قائد ہمارا ہے

Shahid Iqbal Shami
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: شاہداقبال شامی


پاکستان اولیاء کا فیضان ہے ،علماء کی محنتوں کا ثمر ہے،قائداعظم محمد علی جناع کی تربیت علماء حق نے فرمائی،قائداعظم بات کرنے سے پہلے علماء سے مشورہ لیا کرتے تھے۔پاکستان مولانا فضل الرحمن،الیاس قادری،حافظ سعید،سراج الحق اور ساجد نقوی کے بابرکت وجود سے باقی ہے،جب تک ان مقدس لوگوں کے دعوے دار باقی ہیں پاکستان اس وقت تک سلامت رہے گا،جیسے ہی ان عظیم الشان ارواح کی تاثیر ختم ہوگی پاکستان کی بربادی کا آغاز شروع ہو جائے گا،اب بھی ملک عزیز میں جو تھوڑی سی بد امنی ہے یہ علامہ طاہر القادری صاحب کے وجود مسعود کے پاکستان سے باہر ہونے کی وجہ سے ہیں۔
قائداعظم دنیا کے واحد شاگرد ہیں جو کبھی موجودہ دعوے داروں کے اکابر کی خانقاہوں میں علم کی پیاس بجھانے نہیں گئے بلکہ علم کے دریا خود ان کے پاس آتے تھے اور ان کی علمی پیاس کو بجھاتے تھے ،اب جو وقت کے اماموں نے یہ جو لوگوں کے گھروں میں جا کر پڑھانا شروع کیا ہے یہ اپنے اکابر کی تقلید ہی ہے ان کی ایک اہم بھولی بسری سنت ہے،کیونکہ امام العصر جانتے ہیں کہ جو جاندار مردہ ہو جائے اس پر پہلے تو کیڑے پڑتے ہیں پھر بدبو سے سارا ماحول متعفن ہو جاتا ہے ،اس لئے ماحول کو معطر کرنے کیلئے اپنے بڑوں کی پرانی اور بوسیدہ سنت کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے اس ہی طرز پر اپنے کام کا بیڑہ اٹھایا ہے ،ایک طرف تو یہ نیک کام دوسروں تک پہنچ رہا ہے لوگ جوق درجوق اس اہم کام میں شامل ہو رہے ہیں تو دوسری طرف اکابر کی ارواح کو سکون میسر آرہا ہے،اس کے بدلے جو پیسے لیئے جاتے ہیں وہ اس عظیم کام کو منتقل کرنے کا نہیں اور نہ ہی معاوضہ ہے بلکہ اس لئے کہ ان کے اندر اس کام کی قدر باقی رہے۔
قائد اعظم بارہا دفعہ دارالعلوم دیوبند کے پاس سے گزرے ایک باربھی اندر نہیں گئے یا اس طرف دیکھ کر مسکرائے نہیں یا انہیں اس طرف سے علم کی خوشبو نہیں آئی تو کیا ہوا غصہ بھی تو نہیں فرمایااور نہ ہی ممانعت فرمائی بلکہ سکوت فرمایا یہی ہمارے حق کے ہونے کی نشانی ہے ،قائد نے تحریک خلافت کی مخالفت کی تو یہ ان کی سیاسی مجبوری تھی اور ان کا ذاتی فیصلہ تھا اور ان کا خلافت تحریک کے حمایت نہ کرنا ایک طرح سے تو مسلمانوں کے لئے فائدہ مند ہی ثابت ہوا،کیونکہ تحریک خلافت انتہائی بری طرح ناکام ہوئی ہوگئی تھی اگر قائد بھی اس وقت ہمارے ساتھ ہوتے تو دشمن نے تو ہمارے اوپر یلغار کر دینی تھی پہلے ہی ہم تھوڑی مشکل میں تھے پھر تو کہیں کے نہ رہتے،ہمارا کانگریس کا ساتھ دینے کا فیصلہ اصولی اور شورائی تھا اور ایک طرح کا جمہوری بھی تھا کیونکہ اس وقت اکثریت کانگریس کے ساتھ تھی اس کے باوجود بھی ہم قائد کے ساتھ ساتھ رہے اس سے بڑی اور واضح مثال کون سی ہو سکتی ہے جب قائد ناراض ہو کر ملک سے چلے گئے تو خواب بھی تو ہمیں ہی آئے نا!پاکستان بننے کے بعد لیاقت علی خان کے کہنے پر پرچم لہرایا اور جنازہ پڑھانے کے خواب بھی ہمارے ہی اکابر کو آئے آج بھی جو لوگ ہم پر کانگرسی ہونی کی پھبتی کستے ہیں اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتااور نہ ہی ہمیں شرمندگی ہے کیونکہ ہم غلطی پر بھی ہوں تو ہمیں ایک نیکی ملتی ہے۔پاکستان بننے کے بعد ہمارے ہی اکابر تھے جنہوں نے یہ تاریخی فتوی دیا تھا کہ پاکستان ایک مسجد کی مانند ہے اب دیکھیں اس ملک میں سب سے زیادہ مسجدیں ہماری ہی ہیں اس لئے پاکستان پر بھی سب سے زیادہ حق ہمارا ہے۔
