سیکورٹی کے مسائل اور مبہم پالیسیاں ۔۔۔۔ تحریر: امجد ملک

Print Friendly, PDF & Email

ایک اطلاع کے مطابق ضلح اٹک میں ناقص سیکورٹی انتظامات کی وجہ سے بہت سے تعلیمی ادارے بند کر دے گئے ہیں. جن میں کچھ پرائیویٹ لاء4 کالج اور ٹیکنیکل کالج شامل ہیں.
باقی تمام تعلیمی اداروں پر بھی سیکورٹی انتظامات کے لئے پریشر بڑھا دیا گیا ہے. یعنی اپنی حفاظت کے انتظام خود کر لیں.
تعلیمی اداروں کے طلباء کو دہشت گردی سے نمٹنے کی تربیت تک دی جانے لگی ہے. ایسا عام طور پر جنگ کے دوران دیکھنے میں آتا ہے. ملکی حالت یقینن پریشان کن ہیں. لیکن اس ساری صورت حال میں حکومت اپنی ذمہ داریاں کیسے اور کس حد تک پوری کر رہی ہے ?
بڑے بڑے اخباری بیانات سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جیسے سب ٹھیک ہے , ہم سب ٹھیک کر لیں گے. لیکن حقیقت میں قوم کو حفاظت یا حفاظتی تحفظ تک نہیں دیا جا رہا. اگر صورت حال اتنی خراب ہے تو یہ صرف کاغذی کاروایوں اور ” جگاڑ ” سے حل نہیں ہوگی. اسکے لئے کوئی ٹھوس اور دیرپا حکمت عملی اختیار کرنا پڑے گی.
ایک طرف پبلک کو دہشت گردی سے نمٹنے کی تربیت دی جا رہی ہے , انھیں اپنی حفاظت خود کرنے پر تیار کیا جا رہا ہے. دوسری طرف حکومت کے اپنے اللے تللے ہمیشہ کی طرح جاری و ساری ہیں.
اربوں کی کرپشن کے سکینڈل زبان زد عام ہیں.مہنگے اور بے مقصد ترقیاتی کاموں کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے.
کیا اسکول کالج یونیورسٹیوں کو حفاظتی عملہ مہیا کرنا حکومتی ذمہ داری نہیں ?
کیا دنیا کے باقی ممالک میں ایسا ہوتا ہے ?
اس میں کوئی شک شبہ نہیں کہ کسی بھی مشکل گھڑی میں عوام اپنی حکومتوں اور حکومتی پالیسیوں کا ساتھ دیتی ہے. پاکستانی قوم ساتھ بھی دے رہی ہے اور قربانیاں بھی.
ملکی حالات کے اس نازک ترین دور میں بھی بدقسمتی سے کوئی سنجیدگی نظر نہیں آتی.حالانکہ بہت سے آپشن موجود ہیں. بہت کچھ ممکن ہے. اگر حکمران طبقہ بھی اس نازک وقت میں تھوڑی قربانی دے. اس ملک کے عوام کو تو مہنگائی , غربت , بے روزگاری نے پہلے ہی قربان گاہ پہ چڑھایا ہے.
وقت کی ضرورت یہ ہے کہ فوری طور پر غیر ضروری اخراجات بند کے جائیں , بڑے , غیر ضروری منصوبے ترک کے جائیں , غیر ضروری پارلیمانی کمیٹیاں ختم کی جائیں , وزرا اور مشیروں کی غیر ضروری نقل و حرکت پہ اٹھنے والے اخراجات کو محدود کیا جائے , غیر ملکی دوروں کو کم اور وفود کی تعداد کو کم سے کم کیا جائے , صدر , وزیر اعظم , وزرا اعلیٰ اور وزیروں مشیروں کے دفتری و دیگر اخراجات کو فوری طور پر 50 % کم کیا جائے. ملکی قرضے واپس کرنے کی چند دن کی ڈیڈ لائن مقرر کی جائے. اکنامک کاریڈور جیسے منصوبوں کے لئے زمین
کی پرائیویٹ سیکٹر میں دس دس جگہ خریداری اور پھر گورنمنٹ کو مہنگے داموں بیچنے جیسی قباہتوں پر وقت پر کوئی پالیسی بنائے جائے.
سابق وزراء اعظم , صدور اور سرکاری اعلیٰ افسران کو ریٹائرمنٹ کے بھد کی ملنے والی
سہولیات کو ختم یا کم سے کم کیا جائے.
نئی سرکاری گاڑیوں , ساز و سامان , مرمت اور تزئین و آرائش پر مکمل پابندی لگائی جائے.
ان تمام بچتوں سے ایک نئی فورس تشکیل دی جائے جو صرف تعلیمی اداروں , پبلک کی جگہوں , مساجد و مدرسوں , کی حفاظت پر مامور ہو. جو پولیس اور فوج کا بوجھ کم کرے. موجودہ حالات سے نمٹنے کے لئے چاک و چوبند ہو.
کالی پیلی ٹیکسیوں , کی بجائے نوجوانوں کو روزگار کا زیادہ بہتر و مہذب موقعہ بھی فراہم ہوگا.
پولیس و فوج کا بوجھ بھی کم ہوگا.
عوام کو احساس تحفظ ملے گا. اور یہ طویل مدتی اقدام ہوگا جو حکومتی پریشانیوں کو بھی کم سے کم کرے گا.
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ سرکاری اسکول ہیڈز کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ کنالوں پر پھیلے ایریا کو” کنڈہ تار ” لگائیں یا اسکول بند کر دیں. ” کنڈہ تار ” کا بندوبست بھی خود سے کریں. سرکاری بجٹ موجود نہیں.
کرپشن کے وقت , سہولیات اور عیاشی کے وقت سیاستدانوں اور حکمرانوں کی نظریں کہیں اور ہوتی ہیں. لیکن جب قوم پہ برا وقت آئے تو انکی نظریں بھی قوم پہ ہوتی ہیں.
الحمد لللّہ ! اس قوم نے تو ہر مشکل گھڑی میں قربانی دی ہے. جنگ ہو , قدرتی آفات ہوں , کوئی بھی مشکل گھڑی ہو , قوم اپنے اختلافات بھلا کر ہر دور میں اکٹھی ہوئی ہے.
اس وقت بھی ملک جس صورت حال سے گزر رہا ہے. قوم کی ترجیح تو امن و امان ہے , ملکی سلامتی و ترقی ہے. نون لیگ ہو , پی ٹی آئی ,پپلز پارٹی ہو یا جماعت اسلامی , سب سے ہمدردیاں یا اختلاف رکھنے والے نیچے , عام طبقہ کے لوگ آج بھی ملکی مفاد کی اچھی پالیسوں کے غیر جانبداری سے منتظر رہتے ہیں. آج بھی سب کی خوائش و تمنا , اس وطن پاک میں امن و محبت ہے.
لیکن قوم کو آج بھی سنجیدہ پالیسیوں , واضح اور دو ٹوک فیصلوں , نظر آنے والی , حکمت عملی کا انتظار ہے. قوم حکمرانوں کے خالی خولی بیانات پر خوش ہے , نہ ہی اپوزیشن کی بے جا تنقید پر , قوم کو طویل مدتی , جاندار اور واضح اقدامات کا انتظار ہے , تاکہ وہ حکومت , فوج اور دیگر اداروں سے مل کر , وطن عزیز میں امن کی کوششوں کا حصہ بن سکے.
اللّہ میرے وطن کو امن نصیب کرے.

674 total views, 2 views today

Short URL: //tinyurl.com/zp2n9yv
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *