بے حس معاشرہ

Shahid Iqbal Shami
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: شاہداقبال شامی


گھر معاشرہ حتیٰ کہ ملک بھی تباہ و برباد ہوجاتے ہیں جب ان سے عدل وانصاف کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتاہے،تباہ وبربادی سے مراد صرف یہ نہیں کہ ملک میں خانہ جنگی ہو،امن ندارت ہوجائے،اشیاء صرف کنٹرول سے باہر ہو جائیں فصلیں تباہ وبرباد ہو جائیں،نہیں! بلکہ اصل تباہی معاشرے میں بسنے والوں کے رویہ میں منفی تبدیلیاں ہے۔جس کی وجہ سے وہاں پر بسنے والوں کا چین و سکون چھن جاتا ہے،رشوت عام ہوجاتی ہے،ناجائز منافع کو اچھا سمجھاجانے لگتا ہے،سب کچھ جانتے بوجھتے خاموش رہنے ہی میں عافیت محسوس کرنااوراس سے بڑھ کر تباہی اورکیا ہوسکتی ہے کہ گناہ ،ظلم ،ناانصافی وزیادتی کو ہوتے ہوئے دیکھے اور اس کی مذمت نہ کرے اورتواورظالم ،مجرم،چور،لٹیرے اور گنہگار کے ساتھ تعلقات رکھنا،اٹھنابیٹھنااعزاز سمجھنے لگے ،میرے خیال سے معاشرے کی تباہی اس سے بڑی اور کوئی نہیں ہو سکتی،اس کے پیچھے جہاں اور بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں وہاں سب سے اہم عدل وانصاف میں توازن کا بگڑجانا ہے،جیسے جیسے نظام عدل کمزور ہوتا جائے گا ایسے ایسے معاشرہ تنزلی کا شکار ہوتا جائے گا۔اگر معاشرہ کو قائم ودائم اور پرسکون رکھنا ہے تو اس ملک کے نظام عدل کو تبدیل کرنا ہو گا،ایسا نظام عدل جہاں انصاف کے تمام تقاضے پورے ہوتے ہو،جہاں امیرغریب،کمزوروطاقتور میں کوئی تسخیص نہ ہو،جہاں امیر کو جلدی انصاف اور غریب کو “پیشی”پر نہ ٹرخایا جائے بلکہ مجرم جو بھی ہو جیسی بھی حیثیت کا مالک ہو اس کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔
ہمارے ملک کا نظام عدل مسلسل تنزلی کا شکار ہے لوگوں کا عدالتوں سے اعتبار اٹھ چکا ہے،عدالتیں اپنا وقار کھو چکی ہیں،ہماری عدالتیں برسوں کسی عام سے مسئلے کا فیصلہ نہیں کرپاتی مسلسل اس کو لٹکاتی ہی رہتی ہیں،کسی کو14سال اور کسی کو20سال بعد باعزت بری کر دیا جاتا ہے اتنے سال بعد جب کسی کو باعزت بری کیا جاتا ہے تو کیا ایسا کوئی قانون،کوئی ادارہ ہے جو عدالتوں سے پوچھے کی جب یہ شخص مجرم نہیں تھا تو اس کو اتنا عرصہ جیل میں کیوں رکھا گیا؟ان کی جوانی کی اتنی بہاریں جیل کی نذر ہوچکی ہیں اب اس کو اس کا کفارہ کون ادا کرے گا؟ایک طرف بے گناہ کو جیل میں گلنے سڑنے کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے تو دوسری طرف گہنگار کو راتوں رات”زم زم”سے غسل دے کر پاک کر کے “باعزت”گلے میں پھولوں کے ہار ڈال کر وہی وحشیانہ زندگی گزارنے اور دوبارہ وہی جرم کرنے کیلئے کھلی چھٹی دے دی جاتی اب وہی مجرم جو باعزت زندگی گزارنے کیلئے آزاد ہوتا ہے اورقانون، عدالتوں اور جیل کا اس کو کوئی خوف نہیں ہوتا پھر وہ کھلم کھلا جرم کرتا ہے اور شریف لوگ صرف استغفار کرتے رہتے ہیں اور قدرت کی طرف سے اس کی سزا کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔
ایسا ہی ایک “باعزت”مجرم آج کل ہمارے گاؤں کی گلیوں میں “شریفانہ”گھومتا ہوا نظرآتا ہے اور لوگ صرف یہ کہہ کر مطمئن ہے کہہ اگر عدالت نے باعزت بری بھی کر دیا ہے تو قدرت نے سزا بھی تو دنیا میں دے دی ہے،جب میں نے پوچھا کہ قدرت کی طرف سے اس کو کیا سزا ملی ہے؟ تو بتایا گیا کہ دیکھو جی! یہ سزا نہیں تو اور کیا ہے؟جوگلیوں میں اکیلا گھومتا رہتا ہے،کسی سے کوئی بھی بات نہیں کرتا صرف کتوں کو پتھر مارتا رہتا ہے۔میں نے استفسا رکیا کہ کیا اتنے بڑے جرم بلکہ جرائم کی سزا بس اتنی سی!جواب ملا بس جی ہم کیا کر سکتے ہیں عدالت نے بری کر دیا ہے اب ہم تو قانون پسند شہری ہیں ،قانون کے خلاف تو کچھ نہیں کر سکتے عدالتیں بہتر جانتی ہیں کہ کس کو سزا دینی ہیں اور کس کو آزاد کرنا ہیں،ہم تو کمزور،ضعیف ،غریب تو بس دعا ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ اسلامی نظام کی بہاریں دکھا دے میں نے کہا جناب اسلامی نظام دعاؤں سے نہیں آتا اگر دعاؤں سے آنا ہوتا تو ہمارے لاکھوں علماء اورعوام دن رات مصلوں و حجروں میں اٹھتے بیٹھتے دعائیں ہی تو مانگ رہے ہیں اب تک توآ جانا چائیے تھا لیکن اللہ کا بھی اپناایک قانون ہے جو اس کے خلاف نہیں کرتاقارئین یہ موضوع پھر کبھی سہی! اس وقت تو میں آپ کو ایک بدبخت بدکردارشخص کی زندگی کے ان پہلوں سے روشناس کرا رہا تھا ،اس کے جرائم کی تفصیل کافی طویل ہے اس سے پہلے بھی”بدفعلی” کے جرم میں جیل کاٹ چکا ہے۔
اب جو جرم اس بدبخت شخص نے کیا ہے ایسا قبل از اسلام میں ہوتا تھا ،ایک بڑا مشہور واقعہ جب حضوراکرم ﷺ کی بارگاہ میں ایک شخص حاضر ہوا اور بچی کو زندہ درگر کرنے کا واقعہ سنایا تو رحمتہ ا لعالمین ﷺ زاروقطار رونے لگے صحابہ اکرام کے آنسو لڑیوں کی مانند بہنے لگے،ویسا ہی واقعہ شینباغ کی سرزمیں جب اعجاز ملعون نامی شخص نے ایک عورت جس کے ساتھ اس کے ناجاعز تعلقات تھے،اس کو قتل کر دیا اگر بات صرف قتل تک ہوتی تو کوئی خاص بات نہیں تھی کیوں کہ ہمارے ہاں ایسے واقعات اب تو تسلسل سے ہونے لگے ہیں لوگ اب ایسے واقعات دیکھ اور سن کر ٹس سے مس نہیں ہوتے،بات اس سے بہت آگے کی تھی اس مردود شخص نے اس عورت کے ساتھ ساتھ اس کی 3سالہ بچی کو زندہ دفن کردیا اور جب میڈیکل رپورٹ آئی تو معلوم ہوا کی وہ عورت حاملہ بھی تھی کہاں گئے اسلام کے ٹھکیدار اور کہاں ہیں؟ انسانی حقوق کے علمبردار؟نہ زمین ہلی اور نہ ہی آسماں پھٹااورتو اور اس معاشرے میں بسنے والے نام نہاد زندہ لوگو ں کے آنسو تک نہ نکلے پہلے پہل جب اس واقعہ کا شور اٹھا تو گھرگھر اس کا ذکر عام ہوا توان بدبودارکردار والے لوگوں نے عجیب وغریب منطقی دلیلیں پیش کرنی شروع کی کہ اتنا بڑا کام ایک شخص کے بس کا نہیں جب آلہ قتل برآمد ہوا لاشیں نکالی گئیں اور میڈیکل رپورٹ آئی توکہنے لگے یار شکل سے تو ایسا نہیں لگتا تھا چلو اب قانون اس کو خود سزا دے گااور جب قانون نے پیسے لے کر”راضی نامہ” کی شکل میں قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے باعزت بری کر دیاتو اب کہتے ہیں کہ اس شخص کو قدرت ہی سزا دے گی،کیا سب کام قدرت نے ہی کرنے ہیں؟ ہمارے ذمہ کوئی کام نہیں ہمیں کیوں پیدا کیا گیاہے؟اس سوال کا جواب جس کسی کے پاس ہے ازراہ مہربانی مجھے مطلع فرمادیں تاکہ مجھے بھی سکون میسر آ سکے۔
اس واقعہ کا ہمارے مردہ معاشرے پر کوئی اثر نہیں ہواہر شخص اس کو رحم کی نظر سے دیکھتا ہے ہاں کیوں نہ دیکھے جس سب کا ضمیر مرچکا ہو یا مرنے کے قریب ہو وہ اس کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا ہے پر میرا ضمیر ہر وقت مجھے ملامت کرتا رہتا ہے جب بھی اس کا ذکر بد ہو، کہیں دور سے بھی اس منحوس پرنظرپڑ جائے میرااندر زخمی ہو جاتا ہے میں بھی کیا کرو اس ضمیر کے ہاتھوں مجبور ہوں بہت تھپکیاں دی پر یہ بھی کچھ ایسا ڈھیٹ ہے سونا تو دور کی بات اونگھتا بھی نہیں،جب سے یہ واقعہ ہوا ہے اس وقت سے میرا کلیجہ چھلنی ہے اب اپنے زخم آپ کے سامنے رکھ رہا ہو کہ شاید کچھ مداوہ ہو جائے۔

Short URL: http://tinyurl.com/hmz2y5q
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *