گالی! ایک سنگین جرم اور خطرنا ک گناہ

M. Tariq Nouman Garrangi

تحریر: مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

دینِ اسلام نے گالی کو سنگین جرم اورگناہ کبیرہ قرار دیا ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں گالم گلوچ کو بطور ہتھیاراور آخری حربہ استعمال کیا جاتا ہے جو تعلیمات دین اسلام اور تعلیمات محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے سراسر منافی ہے۔ آپ کے کسی سے لاکھ علمی اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن ان کا علمی انداز میں محاسبہ کرنا ہی شعائر علما دین حق اور تعلیمات اسلام ہے۔
گالی کی تعریف:زبان کا بے ہودہ،غلط اور ناجائز استعمال خواہ کسی بھی شکل میں ہوگالی کہلاتاہے۔لغت کے مطابق گالی بدزبانی اور فحش گوئی کا نام ہے۔
الغرض اسلام تحمل و برداشت اور رواداری کا وہ نمونہ فراہم کرتا ہے جو دنیا کا کوئی معاشرہ فراہم نہیں کر سکتا۔گالم گلوچ کرنے والا انسان ہمیشہ ناکام و نامراد ہوتا ہے۔زبان کو قابومیں رکھنا مسلمان کی شان ہے جبکہ گالیاں دینا منافقین کی پہچان ہے۔گالی کا وبال اسی شخص پر ہوتا ہے جو اس میں پہل کرتا ہے چنانچہ مسلم شریف کی روایت ہے
وعن انس رضِی اللہ تعالی عنہ ان رسول اللہِ صلی اللہ علیہِ وسلم قال المستبانِ ما قالا فعلی البادِی مالم یعتدِ المظلوم۔(رواہ مسلم)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو دو آدمی آپس میں ایک دوسرے کو گالیاں دیں سب کا وبال اسی پر ہوگا جس نے گالی دینے میں پہل کی ہے، جب تک کہ مظلوم زیادتی نہ کرے۔
زبان کے گناہوں میں گالی دینا بھی ہے، یہ بھی ایک ایسی بری چیز ہے جو کسی طرح سے بھی مومن کے شایان شان نہیں ہے ایک حدیث میں ارشاد ہے:
سباب المسلم فسوق وقِتالہ کفر۔(بخاری ومسلم)یعنی مسلمان کو گالی دینا بڑی گنہگاری کی بات ہے اور اس سے جنگ کرنا کفر کی چیز ہے۔
بہت سے مردوں اور عورتوں کو گالی دینے کی عادت ہوتی ہے اور بعضے تو اس کو بڑا کمال سمجھتے ہیں حالانکہ یہ جہالت اور جاہلیت کی بات ہے،اور اس میں سخت گناہ بھی ہے اور اس کی وجہ سے آپس میں تعلقات بھی خراب ہوتے ہیں اور گالی گلوچ کرتے کرتے مردوں تک پہنچ جاتے ہیں، ایک نے کسی کو گالی دی،دوسرے نے اس کے باپ کو گالی دی، پھر پہلے والے نے جواب میں دوسرے والے کے باپ کے ساتھ داد ا کو بھی لپیٹ میں لیا، اس طرح سے اپنے ماں باپ کو گالیاں دلوانے کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں۔
اپنے ماں باپ کو گالی دینا
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ بڑے بڑے گناہوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی دے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں!کوئی کسی آدمی کے باپ کو گالی دے گا تو وہ الٹ کر اس کے باپ کو گالی دے دیگا اور کسی کی ماں کو گالی دے گا تو وہ الٹ کر اس کی ماں کو گالی دے دے گا۔ (بحاری ومسلم)
یعنی خود گالی نہ دی دوسرے سے گالی دلوادی، اور اس کا سبب بن گیا تو وہ ایسا ہی ہوا جیسے خود گالی دے دی، او ریہ بھی اس زمانہ کی بات ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ کو کیسے گالی دے گا؟ آج کل تو بہت سے ایسے لوگ پیدا ہوگئے ہیں جو ماں باپ کو بالکل سیدھی صاف ستھری گالی دے دیتے ہیں، گالی یوں بھی کبیرہ گناہ ہے لیکن ماں باپ کو گالی دینا اور بھی شدید ہے، اللہ تعالی جہالت سے بچائے۔
اگر کوئی شخص کسی کو گالی دیدے تو اچھی بات یہ ہے کہ جس کو گالی دی ہے وہ خاموش ہو جائے او رصبر کرے اور گالی دینے کا وبال اسی پر رہنے دے۔ لیکن اگر صبر نہ کرے اور جواب دینا چاہے تو صرف اسی قدر جواب دے سکتا ہے جتنا دوسرے نے کہا ہے، اگر آگے بڑھ گیا تویہ ظالم ہوجائے گا حالانکہ اس سے پہلے مظلوم تھا اسی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب دو آدمی گالم گلوچ کررہے ہوں تو سب کا گناہ پہل کرنے والے پر ہوگا اور اگر مظلوم نے زیادتی کردی(جسے اولا گالی دی تھی)تو پھر دونوں گناہوں میں شریک ہوگئے۔
سیدنا ابو موسی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیایا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم)مسلمانوں میں سے کون افضل ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔(بخاری ومسلم)
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ میں نے ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے(ان کی دوسری بیوی سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالی عنہاکی بابت)عرض کیا: آپ کے لئے صفیہ کا ایسا ایسا ہونا کافی ہے۔ بعض راویوں نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی مراد یہ تھی کہ وہ پستہ قد ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے(سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسے)فرمایالقد قلت کلمۃ لومج بھا البحر لمزجتہ تو نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر اسے سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے تو وہ اس کا ذائقہ بھی بدل ڈالے۔(سنن ابی داؤد)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ا ن دما کم واموالکم و اعراضکم بینکم حرام(بخاری)
ایک مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان کا خون، مال اور اس کی عزت آبرو قابل احترام ہیں۔
ہرگرکسی کوگالی مت دینا
حضرت جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منور میں آیا وہاں میں نے دیکھا کہ ایک بڑی شخصیت ہے کہ سب لوگ ان کی رائے پر عمل کرتے ہیں، جو بھی کچھ فرمایا جھٹ لوگوں نے عمل کرلیا، میں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: علیک السلام یا رسول اللہ دو مرتبہ ایسا ہی کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علیک السلام مت کہو۔ کیونکہ علیک السلام (زمانہ جاہلیت میں)میت کے لئے کہا جاتا تھا، تم السلام علیک کہو۔ میں نے کہاآپ اللہ کے رسول ہیں؟ فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں، وہ اللہ ایسا صاحب قدرت ہے کہ اگر تم کو کوئی تکلیف پہنچ جائے پھر تم اس سے دعا کرو تو تمہاری تکلیف رفع کردے اور اگر تم کو قحط سالی پہنچ جائے اور تم اس سے دعا مانگو تو وہ تمہارے لئے(ضرورت کی چیزیں زمین سے) اگا دے اور جب تم کسی چٹیل زمین میں ہو، جہاں گھاس، پانی اور آبادی نہ ہو اور ایسے موقع پر تمہاری سواری گم ہوجائے، پھر تم اس سے دعا کرو تو تمہاری سواری تمہارے پاس واپس لوٹا دے، میں نے عرض کیا مجھے کچھ نصیحت فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر گز کسی کو گالی مت دینا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کے بعد کبھی میں نے کسی آزاد کو یا غلام کو یا اونٹ کو یا بکری کو گالی نہیں دی۔ (پھر تین نصیحتوں کے بعد فرمایا کہ)اگر کوئی شخص تم کو گالی دے اور تم کو اس چیز کا عیب لگائے جو تمہارے اندر ہے تو تم اسے اس چیز کا عیب نہ لگاؤ جو عیب اس کا تم اس کے اندر جانتے ہو۔(مشکوۃ المصابیح)
قارئین کرام!اس حدیث میں کیسی سخت تنبیہ فرمائی کہ ہر گز کسی کو گالی نہ دینا، جن صحابی کو نصیحت کی تھی انہوں نے ایسی سختی کے ساتھ اس کو پلہ باندھا اور ایسی مضبوطی کے ساتھ اس پر عمل کیا کہ کبھی کسی انسان کو یا حیوان کو گالی نہیں دی، اونٹ، بکری، گدھا، گھوڑا کبھی کسی کو گالی کا نشانہ نہیں بنایا۔
تعلیمات اسلامیہ کا مطالعہ کریں تو یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ اسلام میں تو ایک غیر مسلم کو گالی دینابھی جائز نہیں
قرآن مجید میں ارشاد ہے:ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدوا بغیر علم
اور دشنام مت دو ان کو جن کی یہ لو گ خدا کو چھوڑکر عبادت کرتے ہیں کیونکہ پھر وہ براہِ جہل حد سے گزر کر اللہ کی شان میں گستاخی کریں گے۔
ذرا غورفرمایئے کہ جب اسلام غیر مسلم کو گالی دینے کی اجازت نہیں دیتا تو ایک مسلمان کو گالی دینا کتنا بڑا گناہ ہوگا لہذا ہمیں تعلیمات محمدی پر عمل کرتے ہوئے محبت،اخوت،بھائی چارے کا درس دینا چاہیئے اور علمی گفتگو کا جواب علمی اندازمیں دینا چاہیئے اوردشنام طرازی سے بچنا چاہیئے
اسی طرح مسلمانوں کو آپس میں کسی کے خاندان کے بڑوں کو (خاندان نسبی ہو یا دینی ہو یا علمی ہو)گالی دینے یا برا کہنے سے پرہیزکرنا لازم ہے، کیونکہ ایک فریق دوسرے فریق کے بڑوں کو برا کہے گا تو دوسرا فریق بھی جواب میں برا کہے گا اور گالی دے گا، اگر کوئی شخص کسی کے باپ کو گالی دے تو جواب میں دوسرا شخص گالی دینے والے کے باپ دادا اور پردادا کو گالی دے گا۔ اس میں بسا اوقات ان لوگوں کو گالی دینے کی نوبت آجاتی ہے جو دنیاسے گزر گئے ہیں، مردہ لوگوں کو برا کہنے کی ممانعت خصوصیت کے ساتھ وارد ہوئی ہے۔
چنانچہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جو لوگ مرگئے ان کو گالی نہ دو، یعنی برائی کے ساتھ یاد نہ کرو، کیونکہ وہ ان اعمال کی طرف پہنچ گئے جو انہوں نے پہلے سے آگے بھیجے۔ (بخاری)
ایک اور حدیث میں ارشاد ہے کہ مردوں کو گالی نہ دو۔ جس کی وجہ سے تم زندوں کو ایذا دو گے۔(ترمذی)
یعنی جب مردوں کو گالی دو گے تو ان کے متعلقین جو زندہ ہیں ان کو تکلیف پہنچے گی اور اس سے دوہرا گناہ ہوگا،ایک اموات کو گالی دینے کا دوسرا ان کے متعلقین کا دل دکھانے کا۔
ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا کہ اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کیا کرو اور ان کی برائیوں سے (زبان کو)روکے رکھو۔ (ابوداؤد، ترمذی)
اسلام پاکیزہ دین ہے اس میں جانوروں کو گالی دینے تک کی بھی ممانعت کی گئی، ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ مرغ کو گالی نہ دو کیونکہ وہ نماز کے لئے جگاتا ہے۔(ابوداؤد)
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں ایک شخص کو چیچڑی نے کاٹ لیا(یہ جوں سے ذرا بڑا جانور ہوتا ہے جو اونٹ وغیرہ کے جسم میں ہوتا ہے)اس شخص نے چیچڑی کو گالی دے دی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو گالی نہ دے، کیونکہ اس نے اللہ کے نبیوں میں سے ایک نبی کو نماز کیلئے جگایا تھا۔(جمع الفوائد)
یاد رکھیے کہ لفظ”سب“کا ترجمہ جگہ جگہ گالی دینے سے کیا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فحش بازاری گالی دی جائے، بلکہ کسی کو کسی بھی برے لفظ سے یاد کرنا بھی گالی میں شامل ہے، خوب سمجھ لیں، اگر ماں بہن کی گالی نہ دی بلکہ بیہودہ گدھا، کمینہ، کہہ دیا یہ بھی ان احادیث کے مفہوم میں آتا ہے جس میں سب وشتم کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔
لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زبان کو گالیوں سے ہمیشہ پاک صاف رکھیں۔جوڑ پیدا کرنے کی کوشش کریں توڑ پیدا کرنا اور گالیاں دینا فعل بد اور شیطانی فعل ہے
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زبان کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

Short URL: https://tinyurl.com/2jxvfnz4
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *