گلیمرس گرل انوکھا کیس۔۔۔۔ تحریر: محمد رضوان خان

Muhammad Rizwan Khan

کیس بڑا انوکھا ہے لیکن حد سے زیادہ گلیمرس بھی ہے ۔کسی کا خیال ہے کہ محترمہ ایان علی معصوم ہے ۔کسی کا دکھ یہ ہے کہ یہ عورت ذات کی تذلیل ہورہی ہے ۔ کیس طول کھینچ رہا ہے جو کہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے انوکھی بات تو تب ہوتی جب کیس کا فیصلہ آنا فانا ہو جاتا ۔ ہمارے ہاں کیسز کا فیصلہ نہ ہونا ہی میرٹ ہے پیشی پر پیشی ایک ٹرینڈ ہے یہ بحث بھی بے کار ہے کہ اس کیس میں حقیقت کیا ہے ۔ محترمہ رقم لے کر جارہی تھیں یا غلطی سے رقم ان کے بیگ میں خود آگھسی۔ محترمہ اکیلی اس ایکٹویٹی میں جان کھپا رہی تھیںیا کچھ اور مقتدر شخصیات بھی ان کے ساتھ ہاتھ بٹا کر ثواب دارین حاصل کر رہی تھیں۔ اس پر تو بہت بحث ہو چکی ہے بہت کچھ لکھا اور بولا جا چکا ہے۔ ہر روز محترمہ کی فیشن میں لتھڑی ہوئی تصاویر شائع ہوتی ہیں اور ہرروز بحث لا حاصل کے نئے افق واہوجاتے ہیں ۔ ان فوٹو شاٹس میں کبھی کبھار تو ذرا سا گلیمر کا تڑکا بھی لگ جاتا ہے تو ماحول مزید گرم ہو جاتا ہے۔ خیر اس چاٹ چٹخارے کو چھوڑ کر کیا کسی نے آج تک یہ سوچا ہے کہ محترمہ جس حال میں عدالت پیشی کے لئے کیمروں سے بچنے ا ور چھپنے کا بہانہ کرتے ہوئے نمودار ہوتی ہے کیا ایک ملزم کے یہ طور انداز ہوتے ہیں ۔ انصاف تو نجانے کب ہوگا اور کیسے ہوگا ۔ پہلے اسٹپ پر ہی آغاز ناانصافی سے شروع ہے ۔ نت نئے ملبوسات زیب تن کئے فل میڈیا کوریج کے ساتھ محترمہ کا پیشی کے لئے آنا ہی ایک مضحکہ خیز فعل ہے۔ جس پر شائد کسی کے پاس غور کرنے کا وقت نہیں ہے ۔ جیل میں بھی محترمہ کو وی آئی پی ٹریٹ کیا جارہاہے۔ گویا جب جیل میں انہوں نے پوری وارڈ روب شفٹ کروالی ہے اور میک اپ پارلر بنوالیا ہے تو آگے کی قصہ کہانی کو محض کاغذی کاروائی ہی سمجھا جائے افسوس کا مقام ہے کہ ہم جیل میں بھی انصاف قائم نہیں کرپارہے۔ جس کے پاس پیسہ ہے اس کی جیل بھی لگثرری اور جس کے پاس پیسہ نہیں اسکی جیل پتھر کی چکی اور عقوبت خانہ ۔ محترمہ کو جیل میں اتنا وقت اور سکون میسر ہے کہ ہر روز نت نئے خیالات اسکے ذہن میں جنم لیتے رہے ہیں ۔ کبھی وہ اپنی جیل میں گزاری ہوئی چند دن کی لگثرری لائف کے بارے میں کتاب لکھنے کا سوچتی ہیں جس کاشائد ایک باب منظر عام پر آبھی چکا ہے تو کبھی جیل میں گزارے دنوں پر فلم بنانے کا سوچتی ہیں ۔ لوگ آپس میں چہ مگوئیاں کرتے ہوئے آنکھوں کے شوخ اشاروں کے آخر میں اس کیس کے بارے میں یہی فقرہ کہتے ہیں کہ آگے کی ہوئے گا تسی فیر سمجھ تے گئے ہوگے۔ اس پر ہر بحث اور گفتگو کا اختتام ہوتا ہے۔ کیا عام قیدی بھی ایسے ناز نخروں اور ٹشن کے ساتھ عدالت پیشی بھگتانے آتے ہیں۔ کیا ان کو بھی اسی طرح سخت پہروں میں عدالت تک لایا اور لے جایا جاتا ہے۔ مہدی حسن موصوف بارڈر پار اپنے بھگوان بن جانے اور اس پار آکر کنجر کہلوانے پر اکثر خفا رہتے تھے لیکن آج تک کسی نے یہ نہیں بتایا کہ نام نہاد فنون لطیفہ کے فن سازوں کے لئے تاریخ نے کیا الفاظ استعمال کئے ہیں۔ عزت کرنے کا طریقہ اور کرائے ٹیریا پچھلے بیس سالوں میں جس قدر تیزی سے بدلا ہے اس کی رفتار تباہ کن رہی ہے ۔کیونکہ ایک وقت ایسا بھی خطرہ لگ رہا تھا کہ ان فن سازوں کو کہیں ملک کے ماتھے کا جھومر ہی قرار نہ دے دیا جائے ۔ ان کی بے ہودہ مکروہ کہانی کوایک لمحے کے لئے روک کر آپ ذرا اس باپ کے دکھ اور دل کی تکلیف کا اندازہ لگائیں جس نے بیٹے کو پالا پوساپڑھایا لکھایا ایم بی اے کروایا پھر بے روزگاری کی بھٹی میں جھونک دیا۔جب تین سال بیٹا بھٹی میں تپ کر پک کر کندن بن گیا اس پر مایوسی کی قلعی چڑھ گئی عزت نفس کا زنگ اتر گیا تو باپ نے بیٹے کو جمع پونجی اکٹھی کر کے ٹیکسی لے دی۔دونوں نے خوابوں کا سودا کر لیا۔ایک نے خواب دفن کر دےئے دوسرے نے خواب دیکھنے سے توبہ کر لی۔ہوتا اب یہ ہے بیٹا باپ کو آتا دیکھ کر گاڑی کی سکرین پر ٹاکی پھیرتا ہوا رک جاتا ہے کہ باپ یہ منظر دیکھ کر دکھ کی تکلیف سے ہمت ہار ہی نہ بیٹھے۔یہ لڑکا اور اس کا باپ یقیناًانتہائی بیوقوف ہیں ۔بجائے پڑھانے لکھانے کے اس باپ کو اپنے بیٹے کو آغاز ہی سے کسی ڈانس پارٹی میں داخل کروا دینا چاہئے تھا ۔جہاں سے وہ یہ ہنر سیکھ کر نکلتا کہ اسے پپو سمراٹ کی ری پلیسمنٹ کیسے بننا ہے۔کبھی یہ فلموں میں ہیرو آتا تو کبھی یہ رمضان میں سید بن کر رمضان پروگرامز کا ہوسٹ بن جاتا۔ ہر طرف عزت ہی عزت ہوتی کیا حرج تھا کہ منہ پر لوگ واہ واہ کرکے آٹو گراف لیتے اور پیٹھ پیچھے لائٹ سا لفظ کنجر کہہ بھی لیتے ۔ باپ بیٹا دونوں سکھی رہتے اور خوش بھی ۔ محترمہ ایان علی کو حسرت سے تکتے ہوئے پولیس والے اور والیوں کی آنکھوں میں جس قدر رشک کے ڈورے تیر رہے ہوتے ہیں وہ ہمیں یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ یہاں شریف آدمی کی کوئی عزت نہیں ۔یہاں پہلے نمبر پر عزت صرف اس کی ہے جس نے ملک کو لوٹا نقصان پہنچایاغریبوں کا خون پیا۔ دوسرے نمبر پر جنرل رانی سے لے کر ایان علی تک حسیناؤں کا ایک غول اور جھنڈ ہے جو قابل عزت ہے جو اپنی نازک صنف کو اس حد تک کیش کرواتے ہیں کہ معاشرہ ان کو رول ماڈل قرار دینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ نجانے کونسی عوامی خدمات انجام دینے کے عوض دن رات ایسے لوگوں کو پروٹوکول دیا جاتا ہے ۔ کسی کے پاس غور کرنے کا وقت ہے یا نہیں لیکن ہماری ایسی ہی بے حس حرکات کی وجہ سے نوجوان نسل تعلیمی میدان کو خیر باد کہتی جارہی ہے ۔ فیصل آباد میں جو سیلفی واقعہ پیش آیا وہ ایسے ہی ذہنی رجحانات کا عکاس ہے ۔ دونوں نوجوان جو ایس ایچ او کی فائرنگ کی زد میں آئے نجانے کس کن ٹوٹے لوکل ہیروسے متاثر ہو کر نقلی پستول لئے بیچ سڑک پوز مار کر سیلفیاں بنانے کی کوشش کر رہے تھے ۔ یہ حالات جاری رہے تو آپ کو بچوں کی وہ جنس نایا ب ملے گی جو پوچھنے پر بتائے کہ میں بڑا ہو کر ڈاکٹر انجینئر یا آرمی آفیسر بنوں گا کیوں کہ ان کی جگہ بتدریج وہ لاٹ لیتی جارہی ہے کہ جن کا آئیڈیل شاہ رخ خان ہے جو بمبئی جاکر اپنی شناخت اور پہچان بنانے کی چنتا میں گھلے جا رہے ہیں جو میرا اور وینا ملک کو بولڈ قرار دے کر ان کی تقلید کرنا قابل فخر بات سمجھتے ہیں۔ رہی سہی کسر تب پوری ہوجاتی ہے جب ایان علی جیسوں کو جرم کا مرتکب قرار دینے کے باوجود وی آئی پی پروٹوکول ملتا ہے ۔ ہم اپنی تاریخ اپنا ماضی اپنا کلچر سب بھول چکے ہیں ہم ایسے لوگ جو اپنے ماضی کو فراموش کردیں ان کا حال ان سے بے نیاز ہوجاتاہے۔

Short URL: http://tinyurl.com/js5nc7n
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *