کل بھوشن کا مستقبل کیا ہے؟

تحریر: شفقت اللہ
حال ہی میں بھارتی فلم انڈسٹری نے ایک کہانی فلمائی جس کا آغاز انہوں نے ایک راء ایجنٹ کے ٹیلیفون سے کیا ۔وہ ٹیلی فون پر اپنے دس سالہ بیٹے کے ساتھ بات کر رہا تھا اور اس کو بتا رہا تھا کہ میں نے یہ بات ہمیشہ آپ لوگوں سے چھپائی ہے کہ میں ایک راء ایجنٹ ہوں اور اب ملائیشیا کی حکومت کو میرے بارے میں پتہ چل گیا ہے کہ میں ایک جاسوس ہوں اس لئے وہ مجھے پکڑ کر لے جائیں گے اور مجھ سے ملکی راز اگلوانے کی کوشش کریں گے جو میں کبھی ہونے نہیں دے سکتا اسی لئے میں اپنی جان خود لینے لگا ہوں آپ ہمیشہ اپنی ماں کا خیال رکھنا اس کے بعد ٹیلی فونک گفتگو منقطع کر دی جاتی ہے اور وہ شخص خود سوزی کر لیتا ہے اس سے پہلے کہ ملائیشین حکومت اسے گرفتار کر لیتی ۔وہ بچہ اور اسکی ماں بارہا حکومت کے سامنے آہ و گریہ زاری کرتے ہیں لیکن حکومت ایک نہیں سنتی اور اسے ملک کا غدار بنا دیتی ہے یہ واقع اس بچے کی زندگی اور دل و دماغ پر گہرے اثرات چھوڑ جاتا ہے ۔ اس کا بچہ بڑا ہو کر سوفٹ ویئر اور ویب ڈویلپر بنتا ہے کمپیوٹر کے شعبہ میں اتنا علم حاصل کرتا ہے کہ سب کچھ اس کی انگلیوں کے نیچے آ جاتا ہے لیکن اس کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے کہ جس طرح ’’راء ‘‘کا ایجنٹ ہونے کی وجہ سے اسکے باپ کے اتنے بڑے بڑے کارناموں کے عوض اس کو غداری کا تمغہ دیا گیا اسی طرح اب وہ بھی چاہتا تھا کہ جتنے بھی دوسرے ممالک میں ’’راء‘‘ایجنٹ موجود ہیں وہ سب کو پکڑوا کر مروائے گا جس کیلئے وہ پوری سوچ بوجھ کے ساتھ آگے بڑھتا ہے ۔لڑکے میں قابلیت ہونے کی وجہ سے اسے کسی بھی ملک میں روزگار آسانی سے میسر ہوجاتا ہے ۔جس کا وہ بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے ہر ملک میں جا کر وہ ’’راء ‘‘کے دفاتر کو نشانہ بناتا ہے اور پھر انٹرنیٹ اور کمپیوٹر ہیکنگ کے ذریعے ان کا ریکارڈ چوری کر کے دوسرے ملکوں کے خفیہ اداروں کو بیچ کر انہیں مروا دیتا ہے جو کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’راء‘‘کیلئے درد سر بن جاتا ہے ۔بھارتی فلم انڈسٹری کی طرف سے خفیہ ایجنسی راء پر فلمائی جانے والی یہ کہانی اگر دیکھا جائے تو نہ صرف بھارتی حکومت اور خفیہ اداروں کے منہ پر طمانچہ ہے بلکہ کئی سوالیہ نشان بھی چھوڑ جاتی ہے ۔جیسے حال ہی میں انٹر نیٹ پر بھارتی فوجی اپنے ادارے کی بدگمانی کرتے نظر آئے اور ان سے نا خوش نظر آئے اسی طرح یہاں یوں لگتا ہے کہ بھارتی عوام بھی اپنے اداروں اور حکومت سے نا خوش ہیں خیر یہ تو محض ایک کہانی تھی لیکن پھر بھی اس میں کہیں نہ کہیں کوئی حقیقت ضرور پوشیدہ ہو گی ۔ماضی قریب میں ایک بھارتی جاسوس پاکستان میں جارحانہ اور دہشتگردی کی کاروائیاں کرتا پکڑا گیا جس نے واضح طور پر سب قبول بھی کیا کہ وہ واقعی بھارت کی جانب سے پاکستان کی سالمیت ، معیشت کو مستحکم نہ ہونے دینا اور فرقہ وارانہ تعصبات سے امن و امان کی صورتحال کو متوازن نہ ہونے دینے کیلئے بھیجا گیا تھا جس میں نہ صرف بھارت بلکہ بد قسمتی سے ایران بھی ملوث تھا جس نے سب سے پہلے پاکستان کا وجود تسلیم کیا تھا ۔بھارتی جاسوس کے پکڑے جانے کے پاکستان اور اقوام متحدہ میں ایک تشویش کی لہر دوڑ گئی جس میں امریکہ نے پاکستان کو آنکھیں بھی دکھائیں کہ وہ کسی طور اس معاملے کو رفع دفع کر دے اور کلبھوشن یادیو کو چھوڑ دے جس طرح ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑ دیا گیا تھا لیکن اس بار بات کچھ الگ تھی بظاہر تو میاں صاحب اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی عالمی سٹیبلشمنٹ کے پریشر میں تھیں خاص کر حکومتی جماعت کیونکہ ان کی طرف سے کوئی واضح پالیسی یا مذمتی بیانات سامنے نہیں آئے تھے آرمی چیف کے رضا مند نہ ہونے کی وجہ سے پٹھان کوٹ میں بھارتی ائیر بیس پر حملہ ہو جاتا اور بھارت بلا تاخیر پاکستان پر الزام لگا دیتا ہے جس کے رد عمل میں پاکستانی وزیر اعظم بھی بلا تاخیر اس بات کا حکم جاری کر دیتے ہیں کہ پاکستان خود اس واقع کی تحقیقات کرے گا اور اس سلسلے میں پاکستان سے ایک تحقیقاتی ٹیم بھارت جائے گی۔لیکن بھارتی خفیہ اداروں کی کچھ شرائط جاری کی جاتیں ہیں اور ان میں سے ایک شرط یہ بھی ہو تی ہے کہ اگر پاکستانی تحقیقاتی ٹیم بھارت آئے گی تو ہم اسی صورت میں اسے تحقیقات کرنے دیں گے کہ جب وہ پاکستان آئیں تو انہیں کلبھوشن یادیو تک رسائی دی جائے لیکن عالمی سٹیبلشمنٹ کے پورا زور لگانے کے باوجود بھی ایسا نہیں ہوتا کیونکہ پاکستان میں ایک ایسا ادارہ بھی ہے جسے پاکستان کی عزت و سالمیت اپنے تن ،من دھن سے زیادہ عزیز تر ہے ۔کلبھوشن یادیو نے ایک انتہائی دلچسپ انکشاف بھی کیا کہ وہ بلوچ رہنماؤں کو فنڈنگ کر کے ان کے ذریعے مختلف پاکستانی سالمیت مخالفت سرگرمیاں کرواتا تھا اب یہاں دیکھا جائے تو پاکستان میں بہت سے بلوچ قبائل آباد ہیں اور انہیں میں زرداری اور بھٹو قبائل بھی شامل ہیں جو کافی حد تک طاقتور ہیں لیکن ایسی کوئی بات نہ تو میڈیا کی طرف سے سامنے آتی ہے اور نہ ہی آنے دی جاتی ہے!! عوام کو صرف ایک بات کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے کہ ملک میں ملک دشمن عناصر موجود تھے لیکن انہیں کلبھوشن کی جانب سے فراہم کی گئیں معلومات کے ذریعے گرفتار کر لیا گیا ہے لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان بلوچ رہنماؤں کا کیا بنا ؟؟گزشتہ دنوں میں ایک خبر سامنے آئی کہ کابل سے پاکستان کوئٹہ میں آنے والے بارود سے بھرے ہوئے ٹرک کو پکڑ لیا گیا سوال یہ ہے کہ وہ ٹرک پاکستان کی سرحد کیسے پار کر آیا؟عالمی سٹیبلشمنٹ کی بات نہ ماننے کی پاداش میں پاکستان کو نہ صرف امریکہ بلکہ ایران ،افغانستان اور دیگر ممالک کی دشمنی بھی مول لینی پڑی جس کی وجہ سے پاکستانی معیشت پر گہرا اثر پڑا ۔حال ہی میں فوجی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو تمام تر اندرونی اور بیرونی پریشرز سے مبرّا ہو کر سزائے موت کی سزا سنائی تو بھارتی حکومت تلملا اٹھی ہے اور طرح طرح کے بیانات شروع کر دئیے ہیں بھارتی وزیر برائے خارجی امور سشما سوراج نے بھی بیان جاری کیا کہ کلبھوشن یادیو بھارت کا بیٹا ہے اور اس کی رہائی کیلئے ہم انتہائی حد تک جائیں گے اگر پاکستان نے آزاد نہ کیا تو بلوچستا ن کو ایک الگ آزادریا ست بنائیں گے یہاں پر پھر سے بلوچ قبائل پر سوالیہ نشان اٹھتا ہے کہ بھارتی وزیر اتنے اعتماد کے ساتھ کیسے یہ بات کر سکتی ہیں؟یہاں میں یہ کہوں گا کہ ایک بات واضح ہوتی ہے اور وہ یہ کہ بھارتی اداروں اور ان کے ملازمین کے درمیان کوئی مفاہمت یا باہمی ہم آہنگی نہیں پائی جاتی کیونکہ کلبھوشن یادیو کا سب کچھ اگل دینا اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اگر پاکستان اسے رہا بھی کر دیتا تو بھارت والے اسے مار دیں گے یا اس سے لا تعلقی کا اظہار کریں گے جیسا کہ شروع میں بھارتی حکومت نے کیا!اور بھارتی حکومت کو یہ تھی کہ اگر اس ایجنٹ سے بھی ہم نے انکار کیا تو کہیں جو کہانی فلمائی گئی اسکے جیسے آنے والے دنوں میں کل بھوشن یادیو کی کوئی اولاد ملکی سالمیت کے مخالف نہ ہو جائے !لیکن یہاں ایک بات اور بھی قابل غور ہے کہ ایک دن پہلے امریکی سفیر کی آرمی چیف سے ملاقات ہوتی ہے جسے یہ ہدایات ہوتیں ہیں کہ وہ کل بھوشن یادیو کے بارے میں ضرور بات کرے جس پر امریکی پالیسیاں بھی واضح ہیں اور دوسرے ہی دن آرمی چیف وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کرتے ہیں اور کل بھوشن یادیو کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جاتا ہے جس کے بارے میں خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ کل بھوشن یادیو کے کیس میں سندھ طاس معاہدہ یا کچھ اور بنا کر مصالحت کر لی جائے گی اور کل بھوشن یادیو کو رہائی مل جائے گی لیکن پھر بھی اب تک پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انتہائی ذمہ دارانہ داخلی اور خارجی پالیسیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف عوام میں اپنا اعتماد قائم رکھا ہے بلکہ محب وطن ہونے کا ثبوت بھی دیا ہے لیکن کلبھوشن یادیو کو پھانسی دینے کے ساتھ ساتھ اس تصفیہ طلب بات پر بھی غور کریں کہ ملک میں ہی موجود ان بلوچ رہنماؤں اور بھارتی جاسوس کی تفتیش کے نتیجے میں ملنے والی معلومات پر بلا تفریق کاروائی کر کے ملک دشمن عناصر کو جلد از جلد حراست میں لیا جائے کیونکہ ہمارا ملک ہمیں اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے۔















Leave a Reply