پانی : توانائی ، صنعت ،صحت ، زراعت اور زندگی ۔۔۔۔ تحریر: محمد ممتاز بیگ، رحیم یار خان

Muhammad Mumtaz Baig

پانی کی ایک ایک بوند زندگی ہے۔اس کرۂ ارض پر دو تہائی پانی اور ایک تہائی خشکی جبکہ پینے کے قابل پانی کی مقدار صرف اڑھائی فیصد ہے اور اس میں سے بھی بہت معمولی 0.14فیصد پانی کی شکل میں اور باقی ماندہ گلیشےئر اور برف کی صورت میں موجود ہے جو فوری طور پر پانی میں منتقل نہیں ہو سکتا۔دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے اور اسی بناء پر دنیا میں ہر ایک منٹ میں ایک بچہ پانی سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے مر جاتاہے۔ دنیا کی دو تہائی آبادی والے تین ممالک چین، ہندوستان اور پاکستان جو زراعت کے حوالہ سے بھی اہم جانے جاتے ہیں پانی کی شدید ترین کمی کا شکار ہیں۔موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث برف پگھلنے اور میٹھا پانی پیدا ہونے کا عمل آہستہ آہستہ کم ہو رہا ہے۔
1993سے اقوام متحدہ ہر سال 22مارچ کو پانی کے عالمی دن کے طور پر مناتی ہے جس کا مقصد دنیا کو پانی کی کمی اور اس کی اہمیت کا احساس دلانا ہے۔ایک عام انسان کو ایک دن میں 7.5لیٹر سے 20لیٹرصاف پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ دیہی علاقوں میں پانی کی کمی ، عدم دستیابی کی وجہ سے دنیا میں ہر ہفتہ 10لاکھ لوگ شہروں میں منتقل ہو رہے ہیں۔صحرائی علاقوں کی خواتین اور بچیاں دن میں کم از کم 6گھنٹے روزانہ دور دراز سے اپنے گھر والوں کیلئے اپنے سر، کمر اور کندھوں پر 40پونڈ وزنی پانی اٹھا کر لاتی ہیں۔
زراعت، صنعت ،صحت، توانائی غرض یہ کہ ہر شعبہ زندگی میں پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔کاغذ کی ایک شیٹ بنانے پر 10لیٹر پانی،500گرام پلاسٹک بنانے پر 51لیٹر اور ایک کار بنانے پر ایک سویمنگ پول بھرنے جتنا پانی استعمال ہوتا ہے اور انڈسٹری کی پانی کی ضروریات 2050تک 400فیصد مزید بڑھ چکی ہونگی۔صنعتی شعبہ پانی کے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کی بجائے اپنی پیداوار بڑھانے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔میٹھے پانی کا 70فیصد زراعت کے شعبہ میں استعمال ہوتا ہے جسکے باعث دنیا کی 20فیصدزرعی زمینیں سیم کا شکار ہو چکی ہیں۔ایک کلو چاول پیدا کرنے کیلئے 3500لیٹر پانی اور گائے کا ایک کلو گوشت حاصل کرنے کیلئے 15000لیٹر پانی خرچ ہوجاتا ہے۔۔زراعت کی ضروریات میں2050 تک پانی کی طلب میں 100فیصد اضافہ کی توقع ہے۔ یورپ اور امریکہ میں ایک انسان دوپہر تک اتنا پانی استعمال کر لیتا ہے جو افریقہ، تھراورقبائلی علاقوں کے باشندے کی ایک ماہ کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ پاکستان میں صرف 18فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر ہے اور 30فیصد بیماریوں کی بنیادی وجہ آلودہ پانی ہی ہے۔ لگ بھگ 650بچے روزانہ صاف پانی نہ ملنے کی وجہ سے وطن عزیز میں موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اللہ تعالی نے ہمارے ملک کو زیرزمین کے علاوہ بالائے زمین بھی پانی کثرت سے عطا کیا ہے جسے ہم اپنی نا اہلی کی وجہ سے ضائع کر رہے ہیں۔معمول کے مطابق ملک میں بارش کا موسم دو دفعہ آتا ہے اور بارشوں ،آبشاروں اور پہاڑی ندی نالوں کا میٹھاپانی بھی منصوبہ بندی کے تحت سٹور کرکے باقی کے خشک دنوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے ڈیم ا س سلسلے میں زیادہ کارآمد ہو سکتے ہیں جو کم لاگت، کم جگہ اور کم وقت میں ہماری ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔منگلہ، تربیلا اور وارسک ڈیم کے بعد ہمارے پاس پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی بڑا ڈیم نہیں جسکی وجہ سے 3 کروڑ80لاکھ ایکڑ فٹ میٹھا پانی ہر سال سمندر میں دھکیل دیا جاتا ہے۔سیلابوں سے ہونے والا جانی اور مالی نقصان اس کے علاوہ ہے۔ آبی ذخائر کی ضروریات اور انکی تعمیرخالصتاایک تیکنیکی معاملہ ہے جس پر پیشہ ور ماہرین کے علاوہ کسی کو بولنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اجتماعی اوروسیع ترملکی مفاد میں سیاسی اور قوم پرست لوگوں کی دھمکیوں پر غور کرنے کی ضرورت نہیں ہوتیْ۔
دنیا میں لگ بھگ 34لاکھ لوگ جن میں سے اکثریت بچونکی ہوتی ہے صاف پانی نہ ملنے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ایک ارب 20کروڑ لوگ یعنی دنیا کی آبادی کا 5واں حصہ پانی کی شدید کمی والے علاقوں میں زندگی گزار رہا ہے۔ترقی پذیر ممالک میں سیوریج کا 90فیصد اور صنعتوں کا 70فیصد آلودہ پانی بغیر ٹریٹمنٹ کے دریاؤں اور نہروں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اور ان علاقوں میں ہر21سیکنڈ بعد ایک انسان پانی سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے مر جاتا ہے۔ 3000قبل مسیح سے ابتک 265کے قریب خونی فساد ات پانی کے مسئلہ پربرپا ہوچکے ہیں۔
صحرائی، بارانی اور دیہاتی علاقوں میں پانی کی شدید قلت بڑے مسائل کا باعث بن رہی ہے یہاں جانور اور انسان ایک ہی گھاٹ (ٹوبہ) سے پانی پینے پر مجبور ہیں۔شہری علاقوں میں عمومی طور پر زیر زمین پانی پینے اور گھریلو استعمال کے قابل نہیں ہوتا اوپر سے فیکٹری مالکان کیمیائی آلودگی، شہری گھروں اور دکانوں کا کچرہ اور میونسپل ادارے سیوریج کا پانی ڈائریکٹ نہروں میں ڈال کرپینے کے پانی میں مزید کمی کا باعث بن رہے ہیں۔جس چیز کی قلت ہو اسے انتہائی سوچ سمجھ اور منصوبہ بندی سے استعمال کیا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔
لہذا پانی کی کمی اور اس کی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے حکومت، میڈیا، سماجی ادارے، سول سوسائٹی،علماء اورعوامی نمائندے مل کر سیمینارز اور ورکشاپس کا اہتمام اور پانی کے بارے میں شعور اجاگرکرائیں تاکہ مستقبل میں پانی جیسی نعمت کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے بصورت دیگر پانی کے عالمی اداروں اورماہرین کے مطابق پاکستان اپنی زراعت، صنعت اور انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے تیزی سے پانی کے قحط کی طرف بڑھ رہا ہے اور آنے والے 10سالوں میں کسی بھی وقت ، بجلی اور گیس کے ساتھ ساتھ پانی کی لوڈ شیڈنگ کا اعلان بھی ہو سکتا ہے۔

Short URL: http://tinyurl.com/jjk9rvo
QR Code:


One Response to پانی : توانائی ، صنعت ،صحت ، زراعت اور زندگی ۔۔۔۔ تحریر: محمد ممتاز بیگ، رحیم یار خان

  1. Mumtaz Baig says:

    THANKS FOR PUBLISJING SUCH ARTICLES

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *