معاشی دہشت گرد، سیاسی مسخرے۔ نیا جال لائے پرانے شکاری

Abu Faisal Muhammad Manzoor Anwar
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: ابو فیصل محمد منظور انور
پاکستان بننے کے ساتھ ہی اہل اور دیانت دارقیادت کا فقدان سامنے آگیا تھا بانی پاکستان جناب حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ ایسی دیانتدار اور قابل شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی جن پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی تھی مگروہ جلد ہی دار فانی سے کوچ کرگئے اور بد قسمتی سے وہی پاکستان دشمن یونینیسٹ گروہ اور ان کے حواری جو قیام پاکستان ہی کے خلاف تھے وہی خاندان اور ان کی اولادیں حکمران بننے میں کامیاب ہوگئے اور پھرآہستہ آہستہ ملک پر انہی زرپرست و خائن عناصر کا قبضہ ہو گیا ملکی باگ ڈور ایسے نا اہل اور دولت کے پجاری افراد کے ہاتھو ں میں آگئی جن کا دین و ایمان صرف اور صرف دولت کے انبار لگانا تھا۔ ،،حدیث رسول ﷺ ۔ابن عباس رضی اللہ عنہما، فرماتے ہیں ،،میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو تیسری کا خواہشمند ہو گا اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو ( دل سے “.سچی توبہ کرتا ہے۔َ۔ صحیح بخاری (6436)۔،، اسوقت ملک تقریبا© ً 100 ارب ڈالرز کا مقروض ہو چکا ہے۔ ڈالر کی اونچی اڑان کے بعد اس قرضے میں ہوشربا اضافے کی اطلاعات ہیں ۔یہ بھاری قرض کہا ں خرچ کیا گیا؟پوچھنے پر جواب ہی نہیں ملتا۔ پانامہ پیپرز میںنام آنے پر نوازشریف خاندان نے بڑے بیان بدلے کبھی کچھ کبھی کچھ کہا ۔بھاری فیسوں کے عوض وکلاءکی خدمات حاصل کیں مگر کوئی پیش نہ چلی وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھوئے۔ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس، العزیہ ملز، فلیگ شپ ریفرنس، کا ٹرائل ہوا دو میں سزائیں ہوچکی ہیں مقدمات اعلیٰ عدلیہ میںہیںوہ جیل میںہیں۔عدالت عالیہ کے منفرد فیصلے کی روشنی میں چھ ہفتے گھر میں گزارے مگر علاج نہیں کروایا بیٹی اور داماد ضمانت پر رہا ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ملک کاتین بار وزیراعظم رہنے والا شخص نواز شریف اور اس کا خاند ا ن اربوں روپے کے غیرملکی ا ثاثے بناتا ہے مگر اس کے لئے منی ٹریل دینے سے قاصر ہے ۔ نواز شریف کے دونوںبیٹے بیرون ممالک اپنی جائیدادوں کی ملکیت کا اعتراف تو کرتے ہیں مگر عدالت کا سامنا کرنے کی بجائے مفرور ہیںاور اپنے آپ کو غیر ملکی شہری کہہ کر پاکستانی قانون سے مبرا ہونے کا بیان دیتے ہیں۔ شریف خاندان میںنہ مانوںوالی اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں حالانکہ الزامات روز روشن کی طر ح عیاں ہیں کہ ملک سے منی لانڈرنگ اورکک بیکس کے ذریعے معاشی بدحالی کاشکار قوم کے اربوں رو پے چوری کرکے بیرون ملک اثاثے بنائے گئے۔ شہباز شریف (المعروف خادم اعلیٰ) صاحب اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے مشترکہ لیڈر بن کر قائد حزب اختلا ف اور پھر پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے سربراہ بنے تھے۔ واہ واہ رے پاکستانی جمہوری روایات! کہ ایک ملزم نیب کی پیشیاں بھگتنے اور ان کی زیر حراست ہونے کے باوجود VVIP پروٹوکول کے ساتھ منسٹر انکلوژر میں براجمان ر ہے ۔کیا جمہور ی روایات؟کیا مالی کرپشن کا ایک ملزم دوسرے ملزمان کا احتساب کرے گا؟کیا یہی شفاف احتسابی عمل ہے؟۔شہباز شریف کے خاندان پربھی منی لانڈرنگ کے ذریعے بھاری رقوم کی ٹرانزکشن کی نشاندہی ہو چکی جس پر آنجناب ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہائی پاکرعلاج کے بہانے بیرون ملک جا پہنچے۔ جہاں سے ان کی واپسی پر سوالیہ نشان ابھر رہے ہیں ۔ شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز بھی کرپشن کے الزامات میں نیب کو مطلو ب ہیں مگر وہ بھی صوبہ پنجاب میں اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ قائد حزب اختلا ف ہیںاور خصوصی پروٹوکول کے مزے لےتے ہیں۔ جبکہ دوسرے بیٹے سلیمان شہباز اور دامادبھی جو ناجائز اثاثے بنانے میں ملوث بتا ئے جا تے ہیں بیرون ملک فرار ہیں۔ ان کے قریبی رشتہ دار سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈارخود ساختہ بیماری کے بہانے بیرون ملک فرار ہیں۔ نیب کو مطلو ب خو اجہ برادران پیشیاں بھگت رہے ہیں ان جملہ ملزمان کوجیل میں بھی خصوصی مراعات حاصل ہیں ۔دوسری طرف بے نامی اکاﺅنٹس بارے عدالت عالیہ کے حکم پر بنائی جانے والی JITکمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں چشم کشاانکشافات کئے ۔نیب کاروائی کے نتیجے میںیہ دونوں بہن بھائی آج کل عدالتوں کے چکر لگاتے نظر آتے ہیں رپورٹ کے مطابق سابق صدر آصف زرد اری اور اس کی بہن براہ راست مالی بے ضابطگیوں میں ملوث رہے۔ ا س وقت کے وزیر خزانہ موجودہ وزیر اعلیٰ سید مراد علی شا ہ ان کے سہولت کار تھے۔ 170ارب تو لانچوں کے ذریعے باہر بھجوائے گئے۔ اس دھندے میں زرداری گروپ کے علاوہ اومنی گروپ کے مالک انور مجید بمع اہل و عیا ل اور بحریہ ٹاﺅن کے مالک ملک ریاض، ان کے داماد زین ملک فعال کردار اداکرتے رہے ہیں معروف بینکار حسین لوائی اور کئی دیگر شخصیات کے نام شامل ہیں بحریہ ٹاﺅن لاہور کا اربوں روپوں مالیتی گھر بلاول ہاﺅس لاہور جس کی قیمت ٹھیکیداروں کی طرف سے کک بیکس کے 1.4 ارب روپے سے ادا کی گئی ہے۔ اومنی گروپ زرداری خاندان کے جملہ اخراجات،برداشت کرتا تھا ان خدمات کے عوض اس گروپ کے قرضے ری شیڈول کئے گئے۔ غریب اور متوسط افراد کو فرنٹ مین کے طور پر استعمال کیاجاتا رہا اور ان کے بینک اکاﺅنٹس استعمال کئے جاتے رہے۔ JIT رپورٹ کی ابتدائی تفصیلات کے مطابق اومنی گروپ نے گیارہ جعلی کمپنیاں بنائیں پھر ان جعلی کمپنیوں کے ذریعے سمٹ بنک ، سندھ بنک، اوریو بی ایل میں کل 29جعلی اکانٹس کھولے گئے ان تمام اکاﺅنٹس کیلئے ایڈریس پارک لین کمپنی کا دیا گیا، یہ کمپنی آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی مشترکہ ملکیت ہے۔ ان جعلی اکاﺅنٹس کے ذریعے مشتاق احمد نامی شخص کے اکاوئنٹ میں8 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں۔ مشتاق احمد وہ شخص ہے جس نے آصف زرداری کے ساتھ 80 سے زائد ممالک کے دورے کئے جن میں زرداری نے اسے اپنا فزیوتھراپسٹ(معالج) ظاہر کیا۔ آج کل مشتاق احمد بیرون ملک فرار ہے۔ ماڈل ایان علی نے بھی 80 سے زائد بیرون
ملک دورے کئے اور ہر دورے میں لاکھوں ڈالرز منتقل کئے۔ آصف زرداری نے 14 کروڑ کی امپورٹ ڈیوٹی ادا کی اور ڈیوٹی کی یہ رقم ادریس نامی شخص کے اکاﺅنٹ سے ادا کی گئی۔ جو کئی برس قبل فوت ہو چکا تھا ۔ اومنی گروپ کے ملازم اشرف کے نام پر بھی پانچ اکاﺅنٹس کھولے گئے۔ لکی انٹرنیشنل نامی کمپنی کااکاﺅنٹ عدنان کمپیوٹر اینڈ ہارڈوئیر کے نام پر کھولا گیا۔ رائل ٹریڈرز اکاﺅنٹ جس کے نام پر کھولا گیا وہ احمد رضائی والا نکلا۔ ڈریم ٹریڈنگ کا اکاﺅنٹ رشید رکشے والے کے نام پر نکلا۔ اقبال آرائیں کے نام پر 4 جعلی اکانٹس کھولے گئے جبکہ اقبال صاحب کا انتقال 2014 کو ہوچکا تھا۔ اومنی گروپ کے ملازم عمیر کے نام پر 10 ارب روپے کے 9 اکانٹس کھولے گئے اور مزے کی بات یہ کہ اومنی گروپ ہی عمیر ایسوسی ایٹس کا بے نامی دار بھی تھا۔ زرداری ٹولہ جو ہیلی کاپٹر استعمال کرتا رہا ہے وہ اومنی گروپ کی ملکیت ہے،رشید رکشے والے، احمد رضائی والے، عدنان کمپیوٹر مرمت والے اور مرے ہوئے لوگوں کے نام پر کھاتے کھول کر اربوں روپے ٹرانسفر کرتی رہی ہے ، اس طرح ملکی دولت لوٹی گئی۔اس سے قبل ڈاکٹر عاصم،شرجیل میمن،عزیر بلوچ اور بلوچستان کے ایک صوبائی سیکرٹری کے گھر سے کروڑوں روپے کی برآمدگی کے مقدمات کانتیجہ ابھی تک سامنے نہیںآیا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماءعلیم خان آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزام میں تین ماہ تک نیب کی حراست میں رہنے کے بعد عدالت سے ضمانت پر رہائی حاصل کر چکے ہیں میگا کرپشن کیسزز کے بڑے ملزمان کی گاڑیو ں پر جیل آتے جاتے پھولوں کی پتیاں اور وکٹری نشان قو م کو یہ کیا پیغام دیتے ہیں ؟ ،،سانپ مر گیا مگر ابھی تک بل نہیں گئے،، اقتدار ہاتھ سے جا چکامگر اکڑ فوں ابھی باقی ہے۔ چیئرمین نیب کی حالیہ پریس کانفرنس کے بعد احتسابی عمل پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہو اہے ۔اس سے پہلے نیب کے تمام تر دعوﺅں کے باوجود اکثرپاکستانی نیب کی اب تک کی کارکردگی اوراحتسابی عمل کو مشکوک، ٹوپی ڈرامہ اور فرینڈلی احتساب سمجھ رہے تھے۔ ۔ قومی دولت لوٹنے والے ملزم کسی نہ کسی طرح بیرون ممالک فرار ہونے کو بے قرار ہیں تاکہ احتسابی عمل سے بچ جائیں ۔ بلاول بھٹو زرداری کی افطار پارٹی میںمریم نواز ،مولانا فضل الرحمان سمیت اپوزیشن جماعتوںکے سرکردہ رہنماﺅں کی شرکت اور مشترکہ اعلامیہ پر عوام انگشت بدنداں ہیں؟ کہ ایک بار پھر پرانے شکاری نیا جال لے کر میدان میں اترنے والے ہیں وگرنہ ماضی قریب میں ایک دوسرے کو گالیاں دینے اور سڑکوںپر گھسیٹنے والے کبھی ایک ساتھ نہ بیٹھتے۔ یہ بیٹھک صرف لوٹ شدہ مال ہضم کرنے کا حربہ ہے ناکہ ان لٹیروں کو غریبوں کا درد ستا رہاہے۔ ان کی طرف سے عیدالفطر کے بعد حکومت مخالف احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان بھی کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سالوںمیں معیشت کا بیڑہ غرق کرنے والے یہ معاشی دہشت گرد اب کس کے اشارے پر ملک میںسیاسی عدم استحکام لانے اور افراتفری پیدا کرنے کی سازش کر رہے ہیں ؟ ؒ لگتا ہے کہ وطن عزیز کے خلاف کوئی بڑی غیر ملکی سازش پروان چڑھ رہی ہے ۔تاہم عوام کی اکثریت مہنگائی اور دیگر مشکلات کے باوجودان کا ساتھ دیتے نظر نہیں آتی بلکہ وہ تو لوٹ شدہ قومی خزانے کی برآمدگی،واپسی اورلٹیروں کو پس زنداں دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔پاکستانی عوام کا متعلقہ اداروں سے دیرینہ مطالبہ ہے کہ لٹیروں سے لوٹا گیا مال واپس قومی خزانہ میں جمع کروا کر ان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کرکے نشان عبرت بنا ئیں تاکہ مستقبل میں کسی بد معا ش با اثرشخص کو قومی خزانہ لوٹنے کی جرات نہ ہو سکے۔خدا نخواستہ اگر موجودہ احتسابی عمل ادھورا رہ گیا تو عوامی شدید رد عمل کسی خونی انقلاب کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے ۔کاش یہ لٹیرے علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھ لیتے اور اپنی عاقبت خراب نہ کرتے۔ ٭ یہ مال ودولت دنیا یہ رشتہ و پیوند بتان وہم و گماں ، لاالٰہ الا اللہ ٭

Short URL: http://tinyurl.com/y58wrlyb
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *