ایجبسٹن میں پاکستان کو شکست کیوں ہوئی؟

Print Friendly, PDF & Email

ٹیسٹ کرکٹ کی ترتیب کے مطابق ایجبسٹن کا تیسرا ٹیسٹ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ایک مکمل میچ ہوا یعنی بالترتیب 4اننگز اور معیاد کے مطابق اس سیریز کا پہلا میچ جو 5دِن جاری رہا ۔ نتیجہ بھی انگلینڈ کی کامیابی کی شکل میں سامنے آیا۔پاکستان کی طرف سے ٹا س جیت کر میزبان ملک کو بیٹنگ دینے کا فیصلہ تو وقت نے ٹھیک ثابت کیا اور پہلی اننگز میں103رنز کی برتری بھی کم نہ تھی۔ لیکن دوسری اننگز میں پاکستان ٹیم کے باؤلرز اور بعدازاں آخری دِن چوتھی اننگز میں بیٹنگ کے دوران حکمتِ عملی کا فقدان نظر آیا۔
اس کے برعکس انگلینڈ کے کپتان ایلسٹر کک نے اپنے ہوم گراؤنڈ کا بہترین فائدہ اُٹھاتے ہو ئے دوسری اننگز میں نہ کہ صرف شاندار کم بیک کیا بلکہ وہ پاکستان کی ٹیم کو چوتھی اننگز کی مناسبت سے آؤٹ کرنے کی بھی منصوبہ بندی میں بھرپور نظر آیا۔ یعنی گزشتہ ڈیڑ ھ دِ ن اُنکے بلے بازوں نے جس وکٹ کو بیٹنگ وکٹ ثابت کرنے کی کوشش میں بہترین 445 کا مجموعی اسکور کر ڈالااُس ہی وکٹ کو پاکستان کی بیٹنگ کے خلاف باؤلنگ وکٹ بنا دیا اور پاکستان ٹیم پہلے3دِن کا کھیل اپنے حق میں سمجھنے کے بعد انگلینڈ کی حکمتِ عملی کا مقابلہ نہ کر سکی اور کہیں مایوسی کے سائے میں صرف جیتنے کی خواہش میں میچ برابر کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم نظر آئی۔انگلینڈ کی طرف سے دوسری اننگز میں 5کھلاڑیوں نے نصف سنچریوں بنائیں اور پاکستان کے 5کھلاڑی ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہوسکے۔
کپتان مصباح الحق کے مطابق آخری دِن کھانے کے وقفے کے بعد انگلینڈ کے باؤلروں کی ریورس سوئنگ نے حیران کر کے رکھ دیا ۔ پاکستان کے بلے باز ریورس سوئنگ کا مقابلہ نہ کر سکے اور بے بس ہو کر رہ گئے۔اسطرح ماضی کے پاکستانی باؤلرز کے ریورس سوئنگ کے فن کا استعمال انگلینڈ کے باؤلرز نے آخری دِن کر کے پاکستانی ٹیم کیلئے ایک نیا باب کھول دیا۔
بہرحال تیسرے ٹیسٹ میں شکست کی وجہ خصوصی طور پر محمد حفیظ کے نام آئی جنہوں نے اس ٹیسٹ تک6اننگز میں 102رنز بنائے ہیں اور کسی حد تک یونس خان جنہوں نے6اننگز میں 122رنز۔ اسد شفیق کا میچ کی دونوں اننگز میں صفر حیران کُن رہا۔ یاسر شاہ نے اس ٹیسٹ کو ملا کر گو کہ 15ٹیسٹ میچوں میں90وکٹیں لیکر ایک نیا ریکارڈ بنا دیا لیکن مجموعی طور پر ناکام باؤلر ہی نظر آئے ۔
بہر حال ایک اُمید سمیع اسلم کی شکل میں نیا اوپنر ملنے کی نظر آئی ۔ ساتھ میں سہیل خان کی فاسٹ باؤلنگ نے اُنکے لیئے ایک دفعہ پھر ٹیم میں شامل ہونے کیلئے راہ ہموار کر دی ہے۔ لیکن اس دوران پہلے ہیڈ کوچ مکی آرتھر اور شکست کے بعد کپتان مصباح الحق نے ٹیم میں آل راؤنڈر کی کمی کو شدت سے محسوس کیا۔دوسری طرف کپتان ایلسٹر کک نے میچ میں کامیابی کے بعد کہا کہ یہ فتح اُنکی کپتانی میں جیتے ہوئے اہم میچوں میں سے ایک ہے۔کیونکہ میچ میں کم بیک کر کے کامیابی حاصل کی ہے۔
اظہر علی کی پہلی اننگز میں سنچری کے بعد پُش اَپز لگانا اور اس سے پہلے سہیل خان کا پہلی اننگز میں 5وکٹیں لینے کے بعد پُش اَپز لگانا زیرِ بحث رہا اور ایلسٹرکک کے بعد اس دفعہ اینڈریسن نے بھی اس رویئے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ قوم پُش اَپز کیلئے نہیں پاکستان کرکٹ ٹیم کی جیت کیلئے دُعا گو ہے ۔لہذ اُس پر زور دیں ۔مصباح الحق نے بحیثیت کپتان اپنی ذمہ داری بخوبی نبھانے کی کوشش کی ہے۔لہذا اُمید رکھتے ہیں کہ آخری ٹیسٹ میں سیریز برابر کرنے کی کوشش کریں گے۔
ایجبسٹن کے اس تیسرے ٹیسٹ میں شکست کے بعد ماضی میں بھی دیکھا جائے تواس گراؤنڈ میں پاکستان کا ریکارڈ انتہائی محسوس کن رہا ہے۔ اس گراؤنڈ میں پاکستان کا زیادہ سے زیادہ اسکور608اورکم سے کم 72ہے۔ لہذا اس ٹیسٹ کو ملا کر پاکستان کے خلاف 8ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈ نے 5میں کامیابی حاصل کی ہے اور 3برابر رہے ہیں۔

  چار ٹیسٹ  2016کی اس سیریز میں انگلینڈ کو پاکستان پر2۔1 سے ۔برتری حاصل ہو گئی ہے۔ آخری ٹیسٹ کا انتظار رہے گا۔

 817 total views,  2 views today

Short URL: http://tinyurl.com/z5dlo5l
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *