کیا پِدی اور کیا پِدی کا شوربہ

آج مجھے اردو محاورے بڑے یاد آرہے ہیں۔میں اکثر کشمیر اور جی بی کے بارے ایک محاورہ استعمال کرتا ہوں ٓآسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔ایسا کہنے کی وجہ وہ حضرات خوب جانتے ہیں جو ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ پڑھتے ہیں یا اس سے واقف ہیں۔۔ریاست جموں و کشمیر کا خطہ ستر سالوں سے پاکستان اور ہندوستان کے مابین وجہ تنازعہ ہے اور تین حصوں میں منقسم ہے،ایک آزاد ریاست ڈوگروں سے نام نہاد آزادی حاصل کرنے یا بغاوت کے بعد بجائے ایک مرتبہ پاتی دو ملکوں کے درمیان اٹک کے رہ گئی۔اب آپ بھی یہ تائید ضرور کرینگے کہ اس خطے کے بارے اس محاورے کا استعمال صحیح اور مناسب ہے ۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس کی بہت ساری وجوہات ہیں ان وجوہات کو ایک طرف رکھ دیں ان وجوہات کا دوش کس کے سر ہے اس کا بھی تعین باقی ہے۔اس وقت زہن میں ابھرتے ہوئے اس محاورے کی طرف آئیں اگا دیکھا نہ پیچھا۔یہ کیا بات ہوئی آگے ہم کیا دیکھتے اور پیچھے کی طرف مُڑ کر دیکھنے کا سوال ہی نہیں تھا کیونکہ اس وقت بھی حالت ہماری ایسی ہی تھی جیسے اب ہے۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے اس وقت بھی ہم نے پیدل ہونے کا ثبوت دیا اور اب بھی ہمین عقل نہین آئی ہے کہ ہمارا اچھا کیا ہے اور بُرا کیا۔اس وقت بھی مہروں کی طرح ہمیں استعمال میں لایا گیا اور جہاں چاہا گیا اس جگہ مہر کو ثبت کر دیا گیا۔۔اگر ہم اپنا اچھا بُرا سوچتے تو شائد یہ نوبت نہ آتی اب حالت یہ ہے کہ نہ خدا ملا اور نہ ہی وصال صنم۔یا یوں کہیں کہ نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا غرض اس قسم کے جتنے محاورے اردو میں مستعمل ہیں وہ سب کے سب متنازعہ خطے کے لئے بروقت اور مناسب ہی لگتے ہیں ہمارے خطے کی حالت اور جان کنی والی کفیت کے لئے ان محاوروں کی افادیت میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں آئی ہے ۔ کہتے ہیں نا کہ چُپ کی داد خدا دیتا ہے لیکن لگتا ایسا ہے کہ ہمارا یہ صبر بھی اللہ کو پسند نہیں آیا یہ کیسا صبر ہے بُرے کو بُرا نہ کہا اور نہ اچھے کی تعریف کی تو کیسے ہماری چُپ کی داد خدا دیتا۔ خدا بھی ہم سے روٹھ گیا ہے اور اس بات سے بھی سبھی ہی واقف ہیں کہ خدا کب اور کیسے روٹھ جاتا ہے جی ہاں خدا کیسے ہماری مدد کرتا جب کہ ہم نے خود اپنی مدد آپ نہیں کیا ۔خدا تو ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں ۔ہم تو اپنی مدد کے بجائے کسی اور کام م میں جُتے ہوئے ہیں ہم تو کہولوں کے بیل کی طرح چل رہے ہیں اور ہل جوتنے والے بیلوں کی طرح سدھائے ہوئے ہیں جو جس طرح چاہئے اس طرح ہل جوتے ۔کہنے کا مطلب ہے کہ اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ ۔کبھی کسی کی حمایت تو کبھی کسی کی مخالفت ۔کبھی ایک مطالبہ تو کبھی دوسرا۔ یہ ڈفلیاں ریاست کے اس منقسم خطے میں کئی دہائیوں سے بجائی جا رہی ہیں ۔ ہماری یہ ڈفلیاں جب تک ایک ہی راگ میں تبدیل نہ ہوں ہمارے کسی کام کی ہیں۔چاہئے میری اس بات سے لاکھ اختلاف ہو جب تک یہ ڈفلیاں بجتی رہنگی ریاست منقسم ہی رہیگی متحد نہیں ۔ ہمارے ساتھ تو معاملہ یک نہ شد دو شد والا ہی لگ رہا ہے ۔ہمارے اسلاف نے ریاست کوبنانے اور سنوارنے کے دو منتر سکھائے تھے لیکن ہم ان منتروں کو سرے سے بھول ہی گئے ہیں ان کی جگہ دوسرے منتر پڑھنے شروع کر دئے ہیں نہ جانے ہمیں وہ بھولے ہوئے منتر کب یاد آئنگے اللہ کرے کہ جلدی یاد آئیں نہیں تو آپ کا نوکر ہوں بینگن کا نہیں والا ہمارے اوپر لاگو ہوگا ۔ہوگا کیا بلکہ ہے سب کی ہاں میں ہاں ملانا ہی ہماری زیست کا حصہ بن چکا ہے ۔اور کیا حکم ہے میرے آقا کا ذکر ستر سالوں سے ہماری زبان میں جاری ہونے کے باوجود بھی اب تک ہم آئینے مین اپنا منہ تو دیکھو والے محاورے کی زد میں ہی ہیں ۔یعنی ہم ابھی تک نا اہل ہی رہے ہم کسی کام کے نہیں ۔جوں جوں میں لکھتا جا رہا ہوں یقین کریں کہ عجیب عجیب قسم کے اردو محاورے میرے ذہن میں گر دش کر رہے اگر ان سب کو لکھنے بیٹھوں تو شائد یہ کالم طوالت اختیار کر جائے ۔اس لئے مختصر کرنے جا رہا ہوں ۔یہ محاورے مجھے یاد آئے ہی کیوں ؟ چلیں وہ بھی بتا دیتا ہوں پی ٹی آئی کے یوم تشکر جلسے میں ازاد کشمیر اور جی بی کے حوالے سے شیخ رشید اور عمران خان نے متنازعہ خطے کے سی ایم اور پی ایم کے کے لئے چند القابات سے نوازنے میں بخل سے کام نہیں لیا ۔ دوش ہم ان کو بھی نہیں دیتے کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا ۔ہمارے سی ایم اور پی ایم نے جوش محبت میں اگر کچھ کہا تو انہوں نے بھی کہہ دیا۔بے عزتی تو ہماری ستر سالوں سے ہو رہی ہے اب کے جو بے عزتی ہوئی وہ کوئی نئی بات نہیں ۔ابھی تو یہ ابتدا ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔ اپنے کئے کی سزا نہیں جب اپنا سکہ ہی کھوٹا ہو تو پرکھنے والے کا کیا دوش اور پرکھنے والے تو ہمیں ایسے ہی پرکھ لینگے کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ














