گناہوں سے پاک نونہال۔۔۔۔ تحریر : حافظ محمد قیصر

Hafiz Muhammad Qaisar
Print Friendly, PDF & Email

لاہور سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں بچوں کے اغواء کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے خوف و ہراس کی فضاء بنا دی ہے والدین اپنے بچوں کی حفاظت کو لے کر نہایت پریشان ہیں ،بہت سی ایسی مائیں جو اپنے بچوں کا بے صبری سے گھر واپس لوٹنے کا انتظار کر رہی ہیں ،یہاں چند ایک سوال جنم لیتے ہیں کہ بچوں کو اغواء کیوں کیا جاتا ہے ؟ اور اس گھناؤنے فعل میں کون کون ملوث ہے ؟
گزشتہ دو سے تین ماہ کے اندر صرف لاہور میں 300سے زائد نابالغ بچوں کو اغواء کیا گیااور تین بچوں کی ایسی لاشیں ملیں جن کو بد فعلی کے بعد قتل کر دیا گیا ،پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے سالانہ اعدادوشمار کے مطابق 2015ء میں روزانہ اوسطاً 10بچوں کو جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا ،لاہور میں اغواء ہونے والے بچوں کی تعداد گزشتہ سال سے بھی بڑھتی جا رہی ہے رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر میں جنوری تا جولائی 2016ء تک چھ ماہ کے دوران 652بچوں کو اغواء اور لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج ہوئیں ،سب سے زیادہ لاہور میں 312بچے اغواء ہوئے ،راولپنڈی میں 62،فیصل آباد27،اور ملتان 25،اس کے علاوہ سرگودھا میں 24بچے اغواء ہوئے ۔
بچوں کے اغواء کا مقصد ملک دشمن سرگرمی میں ملوث ہونے کا خدشہ ہے جو کہ بہت بڑا سانحہ ہے یہ بچے غلامی اور مشقت لینے کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں ،بچوں کے ذریعے جنسی ہوس پوری کی جاتی ہے ،انہیں تربیت دے کر کسی قوم یا ملک کے خلاف بطور ہتھیار استعمال بھی کیا جاتا ہے ، بچوں کو اغوا کر نے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بچوں کو معذور بنا کر چوکوں پر بھیک مانگنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے اور اس فعل کو گداگری کہتے ہیں اور گداگری کے ذریعے سالانہ سات ارب روپے کی خطیر رقم بٹوری جا رہی ہے ،ایک تا ثر یہ بھی ہے کہ ان بچوں کی تربیت کر کے انہیں چوری ،ڈاکہ زنی،منشیات فروشی اور دیگر اشیا ء کی اسمگلنگ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے مبینہ طور پر اغواء ہونے والے بچوں میں سے خوبصورت بچیوں کو الگ کر کے جسم فروشی کے کام میں لگایا جاتا ہے ۔
صوبہ پنجاب کے دل لاہور میں اغواء کی وارداتوں نے گڈگورننس کا پول کھول دیا ہے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر تعینات پولیس اہلکاروں کے باوجود بچوں کا ایک شہر سے دوسرے شہر میں منتقل ہونا سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔
اس وقت بچوں کے اغواء کو لیکر پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے آخر بچوں کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا ،بچوں کے ساتھ والدین میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے ،والدین بچوں کو حصول تعلیم کے لئے تعلیمی اداروں میں بھیجنے سے گھبرا رہے ہیں یا د رہے آئین پاکستان کے آرٹیکل نمبر 11اور شق نمبر3کے مطابق ریاست 14برس سے کم عمر کے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے اور یہ ذمہ داری ریاستی مشینری کو چلانے والی حکومت کو پورا کرنا ہے ، یاد رہے اس وقت پنجاب کی کل آبادی 10کروڑ پر ایک لاکھ پچھتر ہزار پولیس اہلکار مامور ہیں ،نتیجے کے طور پر 571افراد کے لئے ایک پولیس اہلکار جبکہ ایک حکمران ا اور وی آئی پی کے لئے تین تین ہزار پولیس اہلکار ڈیوٹی دے رہے ہیں ،درجنوں روٹ ،ناکوں اور فورسز کے قیام کے باوجود امن و امان کی صورت حال دگر گوں ہے جس سے عوام کی بے چینی اوربیزاری کا بڑھنا جائز ہے ۔
سچ تو یہ کہ 2015ء سے لیکر جولائی 2016ء تک پنجاب میں 1808بچے اغوا ہوئے چھ سالوں میں 6693 بچوں کے اغواء کے مقدمات درج ہوئے 2015 ء میں 1134 بچے اغواء ہوئے ، 2016کے بعد سات ماہ میں 716کیس رپورٹ ہوئے اور پتہ نہیں کتنے والدین ایسے ہیں جو رپورٹ لکھوانے کے بجائے اپنے بچو ں کا تاوان ادا کر کے انکو بازیاب کراتے ہیں ،یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان بچوں میں سے 90فی صد بچوں کو پبلک پلیس سے اغواء کیا گیا جن کی عمریں 6سال سے 15سال تک ہیں ،اور افسوس صد افسوس کی بات یہ ہے کہ آئی جی پنجاب یہ کہتے ہیں کہ بچوں کے اغواء کا مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہے جتنا کہ میڈیا نے بنا دیا ہے کتنے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ ایک ذمہ دار آدمی کتنی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔
یاد رہے پچھلے دنوں میں ایک فیصلہ بچوں کی حفاظت کا شروع ہوا تھا جس کی وجہ سے ضرب عضب شروع ہوا اور اب بھی نونہالوں کی زندگی کا سوال ہے کیونکہ پاکستانی ہر بچہ مساوی حقوق کا علمبردار ہے ،یہ معاشرہ شاید ایک نفسیاتی مریض بن چکا ہے ہمارے ہاں ظلم نارمل بن چکا ہے جو کہ کہیں بھی نہیں ہونا چاہیے،اب لگتا ہے کہ میں خود ایک ذہنی مریض بن چکا ہوں ،میں کسی بھی رکشے والے کو دیکھتا ہوں تو یوں لگتا ہے کہ یہ کہیں بچے اٹھانے والا تو نہ ہو ، برقع والی عورت کو دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ اس برقع میں چھپا ایک مرد ہوگا جوکہ بچے اٹھانے اس گلی میں آیا ہوگا کسی موٹر سائیکل والے کو دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ پتہ نہیںیہ بچے کہیں اس نے اغوا تو نہیں کئے ؟ کتنی عجیب بات ہے کہ اس ملک میں جنازے اٹھنا ایک عام سے بات ہو گئی ہے یہ واحد ملک ہے جہاں امیر آدمی کا کتا مر جائے تو وہ قتل ہے اور اس کی ایف آئی آر کاٹی جاتی ہے اور یہاں پہ غریب کا بچہ نالے میں قتل شدہ حالت میں بھی ملے تو اس کی ایف آئی آر کٹوانے کے لئے آپ کو سفارش کی ضرورت پڑتی ہے ۔

Short URL: http://tinyurl.com/zl89v7d
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *