ہیں دلیلیں تیرے خلاف مگر

تحریر: شفقت اللہ
مصر کے بازا ر میں ایک بھکاری ہاتھ پر روٹی کا چھوٹا سا ٹکڑا لئے کھانے ہی والا تھا کہ اچانک ایک گلی کا بد قماش کتا جھپٹا اور روٹی کا ٹکڑا اڑا لے گیا بجائے اس کے کہ فقیر اس کتے کے پیچھے بھاگتا یا برہمی کا اظہار کرتا مسکرانے لگا ۔یہ واقع اسی چوراہے پر کھڑا ایک اور شخص بڑے غور سے دیکھ رہا تھا اس نے فقیر کو مسکراتے دیکھا تو سوال کرنے لگا کہ یہ کیا وہ آپ کے ہاتھ سے آپ کا رزق چھین کر لے گیا اور آپ مسکرا رہے ہیں ؟تو وہ بھکاری مسکراتے ہوئے اس کو بتانے لگا کہ میں ایک بڑی سلطنت کا بادشاہ تھا ،ایک دن میں اپنے محل کی سب سے اونچی عمارت پر کھڑا تھا اور میرے ساتھ میری بیٹی بھی موجود تھی وہ اپنے ایک انتہائی بیش قیمتی کھلونے سے کھیل رہی تھی کہ اسی اثناء میں اس کے ہاتھ سے وہ کھلونا چھوٹ گیا اور سب سے نیچے زمین پر جا گرا لیکن وہ ٹوٹا نہیں میں یہ سارا منظر اپنی ان چشمِ زیاں سے دیکھ رہا تھا جب میں نے دیکھا کہ اتنی اونچائی سے گرنے کے با وجود بھی وہ کھلونا نہیں ٹوٹا تو میرے لا شعور میں تکبر کی ایک لہر دوڑ گئی اور بڑی پر فریب مسکراہٹ میرے لبوں پر چھا گئی میں نے اپنے پاس کھڑے مشیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دیکھو میری سلطنت کا عروج !اتنی اونچائی سے کھلونا گرنے کے با وجود نہیں ٹوٹا !وہ دن تھا اور آج کا دن ہے رفتہ رفتہ میری سلطنت کے دن پلٹنے لگے میری حکومت زوال کا شکار ہو گئی میری رعایا مفلسی کی وجہ سے لالچ میں آ گئی اور میری اولاد کو مار دیا گیا میری سلطنت مجھ سے چھین لی گئی اور مجھے ملک بدر کر دیا گیا اب یہ حالت ہے کہ مجھے دو وقت کی روٹی بھی مانگنا پڑتی ہے جبکہ مجھے ایک وقت کی بھی کئی کئی دنوں بعد نصیب ہوتی ہے آج چار دنوں بعد ایک روٹی کا ٹکڑا کھانے کو ملا تھا وہ بھی یہ کتا اڑا لے گیا ۔ کرپشن قیام پاکستان سے لے کر آج تک قومی سیاست کا حصہ رہی ہے پاکستان پر حکمرانی کرنے والا ہر حکمران اور سیاسی پارٹیوں کے سربراہان بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر کرپشن جیسے الزاما ت کی زد میں رہے ہیں لیکن شاید ہی کوئی حکمران اور سیاستدان ہوگا جسے کرپشن کے الزامات ثابت ہونے پر نا اہلی سمیت دیگر سزائیں دی جا سکی ہوں۔اسی طرح میاں محمد نواز شریف پر بھی کئی الزامات لگے لیکن وہ ثابت نہیں ہو پائے پھر چاہے وہ 1994 میں نو بینکوں سے لیا گیا قرض کو ہڑپ کرنے کا معاملا ہو ، 6اپریل 2000 کو انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج رحمت حسین جعفری نے پاکستان کے معزول وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو دو مرتبہ عمر قید با مشقت پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور ان کی تمام جائید اد بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم سنادیاوالا معمہ ہو،بتیس ملین کی 2012میں منی لانڈرنگ ،شوگر ملز کے ٹیکسوں کا ہڑپنا ،حدیبیہ ملز کی جائیداد ،میٹرو ٹرین ،میٹرو بسیں ،آسان قرضہ سکیم ،عالمی بنک اور آئی ایم ایف سے قرضوں کا حصول ،قائد اعظم سولر پارک ،سانحہ ماڈل ٹا ؤن ،پاناما کیس ہو یا ڈان لیکس سبھی میں میاں صاحب پر اب تک الزامات کو ثابت نہیں کیا جا سکا ۔1994 میں جب اسی طرح میاں صاحب پر حدیبیہ ملز کی پراپرٹی بنانے کے کیسز تھے تب بھی قطری شہزادے کا خط کام آیا اور اب جب پاناما پیپرز کا مسئلہ در پیش ہوا تو بھی قطری شہزادے کا خط ثبوت کے طور پر عدالت میں جمع کروایا گیا جسے عدالت عالیہ نے مسترد کر دیا لیکن پھر بھی میاں صاحب کو ایک انداز میں کلین چٹ تھما دی گئی مطلب یہ تو کوئی محبت کا معاملہ تھا کہ دلیلیں تو تیرے خلاف ہیں مگر تیری حمایت میں سوچتا ہوں ۔ایک کے بعد دوسری مصیبت سے جان بخشی ہونا میاں صاحب اور ان کے حواریوں کیلئے باعث مسرت ثابت ہوئی ہے اور ان کے تکبر میں اور بھی زیادہ اضافہ ہو چکا ہے اس طرح یوں بھی لگتا ہے کہ آئندہ حکومت پھر سے ن لیگ بنانے میں کامیاب ہو جائے گی لیکن یہ ہوس کے پجاری اس بات کو بھولے بیٹھے ہیں کہ یہ تو صر ف دنیاوی عدالت ہے اللہ کی عدالت تو ابھی باقی ہے یہ میرے رب کی صفت ہے کہ وہ ذوالجلال ہے ان لوگوں کیلئے جو انسانوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں اور ان کا استحصال کرتے ہیں وہ آزماتا ہے رسی کو ڈھیلی چھوڑ کر بھی اور رسی کو کھینچ کر بھی اللہ پاک کو تکبر سب سے زیادہ ناپسند ہے اسی تکبر کی وجہ سے ہی شیطان کو ملعون قرار دے دیا گیا ۔ن لیگ یہ بات بھول رہی ہے کہ ملک جو پہلے ہی نازک دور سے گزر رہا ہے بیرونی خطرات اتنے زیادہ ہیں کہ ذرا سی غفلت سے ملکی سلامتی خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے ایسے میں اندرونی عدم استحکام جلتی پر تیل کا کام کر سکتا ہے حکومت خود اختیار کردہ چالاکیوں کے بھنور میں ایسی پھنسی ہوئی ہے کہ اس سے نکلنے کیلئے اس کی ہر کوشش اسے مزید مشکلات سے دو چار کر رہی ہے حکومتی کشتی بیچ منجھدار اگر ڈوبی تو اسکا سبب خصوصاََ مریم بی بی ہی بنیں گی اگر سب کچھ اسی روش پر چلتا رہاتو پھر ان کیلئے ابا جی نے آنکھوں میں جو خواب سجائے رکھے ہیں وہ خواب ہی رہیں گے۔میاں صاحب کو یہ غرور کہیں انہیں اس بھکاری کی طرح نہ بنا دے جس کے ہاتھ سے چار دنوں بعد حاصل ہونے والا رزق بھی کتا چھین کر لے گیا۔

Short URL: http://tinyurl.com/yddj3duw
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *