بے ہودہ سودی نظام۔۔۔۔تحریر:شفقت اللہ

Shafqat Ullah
Print Friendly, PDF & Email

ہٹلر نے اعلان کیا تھا کہ ایک بھی یہودی نہیں چھوڑوں گا اور اس نے بات پوری کی ۔جہاں کوئی یہودی ملتا اسے ختم کر دیتا لیکن اسکے بعد چند یہودیوں کو زندہ چھوڑ دیا اس لئے کہ اگر کوئی ہٹلر کی موت کے بعد اسے برا یا قاتل کہنے لگے تو وہ ضرور یہودیوں کے رویوں پر ایک نظر مار لے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی یہودی موجود ہیں وہ ہمیشہ دوسرے مذاہب کے خلاف پراپیگنڈوں میں مصروف عمل نظر آتے ہیں ۔ان کا سب سے بڑا ہتھیار
Purge
ہے مطلب غربت کی بجائے غریبوں کا وجود،ان کی حیثیت اور ان کا وجود جس مقصد سے دنیا میں ہے کو ختم کرنا ہے۔مادیت کا لالچ انسان کو جانور بنا دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج احساس جیسی دولت دنیا میں ناپید ہے سونے کا بڑے پیمانے پر کام کرنے والے جیولرز اور تاجروں نے جب دیکھا کہ جب تک لوگوں کے پاس دھاتی کرنسی موجود ہے اس وقت تک لوگ غریب نہیں ہو سکتے اور وہ امیر نہیں بن سکتے کیونکہ انہیں ایک خاص شرح منافع پر ہی اکتفا کرنا پڑتا تھا تو انہوں نے اس کے بدلے میں مختلف انداز میں کرنسی جاری کروائی اور بینکنگ کا نظام متعارف کروایا جس میں لوگوں کو پیسوں کا لالچ دے کر ان سے دھاتی کرنسی آہستہ آہستہ ہتھیا لی گئی۔بینکنگ کا نظام لوگوں کے دماغ میں پہنچانے کیلئے با قاعدہ بینکنگ کا نصاب جاری کرایا گیا اور لوگوں کو اس کی تعلیم دی گئی کہ اس بے ہودہ اورناپاک نظام کو دفاع کرنے والے لوگ بھی ہوں اور اس کو ہر گھر آسانی سے پہنچایا بھی جا سکے۔اس کے بعد آئی ایم ایف کو وجود میں لایا گیا جس کے ذریعے بہت سے ممالک کو سود پر قرضے دئیے گئے ان پر جو شرائط رکھی جاتیں ہیں وہ یہ ہوتیں ہیں کہ اب کونسا نیا ٹیکس نافذ کر کے ہمیں پیسے واپس کرو گے اور اس طرح یہ بنیے ان تمام ممالک پر حکومت کر رہے ہیں جنہیں یہ قرض دیتے ہیں ۔جدید بینکاری نظام سے لوگوں کو ایسے دھوکے میں رکھا گیا کہ انہیں معلوم بھی نہیں ہوا اور غلام بننے کے ساتھ ساتھ غلامی کی قیمت بھی ادا کرنے لگے ہیں ۔مشہور برطانوی ماہر معاشیات جان کئیر نے کہا تھا کہ مسلسل نوٹ چھاپ کر حکومت نہایت خاموشی اور راز داری سے اپنی عوام کی دولت کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیتی ہے یہ طریقہ اکثریت کو غریب بنا دیتا ہے جبکہ چند لوگ امیر ہو جاتے ہیں با لکل ایسے ہی وہ چند لوگ جو تاجر تھے ایسے لوگوں کی دولت ہتھیا کر امیر بن گئے اور اکثریت غریب ہو گئی ہے ۔اب جب ان لوگوں نے دیکھا کہ اکثریت جو غریب ہو گئی ہے حکومت کا دارومدار ان لوگوں پر ہے تو ان بنیوں نے غریبوں پر حکومت شروع کر دی ۔یہودیوں نے سود کا ایسا نظام متعارف کروایا کہ جو شخص بھی اس کی لپیٹ میں آیا اسکی کمر ایسی ٹوٹی کہ وہ کبھی پھر سے
survive
نہیں کر پایا ۔یہودیوں کی اپنی مذہبی کتاب میں سود سے روکا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ اسرائیل میں کوئی بینک سود نہیں لیتا لیکن انہوں نے پوری دنیا میں اپنے بینکوں کا جال پھیلا کر انہیں سود پر لگا دیا ہے ۔دنیا کا سپر پاور ملک امریکہ کی کرنسی جو ڈالر ہے اسے بھی ورلڈ بینک کنٹرول نہیں کرتا بلکہ ایک یہودی خاندان کنٹرول کر رہا ہے اسی لئے امریکہ بھی یہودیت کا قرض دار ہے۔جب اس نظام کے نوازے گئے لوگ اقتدار میں آئے تو انہوں نے غریبوں سے جینے کا حق چھیننا شروع کر دیا ۔