسمیں کھایا کرو، اس بزرگ نے قسم کھا کر کہا کہ میں یہ کام کبھی نہیں کروں گا، شیطان یہ سن کر سٹپٹا گیا اور کہنے لگا کہ میں بھی وعدہ کرتا ہوں کہ آدم کی اولاد کو سچی بات نہیں کہوں گا۔
ایک روایت میں ہے کہ فرشتے فجر کی نماز ترک کرنے والوں کو کہتے ہیں اے فاجر! ظہر کی نماز ترک کرنے والوں سے کہتے ہیں، اے نقصان اُٹھانے والے خا سر نا بکار! عصر کی نماز ترک کرنے والوں کو کہتے ہیں، اے نا فرمان گنہگار! مغرب کی نماز ترک کرنے والوں کو کہتے ہیں اے کا فر نا شکر گزار ! عشاء کی نماز ترک کرنے والوں سے کہتے ہیں اے ضا ئع اور برباد کرنے والے زیاں کا ر ! اللہ تجھے برباد کرے۔
اس لئے ہر مسلمان مرد اور عورت پر ضروری ہے کہ کسی قسم کی سستی کے بغیر نماز کو اپنے اپنے وقت پر ادا کریں، خواتین اپنے گھر میں ادا کریں، اس میں ان کے لئے مسجد میں جاکر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے بھی زیادہ ثواب ہے اور مرد حضرات مسجد میں تکبیر ا ولی کے ساتھ جماعت سے ادا کریں، تاکہ دنیا اور آخرت دونوں جہاں میں کامیابی ہو، اور قبر میں بھی آسانی ہو، اور جنت بھی نصیب ، اور ہر جگہ خوشی ہی خوشی ہو۔

Short URL: http://tinyurl.com/gusevsa
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *