مدارس کی ضرورت ۔۔۔۔ تحریر : حافظ محمد قیصر ، کراچی

Hafiz Muhammad Qaisar
Print Friendly, PDF & Email

سیاسی اور اجتماعی تغیرات کے نتیجے میں بہت ساری ایسی باتیں جوپہلے نہیں کی جاتی تھیں اب کی جانے لگی ہیں اور بہت سے اداروں کے بارے میں سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں اور سنجیدگی سے انکی افادیت یا نقصان پر بحث کی جانے لگی ہے ۔
سائنس نے اتنی ترقی کی ہے کہ زمانے میں اتنے تغیرات آگئے ،تمدن تبدیل ہو رہاہے اور جدید سے جدیدایجادات ہو رہی ہیں ،اس میں اُن قدیم دینی مدارس عربیہ کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔؟ اور جو آدمی ان مدارس میں کبھی نہیں آیا وہ بھی اس پر گفتگو کرنے لگا اور ان کی افادیت اور نقصانات پر ایسے گفتگو کرنے لگا جیسا کہ اسکا تھیسس ہی اسی کے اوپر تھا ، افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ وہ اشخاص گفتگو کرتے ہیں جو (بسم اللہ ) بھی صحیح طریقے سے نہیں پڑھ سکتے ۔
اللہ رب العالمین نے محمد عربی ﷺ کو مبعوث فرما کر ایک ایسا آئین اور اصول دیا ہے جو تا قیامت باقی رہے گا تو اس امت کے خمیر میں دین کو رکھ دیا گیا ہے ، چاہے وہ کسی بھی ریاست میں ہو اسکا رشتہ اسلام کے ساتھ ضرور ہو گا ،محمد عربی ﷺ جو پیغام لے کر آئے وہ مکمل ضابطہ حیات ہے ، اس میں عقائد سے متعلق بھی احکامات ہیں ، عبادات ،معاملات ، معاشرت اور تہذیب و تمدن گویا ہر چیز کے بارے میں احکامات موجود ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ آپﷺ کی حیات مبارکہ میں ایک یہودی نے اعترض کیا کہ تمہارے نبی ہر چھوٹی چھوٹی چیز کے بارے میں تعلیم دیتے ہیں ۔۔۔حتی ٰ کہ بیت الخلاء میں جانے کا طریقہ بھی بتاتے ہیں ۔۔۔؟ اس نے یہ سوال بطور طنز کیا تھا ۔ توحضرت سلمان فارسی نے جواب دیا کہ (جی ہاں ! یہ ہمارے مکمل دین ہونے کی نشانی ہے ) دین محض عبادات کے مجموعے کا نام نہیں اور نہ صرف عقائد کا نام ہے بلکہ مکمل ضابطہ حیات ہے ، یہی وجہ ہے کہ دینی مدارس میں پڑھنے والے طالب علم کو فقہ کے عنوان سے مختلف درسی کتب پڑھائی جاتی ہیں اور آخر میں ہدایہ کے نام سے ایک جامع کتاب پڑھائی جاتی ہے اور ہدایہ وہ کتا ب ہے جو پاکستان کے لاء کالجز میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جس میں معاشی و معاشرتی اور ریاستی قوانین کی تعلیم دی جاتی ہے اور یہ بھی بات ضروری سمجھتا ہوں کہ جہاں یہ دین جامع ہے وہیں یہ دین انسانی زندگی پر موئثر بھی ہوتا ہے اور متاثر بھی ہے ۔
ہاں یہ بات ضروری ہے کہ اپنے ذہن کو خالی کر کے دین متین کا مطالعہ فرمائیں تاکہ بدعت اور خرافات کے راستے سے بچا جا سکے اور انکار سے بھی بچا جا سکے ،یہ بات مسلمہ حقیقت ہے اور اسکا ہر شخص اعتراف بھی کرے گا ۔
ؓبخاری شریف کی حدیث مبارک ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک سیدھی لکیر زمین پر کھینچی اور اسکے ساتھ ساتھ دوسری لکیریں کھینچیں اور فرمایا کہ یہ سیدھی لکیر دین اسلام ہے اور یہی صراط مستقیم ہے یعنی ذرا سی بے احتیاطی انسان کو اعتراضات اور انکار پر لے جاتی ہے جسکی وجہ سے انسان بے جا لن ترانیوں سے اٹے سوالات دین متین پر کرنا شروع کر دیتا ہے ۔
اور اس نظام کی حفاظت اللہ نے اپنے ذمہ لی ہے اور امت محمدیہ کو یہ کام سونپ دیا ہے کہ اسلام کے اجتماعی ،انفرادی اور معاشی و معاشرتی معاملات آہستہ آہستہ آگے بڑھتے رہیں اور اسی طرح من وعن جیسے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ویسے ویسے ہی آگے نسلوں تک منتقل ہوتا رہے اور اللہ تعالی ٰ نے کلام مجید میں جو فرمایا وہ بھی بعینہ آگے منتقل ہوتا رہے تو اس صورت میں یقیناْ دین کی ضرورت ہے اور جب دین کی ضرورت ہے تو بلاشبہ اس دین کی تعلیم کی بھی ضرورت ہے جب اس دین کی تعلیم کی ضرورت ہے تو یقیناْایسے اداروں کی بھی ضرورت ہے کہ جو یہ تعلیم من وعن اور بعینہ اللہ کا کلام اور آپ ﷺ کے ارشادات کو بغیر کسی ردو بدل کے آگے نسلوں تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی ٰ نے اس امت کو بہترین امت قرار دیا ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تلقین اور تعلیم دے رہے ہیں ، اگر بیماری میں افاقہ نہ ہو رہا ہو توکہا جاتا ہے میڈیکل میں مزید سرچ کی جائے تاکہ اس بیماری کا سدباب کیا جائے نہ کہ یہ کہا جاتا ہے کہ میڈیکل اسٹورز کو تالے لگا دئے جائیں، اگر کسی کو شک و شبہ پیدا ہو رہا ہے تو اسکو چاہیے کہ دوزانوں ہو کر کسی مستند عالم دین سے مشورہ کرے اور اسکی رہنمائی لے نہ کہ دین سے دوری اختیار کرنا اور بے جااعتراضات کرنا کوئی عقلمندی ہے ۔
ہر نئی حکومت میں پتہ نہیں کون یہ صورپھونک دیتا ہے کہ مدارس عربیہ کی مکمل جانکاری کی جائے اور اور انکو بند کیا جائے بغیر کسی تفتیش کے یہ حکمصادر کیا جاتا ہے کہ یہ دہشت گردی میں ملوث ہیں ، یہ کہا ں کا انصاف ہے ۔۔۔؟ اورکہا جاتا ہے کہ دینی مدارس کے نظام کو تبدیل کیا جائے ، کون سا ایسا مدرسہ ہے جس کے خرچے کا بوجھ صوبائی یا وفاقی حکومت پر پڑ رہا ہے ۔۔۔۔؟ 2.5 ملین غریب گھرانے کے طلبہ و طالبات کی یہ مدارس نمائندگی کر رہے ہیں اور انکو دینی تعلیم کے زیور سے روشناس کر رہے ہیں ، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان طلبہ کے لئے گورنمنٹ کوئی اچھا کام کرتی اور پڑھنے والے طلبہ کی محرومیوں کو دور کرتی اور انکو قومی دھارے میں لے کر آتی کہ وہ طلبائبھی ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں لیکن ایسا کہاں ۔۔۔۔۔۔؟
دینی مدارس باہم اخوت و مساوات کا درس دیتے ہیں ،اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی تعلیم دیتے ہیں متفرق مکاتب فکرکا آپسی اختلاف محض فروعی ہے اصول میں جملہ مکاتب فکریک بستہ ہیں ،اور ایک ایسا نظا تعلیم رکھتے ہیں جسکو تجدید کی تو ضرورت ہو سکتی ہے لیکن تبدیل یا تحریف کی ہر گز ضرورت نہیں اور نہ ہی کوئی گنجائش ہے ۔

Short URL: http://tinyurl.com/zz5xscq
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *