پاک افغان تعلقات اور افغان مہاجرین۔۔۔۔۔ تحریر : حافظ شمس الرحمن اوریاخیل

Hafiz Shams ur Rehman
Print Friendly, PDF & Email

یہ ایک عجیب رشتہ ہے افغانیوں کی سرزمین پر جنم لینے والے محمود غزنوی،شھاب الدین محمد غوری،احمد شاہ ابدالی کو پاکستان کی ایک بڑی اکثریت اپنا ہیرو سمجھتی ہے۔یہاں تک کہ پاکستان نے اپنے ایٹمی میزائل بھی انھی مجاھدین کے اسماء سے موسوم کر رکھی ہیں۔
پاکستان میں آباد زیادہ تر افغانی روس قبضے کے دوران ہجرت کرکے آئے تھے جب روس کو افغانیوں نے مقدس جہاد کے زریعے شکست سے دو چار کیااور اسکی فوجیں واپس چلی گئی تو کچھ افغان مہاجرین واپس چلے گئے لیکن ان مہاجرین کے ایک بڑے حصہ نے یہ سوچ کر پاکستان میں ٹھرنا پسند کیاکہ یہ بھی ہمارے مسلمان بھائی ہیں اور یہ پاکستان ہمارے ہجرت کا گھر ہے اور دونوں ممالک کا ملتا جلتا کلچر بھی اسی احساس دلانے کاایک بڑاسبب تھا۔پاکستانیوں کے ایک کثیر تعداد نے ان افغان مہاجرین کو اپنا اسلامی بھائی تصور کیااور ان کے ساتھ بھر پھور محبت کا اظھار کیا۔
لیکن تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیئے کہ آج کچھ پاکستانی جو مسلمان ہونے سے پہلے قوم پرستی کی مرض میں مبتلاء ہے وہ افغانیوں کو صرف افغانی ہی نہیں بلکہ نمک حرام تصور کرکے اپنے مجروح انا کوتسکین پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ایسے قوم پرست لوگوں کی تعداد اگر چہ پہلے اٹے میں نمک کی برابر تھی لیکن اب آہستہ آہستہ ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتاجارہاہے،افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ایسے لوگوں میں اہل علم حضرات بھی شامل ہیں۔
افغانیوں کو احسان فراموش قرار دینا دراصل اپنے آپ کو برا بھلاکہنے کے مترادف ہے اسلیئے کہ افغانستان نے ایسے صوفیاء (حضرت قطب الدین بختیار کاکیؒ ،حضرت بابا فرید گنج شکرؒ ،حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ اور حضرت علی ہجویریؒ جو حضرت داتا گنج بخش کے نام سے مشہور ہے)بھی پیدا کئے جنہوں نے برصغیر میں اسلام کی روشنی پھیلائی اور افغانستان سے آکرہمارے اجداد کو مسلمان کرتے رہے۔
پاکستان اور افغانستان کے رشتے میں محبت اور نفرت آج سے نہیں سال ہا سال سے چل رہی ہے دونوں ممالک کے عوام میں محبت کا رشتہ بہت گہرا ہے لیکن حکمران اشرافیہ کی غلط فہمیاں،تضادات اور کمزور خارجی پالیسیاں ایسی نفرتوں کو جنم دے ڈالتی ہے ۔ان دونوں بھائیوں کو لڑانے میں اگرچہ ماسکو سے لیکر دہلی اور لندن سے لیکر واشنگٹن تک بہت سے غیروں نے بہت کچھ کیا لیکن اپنوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔َ
ان حکمرانوں کی غلط پالیسیوں خصوصا افغانستان کی کمزور خارجہ پالیسی کی وجہ سے آج افغان مہاجرین پاکستان میں شدید احساس کمتری کا شکار ہیں کوئی ان کے ساتھ معاملات اور کاروبار کرنے کے لیے تیار نہیں،یہ لوگ اپنے کلچر اور تہذیب پر آزادانہ طور پر عمل نہیں کرسکتے ،تعلیمی اداروں سمیت ہسپتالوں میں بھی نفرت و تعصب کی وجہ سے ان کو حقارت کی نظر سے دیکھا جارہا ہیں، دوسری جانب پولیس بھی ریجسٹریشن و
citizen card
کے نام پرافغان مہاجرین کو بے جا تنگ کرکے ان سے پیسے وصول کر رہے ہیں۔
افغان حکومت کے ساتھ شکوہ ضرور ہونا چاہئے لیکن پوری افغان قوم کی تحقیر کرنے والے اپنے قومی شاعر علامہ اقبالؒ کی کتاب ’’جاوید نامہ‘‘میں موجود ان اشعار پر ضرور غور کرلے جس میں اس نے کھا ہے کہ ملت افغان دل کے مانند ہے اس دل میں فساد سے پورے ایشاء میں فساد ہوسکتاہے اور اس دل میں سکون سے پورے ایشیاء میں سکون ہوگااگر دل آزاد ہے تو بدن بھی آزاد ہے ۔
میں اخر میں پاکستانی حکومت اور عوام سے بطور ایک کالم نگار اپیل کرتا ہوکہ افغان مہاجرین کو سھولیات دی جائے اور ان کے ساتھ انصار والا معاملا کیا جائے اسلیئے کہ پاکستان ایک بڑا ملک ہے پاکستان کو زیادہ حکمت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور افغانستان سے لڑے بغیرمعاملات کو بہتر بنانا چاہیے خصوصا پاک افغان سرحد پر قوانین کو نرم کرنا چاہیے تاکہ دونوں ممالک میں محبت کا یہ رشتہ قائم ہو۔

Short URL: http://tinyurl.com/j2quxlh
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *