! طوطا یہ کہہ کر پھر نہ آیا

Print Friendly, PDF & Email

 لیونگ روم میں بیٹھے میاں صاحب ٹی وی دیکھ رہے تھے اور بیوی موبائل پر واٹس اَپ پر پیغامات پڑھنے و کرنے میں مصروف تھیں کہ اُنکا بولنے والا طوطاخوبصورت سفید رنگ کے پنجرے میں سے اُن سے مخاطب ہوا۔ دونوں کی خوبی تھی کہ وہ طوطے کی آواز پر اُسکی طر ف دِل سے متوجہ ہوتے تھے۔ لہذابیوی بولی !ہاں طوطے میاں ۔۔
آپ دونوں جوان بھی ہیں اور بہت اچھے بھی ۔ میاں صاحب بولے !شُکریہ۔
طوطا بولا! جب سے آپ کے پاس ہوں آ پ نے خیال بھی رکھا اور جہاں دِل کیا وہاں ساتھ بھی رکھا۔آپکی آپس میں پیا ر محبت کی باتیں بھی سُنیں اور کھٹی میٹھی تکراربھی۔ دوست احباب سے تعارف بھی رہا ۔ باتیں وہی کروں گا جو آپ سب کی بولی ہے اور یہی میری صفت۔
میں چھوٹی سی جان ایک سر سبز جنگل میں رہتا تھااور بہت خوش تھا ۔ تازہ آب و ہوا اور صاف سُتھرا ماحول۔پنجرے میں قید کر کے شہر کی طرف لا یا گیاتو ماحول میں آلودگی سے دِل برداشتہ ہوا۔ لیکن پھر دِل کو تسلی دی کہ جہاں رہوں گا خو ش رہوں گا۔
پہلی منزل ایک فال نکالنے والا تھا جس نے بولنے کی خوبی پر مجھے خرید لیا۔بھوکا رکھ کر کچھ کرتب و فال کے کارڈ اُٹھانے کے طریقے سکھائے اور چند الفاظ بولنے کیلئے رٹالگائے ۔ فن جلد ہی سیکھ لیا۔لہذ ا نہ کہ وہ میرا خیال رکھتا بلکہ مجھ سے اپنے دِل کی باتیں بھی کرتا۔
وہ کہتا تم سارا دِن جن مرد ،خواتین اور بچوں کی خواہشات پوری ہو نے یا نہ ہونے کے بارے میں فال کے کارڈ نکالتے ہو اُس پر لکھے ہوئے الفاظ پر مجھے اتنا یقین نہیں جتنا وہ سب کر لیتے ہیں۔ اُوپر سے کرتب دکھاتے ہوئے جب تم اپنی توتلی زبان میں اُنکی دلجوئی کرتے ہو تو وہ ایک ایسے یقین سے واپس جاتے ہیں جیسے اُنکو اپنی تقدیر کا راز مل گیا ہو۔گو کہ یہ کمائی کا کوئی اچھا طریقہ نہیں ہے لیکن کیا کروں پیٹ کیلئے کرنا پڑ تا ہے۔
ایک دِن اُس نے یہ بھی کہا کہ جس فرد کو جواب اُسکی مرضی کا مل جاتا ہے وہ کم از کم کسی تگ و دو میں لگ کر شاید کچھ حاصل بھی کر لیتا ہو لیکن جسکو جواب اُسکی آرزؤں کے خلاف ملتا ہے وہ تو مایوسی کے سائے تلے اُمید کا دامن بھی چھوڑ دیتا ہو گا۔
اسکے بعد وہ خود بھی کچھ ایسی سوچوں میں رہنے لگا کہ ایک دِن مجھے پنجرے سمیت بس میں بھول کر سٹاپ پر اُتر گیا۔میں نے شور بھی مچایا اور نام بھی پکارا لیکن رَش اور پرانی بس کے انجن کے شور میں آواز دب گئی۔لیکن بس میں ہی کھڑے ایک چالاک شخص نے یہ کہہ کر میرا پنجرہ اُٹھا لیا کہ میں اسکے مالک کو جانتا ہوں ۔اصل میں وہ میرے بولنے کی خاصیت کو جان گیا تھا۔
وہ مجھے مارکیٹ میں بیچنے کیلئے لا یا تو آپ کی نظر پڑ گئی اور پھر میں آپ کے گھر میں ۔
یہاں سب اچھا ہے اور سکون بھی ۔آپ کے خیالات کے مطابق ایک الگ دُنیا جسکو صرف اپنی فکر ہے ۔لہذا مجھے بھی اپنی فکر پڑ گئی۔کیونکہ۔۔۔۔
میاں بیوی بڑے غور سے سُن رہے تھے۔
آپ کے گھر ہر آنے والا میری طرف ضرور متوجہ ہوتا ہے اور باتیں کر کے خوش بھی ۔ لیکن جب آپکے ایک دوست نے یہ کہا کہ” کوئل اپنی بولی بولتی ہے تو آزاد رہتی ہے اور طوطا دوسروں کی بولی بولتا ہے اس لیئے پنجرے میں رہتا ہے ” تو دِل میں ایک دفعہ پھر آزادی کی خواہش پیدا ہوئی۔
میاں صاحب بولے اب!
طوطا بولا! نہیں کچھ نہیں۔بس سمجھ نہیں آتی کہ لوگ زیادہ تر چڑیوں اور دوسرے پرندوں کو تو پیسے دے کر پنجروں سے آزاد کرواتے ہیں اور مجھے پیسوں سے خرید کر تاحیات پنجرے میں قید کر لیتے ہیں؟
بہرحال آپ دونوں ہر روز صبح پرندوں کے کھانے کیلئے چھت پر دانہ وغیرہ ڈالتے ہو تو اُس دوران ہی کوے،لالی،بُلبل اور چڑیا وغیرہ کھانے کیلئے آجاتے ہیں ۔ کیونکہ وہ یہ جانتے ہوئے کہ اُن کو آپ سے کوئی نقصان نہیں ۔ لہذا وہ آزاد بھی ہیں اور آپکے بھی۔
کاش! میں اُن میں شامل ہو سکتا؟فال والے کے پاس تو میں سارا دِن پنجرے سے باہر رہ کر ہی کارڈ نکالتا تھا کیونکہ اُسکو مجھ پر اعتماد تھا لہذا اُسکی قید میں آزادی کا تصور تو تھا لیکن آپ کے پاس رہ کر سب کچھ پایا سوائے اسکے۔
:اگلی صبح چھت پر کھڑے میاں بیوی طوطے کی رات کی باتوں پر گفتگو کر رہے تھے کہ بیوی نے اچانک کہا کہ
طوطا آزاد کر دو”۔”
روز کی طرح دانہ ڈالتے رہیں گے۔اگر طوطا بھی آتا رہا تو ہمیں خوشی ہوگی کہ وہ آزاد بھی ہے اور ہمارا بھی ۔خاوند بولا ! اگر وہ نہ آیا؟
:پھر چند دِن وہ صبح و شام آتا رہا اور میاں میٹھو کہلاتا رہا۔ لیکن ایک دِن طوطا یہ کہہ کر پھر نہ آیا کہ
ٹائم آپ کے پاس نہیں اور طوطی میرے پاس نہیں “۔ ”

 941 total views,  2 views today

Short URL: http://tinyurl.com/jypcswu
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *