جنگلی بھیڑےئے سردار کا چناؤ۔۔۔۔ تحریر: محمد رضوان خان

بلدیاتی الیکشن کے نام پر جاری بھیانک خون آشام مذاق ختم ہو چکا ہے۔تین ماہ پہلے اپنے آبائی شہر گیا تھا تو سڑکوں پر آویزاں بینرز پر مسکراتی شکلیں دیکھ کر اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ ایکسرسائز بھی سراسر مذاق ہو گی۔تمام لوفر لڑکے جن کا کام کبھی پڑھنے کے علاوہ ہر غیر اخلاقی کام سر انجام دینا تھا بلدیاتی امیدوار بن کر میدان میں اترے ہوئے تھے۔وہ جنہوں نے اسکولوں میں صرف بدمعاشی کے علاوہ کچھ نہ کیا ۔کالج میں بھی غنڈہ گردی جن کے فرائض میں شامل رہی آج وہ عوام کے مقدر کا علم تھامے کھڑے ہیں۔ شاندار تعلیمی ریکارڈ کے ساتھ سرکار نے سسٹم نے جن کو چپڑاسی تک رکھنا مناسب نہ سمجھا وہ گلیوں محلوں کی دیکھ راکھ اور ترقیاتی فنڈز کے رکھوالے بن چکے ہیں۔جمہوریت سے بہتر واقعی کوئی انتقام نہیں۔اس سے بھیانک مذاق اس صدی میں نہ ہوا ہے نہ ہو گا۔کتنے مر گئے کتنوں کے سر پھٹ گئے کتنے اسپتالوں میں داخل ہیںیہ باتیں بالکل اہم نہیں ہیں۔ہمیں تو ایک بات یاد ہے کہ برطانیہ نے بھی یہ گراس روٹ نظام اپنایا ہوا ہے۔اس کے علاوہ نہ ہمیں کچھ یاد ہے نہ ہمارا یاد کرنے کو دل چاہتا ہے۔جسطرح ہمارے ہاں الیکشن ہوتے ہیں وہ جمہوریت کے منہ پر لعنت ملنے کے لےئے کافی سے زیادہ ہوتا ہے۔اگر ۵ دسمبر کو میں حجام کے پاس بال کٹوانے نہ جاتا تو اس مکروہ جمہوریت کا کوڑھ زدہ چہرہ دیکھے بغیر ہی بنیادی جمہوریتوں کی بحالی کا دن ڈوب جاتا۔کوئی لاٹھیاں برسا رہا ہے تو کوئی پھٹے سر پر پٹی کرواتے ہوئے چیخ رہا ہے۔جن جنگلیوں کے الیکشن تک رینجرز پولیس کے سائے میں ہوتے ہوں ان کے منہ سے جمہوریت کا لفظ ایک گالی محسوس ہوتا ہے۔دھاندلی کا خالی شور نہیں مچتا یہ ہوتی بھی ہے۔اس بار کہیں الیکشن کمیشن کا عملہ تونہ پہنچ سکامگر بیلٹ پیپرز مہریں اور ڈبے پہنچ گئے۔پولنگ ایجنٹس نے باہمی مشاورت سے پریذایڈنگ آفیسر کا فیصلہ کر لیا۔یوں منصفانہ الیکشن کا انعقاد شروع ہو گیا۔اسے بلدیاتی کہنا غلط اور ڈانگ سوٹا الیکشن کہنا ٹھیک اور جائز ہے۔پہلے ہی کیا چور ڈاکو کم تھے کہ عوام نے مزید چندی چور خوشی خوشی اپنے سر مسلط کر لےئے ہیں ۔ایک حجام تک جانتا ہے کہ ایسے بیہودہ اور غلیظ طرز پر مہذب دنیا میں کہیں انتخابات نہیں ہوتے ۔بائیو میٹرک سے آگے کی انفارمیشن حجام کو تو ہے اگر نہیں ہے تو الیکشن کمیشن کو نہیں۔حجام جانتا ہے کہ ووٹ خالص ذاتی معاملہ ہے دنیا میں لوگ اپنے موبائلز سے چلتے پھرتے ووٹ کاسٹ کر لیتے ہیں۔ایک دوسرا حجامت کا منتظر گاہک بولا کہ مہذب چائنا والے ہمارے پڑوسی صبح ڈبے رکھ دیتے ہیں شام کو اٹھا لیتے ہیں یوں تمیزدار عوام کی رائے بڑی تمیز سے ان ڈبوں میں قید ہو جاتی ہے۔اسی رائے کی روشنی میں انتخاب ہو جاتا ہے۔اس صبح حجام سمیت وہ تمام لوگ وہاں موجود تھے جو بیہودگی ،اور دھکم پیل کے اس نظام سے شدید بور ہو چکے ہیں ۔اس روز دن کے خاتمہ پر آٹھ بجے کے قریب میں ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں بیٹھا دوست کے چائے کا انتظار کر رہا تھا کہ پہلے ایک ٹولی گذری ڈھول کی تھاپ پر منچلے جوان ناچ رہے تھے اور جیتنے والے لاڈلے کو کاندھوں پر اٹھائے تھے دوست نے بتایا کہ یہ کندھوں پر سوار صاحب ان کے وارڈ سے کونسلر منتخب ہوئے ہیں ۔اتنے میں ایک اور ٹولی بھی جاچتی گاتی آن پہنچی ۔ذرا غور کیا تو صورتحال نازک محسوس ہوئی۔