قائداعظم اہلسنت بریلوی میں سے ہیں اس کی واضح مثال یہ ہے کہ بارہا دفعہ ہم نے ان پر کفر کا فتوی لگایااور ہم نے ہی نہیں پوری دنیا نے دیکھا کہ ان کے ماتھے پر بل تک نہ آیا اور اپنے غصے کا اظہار تک نہ فرمایااور نہ ہی بذبان خود اپنے مسلمان ہونے کا ڈھنڈوراپیٹابلکہ اپنے دفاع پر بھی کچھ نہ کہااس سے ثابت ہوتا ہے کہ قائد کا تعلق بریلویت ہی سے تھا۔کیونکہ اپنوں ہی پر گھٹیا الزام لگائے جاتے ہیں ،دشمنوں کو کون پاگل للکارتا ہے اور مقابلے میں اپنے ہی خاموشی اختیار کریں تو سمجھ لیناچایئے کہ وہ اپنا ہے وگرنہ دشمن ہوتے تو یا جو ہم نے جو الزام تراشیاں کیں وہ سچ ہوتیں تو قائد اپنی صفائی میں کچھ نہ کچھ ضروربولتے یہی ان کے علماء بریلوی سے تلمیذ ہونے کی واضح نشانی تھی کہ وہ صرف خاموش رہے اگر واقعہ کافر ہوتے تو جواب میں ہمیں بھی کوئی سخت دھمکی دیتے یا عملی قدم اٹھاتے کیونکہ اس وقت ان کے ساتھ لاکھوں فرزندان توحید ان کی ہر بات پر جان لٹانے والے موجود تھے ان کے ایک اشارہ پر دربار بریلوی کی ایک ایک اینٹ پیس کر رکھ دیتے ہم تو صرف کفر کے فتوے لگا کر یہ چیک کررہے تھے کہ وہ پکے مومن ہیں یا ابھی کوئی کمی رہتی ہے لیکن وہ ہماری امیدوں پر پورے اترے وہ پکے سچے اور کھرے عاشق رسول تھے اس کی ایک اور واضح مثال تو دنیاکے سامنے موجود ہے کہ غازی علم الدین کے کیس کی پیروی انہوں نے پوری جانفشانی سے کی۔قائد کے خلاف ہمارے پیروں نے فتوے جاری کئے اور جاگیریں وصول کیں تو اس سے ان کے بریلوی ہونے پر کمی کوئی نہیں آئی وہ زمینیں جو ہم نے انگریزوں سے فتووں کے عوض لی تھیں وہ آج پاکستان ہی کے کام آرہی ہیں،اگرقائد فتووں سے گھبرا گئے ہوتے یا بریلویت سے توبہ تائب ہو گئے ہوتے تو سب کے سامنے اعلان کر دیتے وہ ڈرتے تو کسی سے نہیں تھے حق بات توڈنکے کی چوٹ پر کرتے تھے اس کے باوجود بھی بارہ ربیع الاول کو اپنا سرکاری بیان جاری کر کے اپنا میلادی ہونا ثابت کر دیا۔
قائداعظم اثنا عشریہ شیعہ ہیں اس کی لاکھوں وزنی دلیلیں موجود ہیں سب سے پہلے تو نام کو ہی لے لیں کیونکہ علی نام پر تو صرف ہمارا ہی لائسنس جاری ہوا ہے اور تو اور ان کی بہن کا نام بھی فاطمہ ہے ان دو ناموں کے علاوہ ہمارا مذہب مکمل نہیں ہوتا ہم اپنے مذہب کے اہم نام کسی دوسرے کو کب رکھنے دیتے ہیں پھر دوسری طرف دیکھیں قائد نے ابتدائی تعلیم بھی تو ہمارے ہی برانڈ کے ادارے سے حاصل کی کیا ہوا جو اپنی تمام زندگی کبھی امام بارگاہ تشریف نہیں لے گئے ،ماتم کرنا تو دور کی بات کبھی کسی ماتمی پارٹی کو دیکھ کر یا محرم کے دنوں میں ہمارے قائدین کی طرح صرف آہستہ سے ہی دل پر ہاتھ نہ لگایا ہوا تو کیا ہوا ،یہ بھی کوئی خاص دلیل نہیں کہ ایک دفعہ تحریک پاکستان کے اہم جلسہ میں جب نواب صاحب محمود آباد نے واقعہ کربلابیان فرمانا شروع کیا تو قائد مسکراتے ہوئے کہنے لگے اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے لیکن مائیک پر آکر تو کچھ نہیں کہا اور نہ ہی ناگواری کا اظہار کیا
اور نہ ہی نواب صاحب کوآئندہ ایسا کام کرنے سے منع کیا یہ علیحدہ بات ہے کہ نواب صاحب اپنے مقاصد کو تکمیل نہیں دے سکے بہرحال وہ پکے شیعہ تھے ان کا اہل سنت سے کوئی تعلق نہیں۔
علامہ مودودی صاحب نے بھی پکا جماعتی جانچنے کے لئے ہی ساری محنت کا رخ ان کی طرف موڑا اور رات دن ان کی کردار کشی کی اور ان کو استعمار کا ایجنٹ ثابت کرنے کا اس جگہ کا زور لگایا جس کی طاقت صرف لیٹرین میں ہی کام آتی ہے،لیکن قائد اپنے کردار میں ،قول و فعل میں کھرا نکلا یہ پکا جماعتی ہونی کی نشانی ہے اس لئے ہم نے پاکستان بننے کے بعددعوی کیا کہ پاکستان بنانے میں سب سے اہم کردار ہمارا تھا۔اس وقت پاکستان کی مخالفت اور قائد کی کردار کشی ہم صرف قائد کو مضبوط بنانے اور عوام کو حقیقی راہ دکھانے کیلئے کرتے رہے نہیں تو ہم آج جتنے سچے ہیں اس وقت اس سے کہیں زیادہ تھے ہم نے اپنی صلاحیتیں قائد کو کندن بنانے کیلئے صرف کیں،پس ثابت ہوتا ہے کہ قائد اعظم جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے تھے۔

Short URL: http://tinyurl.com/hg4lf4a
QR Code: