بانگ

اب یہ نہ پوچھنا کہ مرغا صبح سویرے یا دن کے مختلف اوقات میں بانگ کیوں دیتا ہے۔ ۔ اگر ہمیں سمجھ آتی تو روزانہ کی دی جانے والی بانگوں سے ہم سبق حاصل کرتے۔ اپنی بانگ کب سے بھول چکے ہیں کچھ یاد نہیں پڑتا ۔ وجوہات بیان کرنے بیٹھ جائوں تو ڈر ہے کہ کہیں الزام نہ آئے کہ اپنی ہی بانگ دئے جا رہا ہوں۔ بانگ تو وہ تھی جب نہ کہی گئی تو صبح نہ ہوئی تھی ۔شائد یہی بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔ کھٹکنے لگی تھی یہ بات دشمنوں کو اور چال انہوں نے ایسی چلی کہ دھیرے دھیرے اس بانگ کی جگہ عدو نے ایسی آوازوں کو شامل کیا کہ بانگ کے اثرات کم ہوتے گئے اور بانگ دینے والوں کو صبح نمودار نہ ہوئی والی قوالی ہی مزیدار لگنے لگی ہے ۔ ۔بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ اتنا سب کچھ کرنے یا ہونے کے بعد بھی جو بانگیں دی جا رہی تھی ان کے دلوں کو نہ بھا ئی اور کہا گیا کہ اگر مرغے کی یہ بانگیں بھی بند نہ ہوئیں تو مرغوں کے پر نوچے جائنگے دھمکی ملتے ہی مرغوں کے چھکے چھوٹ گئے یہ جا وہ جا تھوڑے بہت جو مرغے بانگ دے رہے تھے ان کو پنجروں میں بند کرکے مرغیوں کو کھلی آزادی دی گئی ۔اب جو مرغیاں موٹی تازی ہوکر انڈے وافر مقدار میں دینے لگی تو مرغوں سے بھی یہی کہا گیا کہ مرغیوں کی طرح انڈہ دیں یہ بات تو مرغوں کے لئے قیامت سے کم نہ تھی جسے سن کر وہ بلبلا اٹھے بھلا یہ کیسے ممکن ہے۔ جان کے خطرے کے پیش نظر سب کچھ قبول کیا پر پھر بھی جان بخشی نہیں ہوئی ۔اور جس نے جان بچانی تھی اس کی طرف تو دھیان ہی نہیں گیا ۔اب یاد آرہا ہے کہ جان تو صرف وہی لے اور بخش سکتا ہے جس نے عطا کی ہے ۔ جب تک وہ نہ چاہئے کسی کی کیا مجال کہ جان لے۔اب تو نہ جان ہے اور نہ جہان ہے ۔ بس مرغوں کی جگہ مرغیوں والی کڑک کڑک ہے جسے نہ گھڑی کا الارم کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی موبائل کا ۔یہ کڑک کڑک بھی کئی لوگوں کو پسند نہیں۔اس لئے آئے روز مرغے سے نت نئے مطالبات کئے جاتے ہیں ۔ ان کا بس چلے تو وہ مرغے کو ہی ذبح کر دیں ۔اور ان کا یہ کہنا کہ مرغیوں کی طرح انڈے دینا شروع کر دو تو ایسے میں ان مرغوں کے اندر ایک احساس ابھرنے کی توقع کی جا سکتی ہے اور وہ احساس یوں ہو سکتا ہے کہ اسلام ہی ہماری بانگ ہے اور اس سے الگ ہوکر مراد پانا ایسا ہی ہے جیسے پانی بن مچھلی زندہ رہنے کی۔ان مرغوں کو اپنی بانگ دیتے دیتے قربان ہونا چاہئے تھا ۔کاش اب بھی ہم اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اپنی بھولی ہوئی بانگ کو پھر سے یاد کریں ۔














