الطاف حسین ایم کیو ایم کی لاٹھی ہے۔۔۔۔ تحریر: نادیہ خان بلوچ

Nadia Khan Baloch
Print Friendly, PDF & Email

بڑے بوڑھے کہتے ہیں اگر کتا پاگل ہوجائے تو اسے گولی مار دینی چاہیے تاکہ وہ دوسروں کو نقصان نہ پہنچائے. بالکل اسی طرح انسان کا معاملہ ہے اگر کوئی انسان پاگل ہوجائے ملک کا غدار بن جائے اپنوں پر بھونکنے لگے تو اس کے گلے میں بھی پٹہ ڈال کے بند کردینا چاہیے اور نوبت آنے پر پھانسی لگانے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے.
ایم کیو ایم کا نام ذہن میں آتے ہی ایک ایسی شکل سامنے آتی ہے جسکا بڑا سا منہ، گردن برائے نام، ہاتھ معصوم لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے اور حرام کھا کھا کے توند باہر نکلی ہوئی. ویسے ایک نجی چینل کے پروگرام میں ایم کیو ایم کے اپنے ہی ایک بیٹے نے انکشاف کیا تھا توند انکی باہر نکلتی ہے جو حرام کھاتے ہیں.
ایم کیو ایم فرعون کی طرح پچھلے کئی سالوں سے کراچی پر قابض ہے. وہ کراچی جو امن کا شہر تھا روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا ایم کیو ایم کی غنڈہ گردی کی وجہ سے تاریکیوں میں ڈوب گیا. ایم کیو ایم ملک دوست نہیں بلکہ ملک دشمن جماعت ہے. متعدد بار ایم کیو ایم کے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ساتھ ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں. کیو ایم نے اپنے لوگوں کو بھی نہیں بخشا عمران فاروق جیسے کئی لوگوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا. ایم کیو ایم کے اس فرعون جیسے فعل کی وجہ سے پورا کراچی خوف کھاتا ہے. آئے دن ہڑتال حالات خراب یہ سب تو بہترین مشغلہ ہو جیسے.
ایم کیو ایم کا وجود تو کراچی میں ہے مگر اسکے فیصلے لندن میں ہورہے ہیں. کراچی کے لوگوں کا حال اور مستقبل لندن میں طے کیا جاتا ہے. متحدہ کے قائد کے بھی کیا کہنے. وہ کیا کہتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں خود نہیں جانتے. بعد میں انکی پارٹی انکے بیانات کی مد میں خوب صفائیاں پیش کرتی نظر آتی ہے. کبھی وہ کسی پارٹی ممبران کے قتل کرنے کا حکم دیتے ہیں تو کبھی پارٹی چھوڑنے کا اعلان. کبھی گالیاں دیتے ہیں تو کبھی دشمن کی حمایت. صبح پھر اس پر معافی مانگتے نظر آتے ہیں. کچھ ایسا ہی پیر کے دن ہوا.
قائد ایم کیو ایم نے شراب کے نشے میں اپنے بیانات میں اپنا مکروہ چہرہ دکھا دیا ان کے مطابق پاکستان کا بننا ایک بدترین سانحہ ہے. یہاں تک کہ پاکستان مردہ باد کے بھی نعرے لگائے اور اپنے پارٹی کارکنوں کو حکم دیا کہ وہ نیوز چینل پر جا کر حملہ کریں. انکے اس حکم پر ایم کیو ایم نے 2 نجی نیوز چینل سما اور اے آر وائی پر دھاوا بول دیا. کچھ اہلکار نے رینجر پر بھی پتھراؤ کیا. جبکہ رینجر نے کارروائی کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے اہم رہنما ڈاکٹر عامر لیاقت، فاروق ستار سمیت دیگر چند رہنماؤں کو حراست میں لے لیا. چند گھنٹے تحویل میں گزارنے کے بعد عامر لیاقت اور فاروق ستار ہمیشہ کی طرح رہا ہوگئے. جبکہ فاروق ستار نے پریس کانفرس کرتے ہوئے اپنے قائد کے بیان کی مذمت کی اور کہا آئندہ پارٹی کے فیصلے یہاں کراچی سے ہوں گے. عوام نے بھرپور کوشش کی کہ وہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگائیں مگر جھوٹے منہ بھی انکے منہ سے ایسے الفاظ نہ نکلے. جب کہ کراچی کے نامزد میئر بھی اپنی پریس کانفرنس کے دوران ٹیلی فونک احکام مانتے نظر آئے. پاکستان کے خلاف ایسے بیانات کوئی پہلی بار سامنے نظر نہیں آئے. ماضی میں کئی بار ایم کیو ایم اور را کے یارانے خوب زیر بحث رہے ہیں. شواہد کی بنا پر بھی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی نہ ہی ایم کیو ایم پر کوئی پابندی لگی نہ کوئی مقدمہ ہوا بلکہ لوگ خوف کے مارے اپنے گھروں میں بیٹھ گئے. لیکن موجودہ حالات میں کچھ لوگوں کا خیال ہے صورتحال اس کے برعکس ہے. کیونکہ اب کی بار عوام نے اپنا کاروبار بند نہیں کیا نہ کوئی ہڑتال کی. بلکہ قائد الطاف حسین کے خلاف کھڑے ہوئے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے. یہاں تک کہ ایم کیو ایم کا سیاسی گھڑ انکا علاقہ نائن زیرو سمیت کئی اور دفاتر بھی سیل کر دیے گئے. کچھ رہنماؤں نے ایم کیو ایم کو خیر باد کہہ دیا. جس پر انہیں دھمکیاں بھی مل رہی ہیں. کراچی کا کوئی بھی مقام ایسا نہیں تھا جہاں قائد ایم کیو ایم کی تصویر نہ ہو مگر انکے اس بیان کے بعد کراچی میں تو کیا پورے حیدر آباد میں بھی پچھلی 3 دہائیوں سے لگے ہوئے انکی تصاویر والے پوسٹر اتار دیے گئے ہیں. لگتا ہے ایم کیو ایم میں مائنس الطاف فارمولے کا آغاز ہو چلا ہے. مگر دیکھتے ہیں ایسا کب تک ہوتا ہے. کیا یہ ایم کیو ایم کا اختتام ہے؟ کیا قائد ایم کیو ایم پر غداری کیس چل پائے گا؟ کیا قائد ایم کیو ایم سزا پائیں گے؟ مگر یہ کیسے ہوگا؟ قائد ایم کیو ایم کے تو اس بات پر بضد ہیں پہلے سابق صدر پرویز مشرف صاحب کے خلاف غداری کیس اور سانحے مئی پر کیس چلائے جائیں. سوچو بھائی مشرف صاحب پہ کیس چلے گا؟ انہیں کیسے سزا دی جائے گی؟ اگر ایسا کیا تو مارشل لا نہیں لگ جائے گا. بقول جمہوری امینوں کے یہ تو نام نہاد جمہوریت کی توہین ہوگی. ویسے سچ کہوں تو میری نظر میں مشرف صاحب نے اگر کچھ غلط کیا بھی ہے تو ان غداروں سے کم ہی کیا ہوگا. “را” کے ساتھ ملوث تو نہیں ہوئے. وفاداریاں تو تبدیل نہیں کیں؟؟
اس موقعے پر اپنا گریبان بچانے کیلئے کسی اور مسلے کو غداری جیسے مسلے کے ساتھ جوڑنا کہاں کی حب الوطنی ہے؟
حب الوطنی تو یہ ہوتی اسی وقت پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے. الطاف حسین صاحب سے بائیکاٹ کرتے. مگر ایسا کچھ نہ ہوا. اور یہ جو اب سانپ گزر جانے کے بعد لکیر کو پیٹا جارہا ہے یہ صرف ممکنہ حالات سے بچنے کا پلان ہے. ایم کیو ایم الطاف حسین کے بغیر ایک قدم بھی
نہیں چل سکتی. یہ تو ماموں بنایا جارہا ہے. ایم کیو ایم کی لاٹھی الطاف حسین ہے اگر الطاف حسین سے بائیکاٹ کیا ہوتا کیا ایم کیو ایم ہوتی کیا آج کراچی میں حالات نارمل ہوتے؟ جو عام حالات میں کراچی کو خون میں نہلا دیتے ہیں اتنی بڑی بات پر خاموش رہتے؟ کمال ہے. سچ کہتے ہیں لوگ خوش فہمی کا واقعی کوئی علاج نہیں میرے بھائیو. ایم کیو ایم یا الطاف حسین کا اختتام اتنی آسانی اور امن سے نہیں ہوگا. انکا زوال اگر کسی کے بس میں ہے تو وہ ہے فوج. پہلے جس طرح پاک آرمی نے رینجر کے ساتھ ملکر کراچی آپریشن کرکے کراچی میں امن پیدا کیا. ایم کیو ایم کی کمر توڑی ٹھیک اس? طرح آرمی کو اب ویسے اقدامات کرنے چاہیں. کراچی کو سنبھال کے اپنی نگرانی میں ان غداروں پر ہاتھ ڈالنا چاہیے. کراچی میں تو صرف چھوٹے بچے ہیں انکا اصل باپ تو لندن میں ہے، ابتدا وہاں سے کریں. جب یہ یتیم ہوں گے سب سیکھ جائیں گے کیونکہ یتیمی سب سکھا دیتی ہے. ایک غدار کی سزا وہ بھی اس صورت میں جب وہ قوم کا محسن ہمدرد ہونے کے دعوے کرے پھانسی کے سوا کچھ بھی نہیں.
سیانے کہتے ہیں کتا بھی وفادار ہوتا ہے مگر یہ غدار تو کتوں سے بھی بدتر ہیں.

Short URL: http://tinyurl.com/h8h5vo5
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *