ہماراہردن ویلنٹائن ہے۔۔۔۔ تحریر: ایم پی خان

ویلنٹائین ڈے پر بہت کچھ لکھاگیا، بہت کچھ لکھاجاچکاہے اوربہت کچھ لکھاجائے گا۔کئی اہل قلم ، دانشمند ، مفکرین اسلام اورتھوڑا بہت اسلامی سوچ رکھنے والے اس دن ، اس رسم اوراس تہوار کی تردیدمیں اپنے دلائل پیش کرتے ہیں اوراس کو مسلمانوں کے لئے ناجائز اورغیرشرعی قراردیتے ہیں جبکہ کئی لبرل،سیکولر، روشن خیال اور جدیدیت کے علمبردارولنٹائن کی تائیدمیں دلائل کے انبارلگادیتے ہیں ۔ پاکستانی قوم کے لئے یہ اختلاف کوئی نئی بات نہیں ہے، جوقوم آج تک بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کی شخصیت کو غیرمتنازعہ ٹہرانہ سکی ، جوحصول پاکستان اورآزادی کی نعمت کو آج تک شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے،جورمضان اورعید کے معاملے میں باہم متفق نہیں ہوسکتی، جوقوم اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بلاتامل ماننے کو تیارنہیں اورجو قوم آقائے نامدارحضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے بارے میں ترددکاشکارہو، وہ ولنٹائن ڈے کے بارے میں ایکدوسرے سے متضادموقف کیوں نہ رکھے۔ یہی اختلاف ہی باعث رحمت ہے ، کیونکہ اس میں کھرے کھوٹے کاپتہ چلتاہے اوریہی امت مسلمہ کے لئے تجسس ،جستجو اورتحقیق کاباعث بنتا ہے۔ولنٹائن ڈے پرمیں نے اس وقت بھی بہت کچھ لکھاہے ، جب اخبارات والے ہمیں بالکل لفٹ نہیں دیتے تھے اورہماری تحریریں صرف اورصرف سوشل میڈیا کی حد تک محدودتھیں۔ امسال ولنٹائن ڈے کی مناسبت سے میں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹوں اوراخبارات میں اپنے دوستوں، ادیبوں اورلکھاریوں کے جو تاثرات ، مضامین اورتحاریردیکھیں ، تومجھے بے حدخوشی ملی اورمیں نے اللہ کاشکراداکیاکہ ہمارے ملک میں اکثریت ان لوگوں کاہے ، جو پکے مذہبی ذہن والے ہیں اور اپنی ثقافت، تہذیب ، رسم ورواج اوراقدارسے محبت کرتے ہیں ۔ولنٹائن ڈے کو منانے والے اوراسکی تائیدمیں زمین آسمان کے قلابے ملانے والے ، اس دن کو ’’عالمی یوم محبت ‘‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیادنیاکی ترقی یافتہ اقوام پورے سال میں صرف ایک دن ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اورصرف اس دن آپس میں پھولوں کاتبادلہ کرتے ہیں ۔ شاید یہی لوگ وقت کی بہت زیادہ قدرکرتے ہیں اوراپناوقت تعلیم، ہنر،علوم وفنون یاکسی دیگر تعمیری کا م میں صرف کرتے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ ان کے پاس فضول وقت بالکل نہیں ہوتا۔ جس کانتیجہ یہ ہے کہ انکاشماردنیاکی ترقی یافتہ اقوام میں ہوتاہے۔ انہوں نے کائنات کی لامتناعی وسعتوں کومسخرکردیاہے ۔ زمین سے کوسوں دوردیگرسیاروں میں زندگی کے اثارڈھونڈرہے ہیں ۔ سائنس اورٹیکنالوجی کے میدان میں دنیاکی راہنمائی کررہے ہیں ۔ پھرانکے لئے ولنٹائن ڈے منانے کاجوازبنتاہے ۔پورے سال میں یہی ایک دن یہ لوگ اپنے تمام دوڑدھوپ سے آزادایکدوسرے کو پھولوں کے تحفے دیتے ہیں بلکہ ہلکے پھلکے رومانٹک بھی ہوجاتے ہیں اورپھریہ دن گزرجاتاہے اوراگلے 15فروری سے پھرانکی زندگی اسی ڈگرپرچلنے لگتی ہے۔ اب بات ہوجائے پاکستان میں ولنٹائن ڈے منانے کی، تومیرے خیال میں پاکستانی قوم کوولنٹائن ڈے منانے کی ضرورت ہی نہیں ، کیونکہ یہاں توہردن ولنٹائن ہے۔ جس قوم کے بچے درسگاہوں میں ایک دوسرے کی محبت میں خودکشیاں کرتے ہیں۔جہاں موبائل فون پر پیکج لگاکر گھنٹوں گھنٹوں ایک دوسرے سے پیاراورمحبت کی باتیں کرتے ہیں۔ جہاں تعلیمی اداروں میں ہرلڑکے کاکسی لڑکی کے ساتھ تعلق ہوتاہے اوراس تعلق کومحبت کانام دیتے ہیں۔ جہاں لڑکے اورلڑکیاں پارکوں میں روزانہ ایکدوسرے کے ساتھ ٹہلتے ہیں اورجہاں پیاراورمحبت میں لوگ روزایکدوسرے کو پھولوں کے تحفے دیتے ہیں۔ جہاں سکولوں میں اساتذہ بھی کسی شاگردکی محبت میں گرفتارہوتے ہیں اورجہاں والدین اوربچے اکھٹے ہندوستان کی رومانٹک فلموں سے محظوظ ہوتے ہیں، جہاں ساراسارادن انٹرنیٹ پر نامحرموں سے فحش کلامی ہوتی ہے ، جہاں انٹرنیٹ پر پراکسی لگاکر فحش فلمیں دیکھی جاتی ہیں ، جس کی وجہ سے پوری دنیامیں یہ قوم فحاشی میں سرفہرست ہے۔، توکیااس قوم کاہردن ولنٹائن نہیں ہے؟بلکہ میں تویہی کہوں گاکہ ہماری پوری قوم ولنٹائن ہے۔ایسی حالت میں ہمیں ولنٹائن ڈے منانے کی کیاضرورت ہے۔















Leave a Reply