اونٹ رے اونٹ

ایک محاورہ ہے اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی۔اگراس محاورے کو گلگت بلتستان کے تناظر میں اس طرح ترتیب دیا جائے تو میں نہیں سمجھتا کہ یہ محاورہ گلگت بلتستان کے حوالے سے مناسب نہ لگے ۔۔بلکہ مناسب کیا سو فیصد صحیح ہی لگے گا۔ تو کیوں نہ اس محاورے کو اس طرح ترتیب دیا جائے حکومت رے حکومت تیرے کونسے کام اچھے یا ان چاپلوس صحافیوں کے لئے صحافی رے صحافی تیری کونسی بات سچی ۔ایسا خیال ہمارے ذہن میں ابھرنے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے ۔اس کی ایک وجہ ہو تو بتائیں ۔ اس بات سے بھی کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ مسائل کہیں نہ ہو لیکن ان مسائل کا رونا بھی مسلے کا حل نہیں ۔عوام ہو یا حکومت سب ہی وسائل کی کمی کی شکایت کے مرض میں مبتلا ہیں ۔عوام کی طرف دیکھا جائے تو مایوسی ہی مایوسی نظر آنے لگتی ہے ان کو بس صرف اس بات کی فکر ہے کہ حکومت ہی سب کچھ کرے اور بس نوالہ ان کے منہ میں آئے۔ دوسری طرف حکومت کے گن گانے والے حکومت کی چاپلوسی کرکے اپنے مفاد کا ہی سوچ رہے ہوتے ہیں۔ اور تیسری طرف حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبے بنانے سے زیادہ صرف اخباروں کے ذریعئے عوام کو سڑکیں ، بجلی، پانی اور صحت کی سہولیات مہیا کرنے پر ہی اکتفا کئے ہوئے ہے۔وجوہات جو بھی ہوں اور ان وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو شائد کئی قرطاس درکار ہوں ۔اس محاورے سے یاد آیا کہ سابق گورنر گلگت بلتستان کو اونٹ پالننے کا شوق تھا ۔ضلع غذر کا سفر کرنے والے حضرات کو اس کا بخوبی علم ہے کہ گورنر کے یہ اونٹ بڑے مزے میں گاہکوچ نرسری میں چرا کرتے تھے اور ان اونٹوں کی خاص بات یہ تھی کہ یہ دو کوہان والے تھے یوں دیگر اونٹوں سے ایک کل کا اضافہ۔ اس اضافی کل سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سابقہ حکومت بھی اپنا جواب نہیں رکھتی تھی ۔ چونکہ محاورہ اونٹ سے ہی متعلق ہے اس لئے اونٹ کا ذکر تو ہوگا اور اونٹ ایک قیمتی اور مفید جانور بھی ہے صحرائوں اور بیابانوں میں بغیر کھائے پئے سفر جاری رکھ سکتا ہے اور اس کی سواری کا بھی اپنا ایک لطف ہے اسلامی نقطہ نگاہ سے بھی دیکھا جائے تو اونٹ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اس حوالے سے اگر حکومت کو اونٹ سے تشبیہ دی جائے تو حکومت کو منہ نہیں بنانا چاہئے بلکہ حکومت کو ہمارا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ ایک مفید جانور کے نام سے حکومت کو یاد کیا ہے ۔کیا ہوا جو اس کی کل سیدھی نہیں ۔کیوں یہ اپنی کل سیدھی کرنے میں لگ جائے اس کا کام تو عوام کی کل سیدھی کرنا ہے اور عوام کی کل کن طریقوں سے سیدھی کی جاتی ہے حکومت کو خوب آتا ہے۔جی ہاں بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے، صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم کرکے، پانی کے حصول کے لئے ترسا کر، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں میں ہچکولے دلا کر، اب آپ ہی بتائں کہ اگر حکومت یہ سب نہ کرے تو کون پاگل اس کو اونٹ جیسے مفید جانور کے نام سے یاد کرے گا














