ماضی کو جانے دو،مستقبل کو آنے دو۔۔۔۔ تحریر: حافظ شمس الرحمن، اوریاخیل

Hafiz Shams ur Rehman
Print Friendly, PDF & Email

ماضی  میں جینا،اسکے غموں اور الیمیوں کو یاد کرتے رہنا اور ان پر رنج کرنا بے وقوفی اور حماقت ہے۔حکماء کھتے ہیں کہ ماضی کی فائل لپیٹ کر رکھ دی جائے اسے کھولا نہ جانا چاہیے بلکہ ہمیشہ کے لیے بھلا دینا چاہیے اسے کسی ڈبہ میں ڈال کر بند کردیا جائے۔کیونکہ جو گزر گیا وہ گزر چکانہ اس کی یاد اسے لوٹائے گی نہ کوئی غم یا رنج و فکر اسے زندہ کرسکتی ہے کیونکہ ماضی کا مطلب ہے ’’عدم‘‘ ماضی پرستی کے مرض میں مبتلا مت رہیے،کیونکہ آپ دریا کو اصل کی طرف،سورج کو مطلع کی طرف ،بچہ کو ماں کے پیٹ میں،دودھ کو چھاتی میں اور آنسو کو آنکھ میں واپس نہیں لا سکتے۔
ماضی کے سایہ میں ر ہنا،اسے یاد کرتے رہنا ،اس کی اگ میں جلنا،ایک افسوس ناک،المناک اور مرعوب کن بات ہے۔ ماضی کی کتاب پڑھنے سے حاضر کی بربادی اور وقت کا ضیاع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں گزشتہ اقوام کا او ر ان کے کاموں کا تذکرہ کیا ہے اور کہا کہ ’’وہ ایک قوم تھی جو گزر چکی‘‘ یعنی ان قوموں کا معاملہ ختم ہوا۔
ماضی کی بات کو دہرانے والا تو ایسا ہے کہ کوئی پسے ہوئے آٹے کو پھر پیسے یا کٹی ہوئی لکڑی کو پھر سے کاٹے، ماضی کا رونا رونے والوں کے بارے میں پچھلیوں کا کہنا ہے کہ’’تم مرُدوں کو قبروں سے نہ نکالو‘‘ ۔
ھماری مشکل یہ ہے کہ ہم حال سے عاجر اور ماضی سے چمٹے ہوئے ہیں اپنے خوبصورت محلات کو یونہی چھوڑ کر ماضی کے بوسیدہ قلعوں کو روتے رہتے ہیں حالانکہ ماضی کو واپس لانے پرتو جنس وانس جمع ہوکر بھی قادر نہیں ہوسکتے ۔ لوگ پیچھے کی طرف نہیں دیکھتے ،ہوا آگے کو چلتی ہے،پانی آگے کو بہتا ہے ،کار رواں آگے چلتا ہے یہ سنت حیات ہے آ پ اس کی مخالفت نہ کریں۔
آج پر نظر رکھیں صبح ہوجائے تو شام کا انتظار نہ کریں۔بس آج اور ابھی پر نظر رکھیں نہ کل پر جو اچھا برا گزرچکا ہے اور نہ آئندہ پر جو ابھی آیا ہی نہیں۔آپ کی عمر تو بس ایک دن ہے اسی دن کا سورج آپ کو ملا ہے ۔اس لیے دل میں سوچیے کہ بس آج ہی تو جینا ہے گویاآج ہی آپ پیدا ہو ئے ۔آج ہی مر جائیں گے ۔اس صورت میں آپ کی زندگی ماضی کے سایوں اور تفکرات اور مستقبل کی اُمیدوں اور توقعات کے بیچ لٹکی نہ رہے گی۔آپ اپنی پوری توجہ ساری صلاحیت و ذھانت صرف آج پر لگا دیں ۔آج کی آپ کی نماز خشوع والی ہو،۔تلاوت کریں تو تدبر کے ساتھ کریں۔ذکر کریں تو جی لگا کر ،معاملات توازن کے ساتھ نپٹائیں۔اپنے اس دن کے اوقات کوتقسیم کرلیں اس کی منٹوں کو سال سمجھیں اس کی سکنڈوں کو مہینوں کے مانند خیال کریں۔خیر کے بیج بوئیں ،احسان کریں ،گناہوں سے توبہ کریں،خدا کو یادکریں،اس طور پر آپ کا دن فرحاں وشاداں گذرے گا۔
مستقبل کے بارے میں اندازے نہ لگائیں،جیسا کہ اللہ قران مجید میں فرماتے ہیں ’’اللہ کا حکم ہو کر رہے گااسکی جلدی نہ مچاؤ‘‘ ۔۔۔۔۔۔مستقبل کو آنے دیجیے اسلیئے کہ وضع حمل اپنے وقت پر ہی ہوگا جلدی کیوں چاہتے ہیں،پھل کو پکنے سے پہلے کیوں توڑنا چاہتے ہیں؟؟ ’’کل‘‘ ایک مفقود شئی ہے جس کا ابھی نہ وجود ہے نو کوئی رنگ اور نہ کوئی مزا تو ھم سب کے مصائب،آرزوؤں و توقوعات،امکانی حوادثات و واقعات کے بارے میں سوچ سوچ کر اپنے کو ہلکان کیوں کریں جب کہ ابھی ہمیں معلوم ہی نہیں کہ وہ آئے گا بھی یا نہیں اور خوش کن ہوگا یا نہیں؟اہم یہ ہے کہ وہ ابھی عالم غیب میں ہے عالم وجود میں نہیں ایا تو ہم پہلے ہی اس کو پانے کو کوشش کیوں کریں جب کہ ممکن ہے کہ ہم اس تک پہنچیں یا نہ پہنچیں۔
مستقبل کے بارے میں ذھنی لڑائی لڑنا غیب کی کتاب کھول کر اس میں متوقع پریشانیوں پر کراہنا شرعاًاسلیئے ناپسندیدہ ہے کہ وہ خواہشات کا لا متناہی سلسلہ ہے اور عقلاً اس لیئے مذموم ہے کہ وہ سایہ سے کشتی لڑنا ہے ،بہت سے لوگ دنیا کے مستقبل کو تاریک،بھوک،پیاس،بیماریوں اور مصیبتوں سے بھرا سمجھتے ہیں یہ سبْ شیطانی وسوسے ہیں،اسلیئے جب عمر دوسرے کے اختیار میں ہے تو پھر وہ غیر موجود چیز کے بارے میں مضطرب کیوں رہے ؟۔۔۔۔۔لہذا ماضی کو جانے دیں،مستقبل کو آنے دیں،آج پر نظر رکھیں اور لمبی امیدوں سے دور رہیں۔

Short URL: http://tinyurl.com/gr6r25a
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *