ممتازقادری کی شہادت اورپاکستانی مسلمانوں کاطرزعمل۔۔۔۔ تحریر: ایم پی خان

ممتازقادری کی پھانسی کی خبریں ایک لمبے عرصے گردش میں تھیں، لیکن کسی کویقین نہیں آرہاتھاکہ اس عظیم انسان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پھانسی کی سزادی جائے گی ، جو حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جذبہ سے سرشاراورسراپاسنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں رنگاہواہے۔جن کی آنکھوں میں نوراورچہرے پر سرورکی کیفیت اللہ کی ذات پر کامل یقین کی عکاسی کرتی تھی۔ کسی کوکیاپتہ، انکی زندگی زیادہ قیمتی ہے یاانکی شہادت ، لیکن مسلمانوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے انکی قدرومنزلت رکھی ہوئی تھی۔انہیں زندگی میں وہ عزت ملی ، جوبڑے بڑے بادشاہوں کوشازونادر نصیب ہوتی ہے اورانکی شہادت کی قیمت کااندازہ لگاناہماری سوچ سے باہرہے۔آج صبح جب مجھے یہ خبرملی ، تومجھے اپنیسماعت پر یقین نہیں آرہاتھا۔ میں نے تصدیق کی کوشش کی ۔ سوشل میڈیاپرکافی دوستوں کے دل گدازتبصرے سنے ۔ پھرمیں نے اپنے کچھ دوستوں سے فون پر رابطہ کیاکہ شاید میری سماعت ، میری بصارت کی تردیدکردے ،لیکن یہاں سے بھی مجھے وہی خبرملی ، جواہل ایمان پر بجلی گرنے کے مترادف ہے۔میرے دل کی دنیامیں جیسے قیامت برپاہوگئی اورمیرے کمزورمشاہدے کو یقین تھاکہ وہ بہت جلد باہر کی دنیامیں بھی وہی منظردیکھ لے گااورجب اپنے مشاہدے کی اس ارماں کو پوراکرنے میں باہرنکلا، تومنظرہی کچھ اورتھا۔ نہ کسی چہرے پر اداسی تھی اور نہ رونااورماتم،بس حسب معمول چند نمازی ، مسجدمیں نمازپڑھ کر اپنے تئیں شاخ زعفران سمجھنے لگے تھے اورباقی لوگ رنگ وبوکی دنیامیں ڈوبے ہوئے تھے۔ کوئی اس عظیم سانحہ پر بولنے والا بھی نہ تھابلکہ کسی کو خبرتک نہ تھی کہ ایک عظیم انسان اورسچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کواسلامی جمہوریہ پاکستان میں پھانسی دی گئی ہے۔میں اپنے دفترآیا۔ جہاں صبح صبح مختلف عہدوں پر فائز ، مختلف اندازفکرکے نوجوانوں سے لیکر سفید باریش افراد تک کرکٹ کے میج پر ماہرانہ تجزیے کررہے تھے۔ کسی کی زبان پر ایک لفظ بھی ایسانہ تھا، جس سے ممتازقادری کی پھانسی پر افسوس کااظہارہو۔ میں نے ایک پڑھے لکھے اورحالات پر عمیق نظررکھنے والے دوست کے ساتھ اس خبرکو شیئرکرنے کی کوشش کی ، تومیری حیرت کی انتہانہیں رہی کہ موصوف ممتازقادری کو جانتے تک نہ تھے اورفوراً بولے “کون ، وہ طاہرالقادری” ۔اس قدربے حسی اوراس قدرغفلت ، وہ بھی ہمارے پڑھے لکھے اورمذہب کے دعویداروں کے ہاں۔ایک طرف ہم سیکولرزم اورلبرلزم کے خلاف بڑے بڑے دعوے کررہے ہیں، معمولی معمولی باتوں کو اختلاف رائے کاسبب بناکر ، اس پر لمبی لمبی بحث کرتے ہیں۔ ہمارا اسلامی جذبہ ، مذہبی سوچ اورعشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم صرف فیس بک کی حد تک محدودہے۔ہم اسلام کو صرف اورصرف اپنے مزاج اوراپنی خواہشات تک محدودکرناچاہتے ہیں۔ اسلام کے صرف وہی اصول ، جس کے تحت ہماری زندگی چین ، سکون اورمسرت سے گزرتی ہے، ہمیں منظورہیں اورباقی ،جونفس کو ناگوارگزرتی ہیں، اسکواداکرنے میں اوراس پر بحث کرنے میں ہم تامل کے شکارہیں۔ ہماری بے حسی کی انتہاہے کہ ، آج دنیاکے عظیم انسان اورسچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پھانسی دی گئی اورہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی بلکہ ہمیں خبرتک نہ ہوئی ۔ کرکٹ کے میدان میں ہندوستان سے شکست کھاکر ، ہمارے گھروں میں ساری رات ہندوستانی فلمیں دیکھنے والے چھوٹے، بڑے، مرد، عورت ، بچے اوربوڑھے بھی ، میچ کے ایک ایک لمحے کی کارروائی سے باخبررہتے ہیں ، لیکن عالم اسلام کے عظیم فرزند نے ، حب رسول کی جذبے سے سرشارہوکر ، جام شہادت نوش کیاتوکسی کوخبرتک نہ ہوئی۔بحیثیت امت مسلمہ، یہ ہمارے لئے بہت بڑی ناکامی اوربہت بڑاالمیہ ہے۔اگرقیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہم سے اس بارے میں سوال کرے کہ ، ہمیں ایمان کی دولت دی گئی تھی ،ہماری پیدائش فطرت اسلام پر ہوئی تھی ۔ ہمیں اسلامی جمہوریہ پاکستان جیسی نعمت عظمیٰ سے نوازاگیاتھا۔ہمیں بولنے کی اجازت دی گئی تھی اورہمیں ختم نبوت کے صدقے نبی کریم صلی اللی علیہ وسلم کے نائب ہونے کامنصب دیاگیاتھا، توہم نے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قربانی دینے والے ممتازقادری کے لئے کیاکیا؟ ۔۔۔تواس دن شاید ہماری زبانیں گنگ ہوں ، کہ ہمیں توخبرتک نہ تھی۔ میں ممتازقادری کے اس جذبے کو سلام پیش کرتاہوں اورانکی ہمت ، حوصلے اوربہادری کو قدرکی نگاہ سے دیکھتاہوں۔جس طرح دنیامیں ان پر پھول برسائے گئے۔ انکاچہرہ ہمیشہ پرنوراورروشن رہا۔ ہرانسان کے دل میں انکی قدرومنزلت تھی اوراسکی مختصرزندگی کو اللہ نے کس قدرشاندار بنایا، اسکااندازہ ، ان لوگوں کو ہوسکتاہے، جن کے اندر اللہ اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قربانی دینے کاجذبہ ہو۔ بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ انہیں موت کے بعد بھی وہی مقام دے گا،جس کے بارے میں اس دور کے عام مسلمان سوچ بھی نہیں سکتے۔اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ غازی ممتازقادری شہید کوجنت الفردوس میں اعلیٰ درجات نصیب فرمائے اورتمام محبان ممتازقادری کو صبرجمیل عطافرمائے۔















Leave a Reply