کیونکہ ایک پارٹی کے ہاتھوں میں انصاف کے جھنڈے تھے تو دوسری کے حامی شیر کے نشان والے جھنڈے تھامے تھے۔میں تصادم ہونے کا انتظار کرنے لگا ۔میرے دوست نے یہ کہہ کر تسلی دی کہ اب سب کچھ نارمل ہے گندا خون دن کی گرمی اور اور مستی میں نکل چکا ہے ان ٹولیوں میں ٹھنڈے خون والے جیت کے نشے میں چور منچلے ہیں۔سنی سنائی باتیں ہیں کہ چےئر مین کو حلف لیتے ہی ڈیڑھ کروڑ کی گرانٹ مل جائے گی ۔چےئر میں کی تنخواہ ساٹھ ہزار ،وائس کی تیس اور کونسلرز کی بیس ہزار مقرر کی گئی ہے۔بے روز گاروں کو عرصہ 2.5 سال کے لےئے نہ صرف مناسب روزگار مل گیا ہے ۔بلکہ تھوڑا بہت وی آئی پی چسکا اور سرکاری فنڈز کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا موقع بھی میسر آئے گا۔وہ جنہیں گھر والے کسی اہم معاملے پر بات کرتے وقت کہہ دیا کرتے تھے کہ بیٹا ذرا پانچ منٹ کے لئے گھر سے باہر جاؤ ہم نے ضروری بات کرنی ہے ۔آج ان کے ماں باپ سمیت تمام اہل محلہ ان بیکار سمجھے جانے والوں کے رحم وکرم پر ہیں۔بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے ۔خدا ایسے کام کر کے اپنا ہونا دکھاتا رہتا ہے ورنہ ہم تو اسے بالکل ہی بھول جائیں۔یہ ڈانگ سوٹا جمہوریت دیکھ کر باہر والے ہمارے اور ہماری اجلی جمہوریت کے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے یہ سوچنے کی کچھ خاص ضرورت نہیں ۔بیچارے کچھ مظلوم قسم کے بزرگ حسب عادت ہر چیز میں سے خیر کا پہلو نکالنے والے ان منی ننجا ٹرٹلز ٹائپ الیکشن میں سے بھی خیر کا پہلو نکلنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں ۔ان کی معصومیت کا خون کرنے کے لئے عرض ہے کہ پہلے تو منتخب ہونے والے لیٹ نکالیں گے۔جو انہوں نے انویسٹ کیا ہے اس پورا کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں ماریں گے۔اسی مارا ماری میں دو سال پورے ہو جائیں گے۔زیادہ امید تو یہی ہے کہ برتھ اور ڈیتھ سرٹیفیکیٹ کے علاوہ عوام کے ہاتھوں کچھ نہیں آپائے گا۔دوران الیکشن ایک ماسی نے اطلاع دی کہ ایک ووٹ کے بدلے تین ہزار ملے ہیں ۔رات کو ایک ٹی وی چینل پر اس کی تصدیق ہو گئی کہ ووٹ کی تصویر بنائیں دکھائیں اور تیں سے پانچ ہزار تک وصول کریں۔جو نقد لے کر مان گئے وہ فائدے میں رہ جائیں گے۔جن کو وعدہ حور پر ٹرخا کر ووٹ دلوائے گئے ہیں وہ بیچارے اب دن رات چپلیں گھسائیں گے۔جوش و جزبے کے سوا اس سر پھٹول میں تھا ہی کیا جو بیان کیا جائے۔شریف پڑھے لکھے لوگ پہلے کی طرح یا تو خوف زدہ ہو کر الیکشن ہی نہیں لڑ پائے جنہوں نے لڑا وہ خرچہ نہ کر سکنے کی وجہ سے ہار گئے۔جنہوں نے شرافت بھی داؤ پر لگائی خرچہ بھی کیا جیت بھی گئے وہ سب سے زیادہ پریشان ہیں کہ خرچہ نکالیں شرافت کو بٹہ لگائیں اہل علاقی کی گالیاں سنیں کریں تو کیا کریں ۔ہم نے کچھ نہ بدلنے کی قسم کھائی ہوئی ہے ۔ان لواحقین سے دکھ کا اظہار جن کے پیارے الیکشن نامی جنگ و جدل میں بے مقصد جہان فانی سے کوچ کر گئے ۔ان کے جانے سے بھی گلشن کا کچھ نہیں بدلے گا ۔الٹا پہلے سے بھی ابتری کی جانب گامزن ہے۔اس الیکشن نے دکھا دیا کہ ہم ،ہماری سوسائٹی برہنہ ظلم کے رقص میں مگن ہے اس کے زخم مندمل کرنے کی سعی کرنے والے خود بھی گھائل ہو جاتے ہیں ۔اس کے برہنہ وجود کو ڈھانپنے والے خود اپنی عصمت دری کروا بیٹھتے ہیں ۔ہمارے خوں میں وفا نہیں۔
وفائیں خون میں ہوتے ہیں صاحب
بندے تو سب خاک کے ہوتے ہیں۔















Leave a Reply