خاص طور پر پاکستان میں آج تک جتنی بھی حکومتیں آئیں وہ اپنی رعایا کو بنیادی مراعات دینے سے بھی محروم رہی ہیں اور ہمیشہ اپنا بینک بیلنس بنانے میں سر گرم رہے ہیں۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان جیسی پاور فل اسلامی ریاست بھی ان بنیوں کی انگلیوں پر ناچ رہی ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر پیدا ہونے والابچہ آنکھ بعدمیں کھولتا ہے لیکن وہ ایک لاکھ روپے کا مقروض پہلے ہوتا ہے مطلب دولت کی حوس اورجھوٹی شان و شوکت کو برقرار رکھنے کیلئے رعایا کا بھی سودا کرنے سے گریز نہیں کیا گیا ۔ پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر معرض وجود میں آیا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے دنیا میں ایک ستارہ بن کر چمکا۔کیونکہ جمہوریت میں سب کو اپنی رائے پیش کرنے کی مکمل آزادی کا حق حاصل ہے اسی وجہ سے روز روز کی ہڑتالوں اور دنیا میں آنے والے انقلاب کے پیش نظر مہنگائی کا ایک ایسا جن مسلط کیا گیا ہے کہ سب صرف پیٹ کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اورآنے والے کل کی پلاننگ کی دوڑ میں بگٹٹ دوڑے چلے جا رہے ہیں اور اپنے بنیادی حقوق کو خود ہی پامال کئے جا رہے ہیں !!!معمر قذافی کے دور حکومت میں لیبیا پر کوئی قرض نہیں تھا اور اندرون ملک تمام بینک وفاقی حکومت کے زیر نگرانی کام کرتے تھے ۔کسی باشندے کو قرض سود پر نہیں دیا جاتا تھا بلکہ حکومت ہر صورت اسکی مدد کرتی تھی کوئی بھی شخص دوسرے ملک میں جا کر کام نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ حکومت انہیں اتنی زیادہ سہولیات دیتی تھی کہ انہیں کسی بنیادی سہولت کی کمی نہیں تھی ۔صاف پانی صحت ، تعلیم اور دیگر سہولیات ہر شخص کے پاس تھیں ۔لیبیا ایک ایسا ملک تھا جہاں شرح خواندگی 83 فیصد تھی اور قذافی کی حکومت کے بڑے کارناموں میں سے ایک کارنامہ یہ بھی تھا کہ ملک میں تیل کی مد میں جتنی بھی آمدن آتی تھی اس میں سے ایک مخصوص شرح پر پیسے ہر عام شخص کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو جاتے تھے ۔لیکن ان بنیوں کو یہ منظور نہیں تھا اور مادیت کی حوس کی وجہ سے انہوں نے ایسے پراپیگنڈے چلائے کہ لوگوں کو اس بات پر راضی کر لیا کہ جو زندگی وہ گزار رہے ہیں وہ غلامی کی زندگی ہے ان کے اوپر ایک ڈکٹیٹر حکومت کر رہا ہے اور عوام کے پاس کوئی جمہوری حق موجود نہیں ہے جس سے پورے لیبیا میں انقلاب کی صورت میں ایک جن آیا جس نے لیبیا میں بھی سودی نظام پھیلا دیا اور اب وہاں کے لوگ بھی غلامی کی قیمت ادا کرتے ہیں ۔کسی بھی ملک کے طلبا ء اسکا مستقبل ہوتے ہیں اور جن طلبا ء کی بنیا د ہی تعصب بھرے ماحول میں اور ایسے نصاب کے ساتھ رکھی جائے جس میں صرف مغربی تہذیب کی پیروی ہی میں کامیابی درج ہو تو ایسا معاشرہ غلام ہی رہے گا۔بات صرف یہاں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ ان بنیوں نے عوام کو دھوکے میں رکھا کہ غربت کا خاتمہ کریں گے نہیں یہاں غربت کا خاتمہ نہیں ہو رہا اس کے برعکس غریبوں کو ختم کیا جا رہا ہے ۔آہستہ آہستہ ایسی پالیسیوں سے غریبوں کا
Purge
کیا جا رہا ہے تاکہ وہی لوگ زندہ رہیں جو اس بے ہودہ سودی نظام کی پیروی کریں اور ہمیشہ انکی غلامی کے ساتھ ساتھ غلامی کی قیمت بھی ادا کریں اور جو لوگ ان سے منحرف ہیں وہ عنقریب اس دنیا سے ختم ہو جائیں گے در حقیقت یہ غریبوں کا
Purge
نہیں بلکہ اسلامی نظریات اور اسکی پیروی کرنے والوں کا
Purge
کیا جا رہا ہے اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جس سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔

Short URL: http://tinyurl.com/z5wqyxh
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *