بندر کا تماشہ ۔۔۔۔ تحریر : حافظ محمد قیصر ، کراچی

Hafiz Muhammad Qaisar
Print Friendly, PDF & Email

میرے گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ ،، ایم کیو ایم ایک مسلح جماعت ہے ،الطاف حسین ایک طاقت ہے جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں ،اگر یوں کہا جائے کہ ایم کیو ایم الطاف حسین ہے اور الطاف حسین ہی ایم کیو ایم ہے تو ہرگز بے جا نہ ہوگا ،لیکن موجودہ صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماء شدید تنقید اور عوامی غیظ و غضب کا شکار ہیں ۔
یہاں چند ایک سوال جو ہر ذی شعور اور عقل سلیم رکھنے والے انسان کے دماغ میں آتے ہیں وہ یہ ہیں ،
1: فاروق ستار کی پریس کانفرنس کے بعد اب یہ سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں کہ کیا اب بھی فیصلوں کی توثیق الطاف حسین ہی کریں گے ؟
2: کیا اب ایم کیو ایم کا نظام پاکستان سے چلے گا یا پھر لندن کمیٹی ہی چلائے گی ؟
3:کیا رابطہ کمیٹی پاکستان اپنے فیصلے لندن رابطہ کمیٹی کی مشاورت کے بغیر کرے گی ؟
4: کیا الطاف حسین نے پاکستان کے خلاف اور اسی طرح اٹھارہ کروڑ عوام کے خلاف جو انتہائی لن ترانیوں سے اٹا بیان دیا ہے کیا وہ کسی ذہنی دباؤ میں تھے ؟
5: کیا یہ ممکن ہے کہ تمام اختیارات الطاف حسین رابطہ کمیٹی پاکستان کو سونپ دیں گے اور پاکستان رابطہ کمیٹی الطاف حسین کو پارٹی سے علیحدہ کر دے گی ؟
6: کیا اب بھی فیصلے لندن کے منتظر ہوں گے اور ریموٹ کنٹرول کی طرح ایم کیو ایم پاکستان میں چلے گی ؟
7: کیا متحدہ کا لندن دفتر سے اظہار لاتعلقی موجودہ صورتحال سے نکلنے کا واحد حل تھا ؟
8: آخری اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ مسئلہ اب متنازع بیان کا ہے یا پھر قیادت کا ؟
موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے الطاف حسین نے اپنی عادت کو سلامت رکھتے ہوئے لمبا چوڑا ،حب الوطنی بھرا معافی نامہ میڈیا کے توسل سے جاری کیااورموجودہ آنے والے بیان کے مطابق الطاف حسین نے اختیارات ایم کیو ایم کے رہنمائفاروق ستار کے سپرد کرنے کا عندیہ دیا ہے ، دوسری جانب ڈاکٹر عامر لیاقت اور دورسرے اہم پارٹی کے کارکنا ن قائد کے بیان کو ڈیفائن کرنے میں لاچار اور بے بس نظر آئے ، اور چند ایک اہم رہنماؤں نے پارٹی چھوڑنے اور اسی طرح بعض نے سیاست کو بھی خیر آباد کہنے کے بھی سیاسی بیان داغے ہیں۔
لیکن دریں صورتحال کو ورے رکھ کر اگر مندرجہ بالا سوالات کو دیکھا جائے تو قطعاً نہیں لگتا کہ الطاف حسین پارٹی سے دستبردار ہونے کا سوچ بھی سکتے ہیں ، یہ حقیقت ہے کہ پہلے اورنہ اب۔۔ الطاف حسینکی توثیق کے بغیر کوئی فیصلہ ممکن ہوگا ، اور اسی طرح ایم کیو ایم پاکستان بندر کے ہاتھ ماچس کے مترادف کٹھ پتلیوں کی طرح بغیر مہار ناچتی رہے گی ، اور غریب کارکنان کی خون کی ہولی کھیلتی رہے گی ، ایم کیو ایم پاکستان کی مثال اس طائفہ کی ہے جو پیسے کے لئے ناچتی تھی اور اپنی ناموس کی حفاظت کے لئے ہتھیار بھی رکھتی تھی ، لہٰذا آئے روز سابقہ 20اکیس سالہ روایت کے مطابق پاکستان مخالف بیان اور معافی نامے ساتھ ساتھ چلتے رہیں گے۔
اور قائد ایم کیو ایم کی پاک ریاست کے خلاف ہرزہ سرائی کسی بھی ذہنی دباؤ میں نہیں تھی ، وہ گزشتہ 30سالہ تجربے سے جانتے ہیں کہ عسکری کارکنان توڑ پھوڑ کے لئے انکے اشارے کے منتظر رہتے ہیں ، ماضی میں ہزار ہا ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں جنکاذکر یہاں ابھی مناسب نہیں ۔
اور اسی طرح تمام اختیارات رابطہ کمیٹی کے حوالے کرنے کے بیان کو عوام سنجیدہ نہیں لے رہی کیونکہ یہ بھی الطاف حسین کی عادت میں شامل ہے کہ پارٹی سے استعفیٰ دیتے ہیں اور آدھے گھنٹے بعد رجوع کر لیتے ہیں ، ویسے اگر دیکھا جائے تو ایم کیو ایم پاکستان کے اہم رہنماء موجودہ حکومت میں بیسیوں بار استعفیٰ دینے کا اعلان کر چکے ہیں اور سینکڑوں بار ان کو منا لیا جاتا ہے ۔
الطاف حسین کے لندن شفٹ ہونے کے بعد سے آج تک رابطہ کمیٹی پاکستان صرف رابطہ کمیٹی لندن کے لئے انفارمر کے امور سر انجام دیتی رہی ہے اور اہم فیصلے لندن رابطہ کمیٹی سے صادر ہوتے رہے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ الطاف حسین اپنے اختیارات رابطہ کمیٹی کو سونپ کر دیں گے ۔۔۔؟ دل کر رہاہے لڈیاں اور دھمال ڈالیں۔۔۔۔
یہ حقیقت ہے کہ موجودہ کشیدگی اور تناؤ سے بچنے کے لئے ایم کیو ایم پاکستان کا لندن سے اظہار لاتعلقی کا سیاسی بیان دینا ہی واحد حل تھا اور جسکا فاروق ستار نے بڑی عمدگی کے ساتھ ظاہری بیان دیا کہ ہمارا لندن رابطہ کمیٹی سے اب کوئی تعلق نہیں ،اندھے کو شیشہ دکھانے کے مترادف ہے ۔
آخری اور اہم بات ۔۔۔۔ فاروق ستار کے علاوہ دیگر اہم رہنماؤں نے نفرت آمیز بیان اور آزادی صحافت پر حملے کی مذمت کی ہے ، جس بیان کے ذریعے ریاست کونقصان پہنچایا گیا اور امن و امان کیصورت حال کو خراب کرنے اور اسی طرح کارکنا ن کو مشتعل کر کے توڑ پھوڑ کروائی گئی ،جملہ پارٹی ارکان نے اپنی اپنی سیاسی بیساکھی کو بچانے کے لئے قائدکے بیان کی مذمت کر رہے ہیں ،یہ واضح رہے کہ اس فیکٹری سے لاتعلقی ہرگزنہیں کی جارہی جس سے یہ بیان صادر ہوا ۔
لہذا اب یہ بندر کا تماشا ختم ہونا چاہئے اور ایم کیو ایم پاکستان کو اپنا ووٹ بینک بچانے کے لئے اپنی ڈائریکشن کو واضح کرنا نہایت ضروری ہو گیا ہے اور اٹھارہ کروڑ عوام سے تہہ دل سے معافی مانگنی چاہیے اور جگ ہنسائی کا سبب بننے والے افرادکو ہرگز معاف نہیں کرنا چاہئے۔

Short URL: http://tinyurl.com/gmgdf4l
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *