آزادی کا پلستر

S.A. Zaib

Azadi Ka Plaster Azadi Ka Plaster Azadi Ka Plaster Azadi Ka Plaster Azadi Ka Plaster Azadi Ka Plaster

تحریر: ایس اے زیب

آج بھی ہمارا علمی فکری اور نظری مقام اسقدر کم درجہ پر ہے کہ ہمیں سامنے خراب ہوتی چیزیں دیکھائی نہیں دیتیں بلکہ ہم ان کی خرابی میں کسی جگہ خود بھی موجود ہوتے ہیں۔ہم نے بحیثیت قوم ؤ ملت کبھی بھی اس زاویے سے نہیں سوچا اور نہ ہی کبھی ہمیں اس انداز سے سوچنے کی ترغیب دی گئی ہے بہتر کی ترغیب اسے دی جاتی ہے جس کی کوئی بنیادی حیثیت ہو تو لہٰذا ہمیں یہاں ہمارے وجود اور ذہن کے مطابق بس استعمال کیا جاتا ہے اس کے لیے یہاں کئی طریقے موجود ہیں کوئی بھی ملک وریاست اپنے شہریوں کو استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یہ بات ریاست کی سوچ سے منسلک ہے کہ وہ اپنے شہریوں کا استعمال کیسے کرتی ہے۔اور کیا یہاں ریاست کے شہری بھی اپنے اندر ریاستی امور اور سوچ کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اپنے حقوق کو استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو پاکستان جیسے ملک میں میرا جواب تو ناں میں ہے۔۔۔یہی وجہ ہے کہ یہاں آئے دن کوئی جماعت کوئی ٹولہ کوئی بھی گروہاپنے مقاصد کے لیے جب چاہے قوم کو بیوقوف بنا سکتا ہے جس طرح حالیہ کچھ عرصے سے عمران خان نے قوم کو بیوقوف بنایا ہوا ہے۔اور ہمارے ہی اردگرد رہنے والے لوگ اس کی باتوں کے سحر میں مبتلا ہو کر اپنا ملک وقوم کا نقصان کرنے میں برابر کے شریک ہیں۔اپ کے ذہن میں جو سوال پیدا ہوا اس کا جواب بھی عرض کرتا چلوں کہ وہ نقصان کیسے کر رہے ہیں؟دیکھیں اگر ہم سب یہ بات جانتے ہیں کہ ہمارا سفر بلندی کی نسبت پستی کی طرف جاری ہے اور ہمیں یہ بات بار بار باور کرائی جاتی ہے جس سے ایک مخصوص قسم کا ہجوم ملک بھر میں اپنا ایک وجود بناتا ہے پھر کوئی اس ہجوم کی طاقت سے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے نکل کھڑا ہو۔۔۔۔۔۔اب سوچیں عمران خان کیا کر رہا ہے اس کے پاس ایک مخصوص ہجوم ہے جو اس کی کہی ہر بات کو سچ سمجھتا مانتا ہے اور عمران خان آے دن اس ہجوم کو ساتھ لے کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں پچھلے تین ماہ میں عمران خان نے ساٹھ سے ستر جلسے اور جلوس کیے ایک لانگ مارچ بھی کر لیا اپنی مسیحائی کا خوب راگ الاپا اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار نظر آئے لیکن نتیجہ یہ کہ اپنی کوئی بھی بات حکومت وقت سے وہ اور ان کا ہجوم منوانے میں ناکام رہا!اس تین ماہ کے عرصے میں ملک وقوم کا کتنا نقصان ہوا عمران خان کے ہجوم کو اس کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی علم ہے یہ ایسے حقائق ہیں جن سے خان صاحب کا ہجوم مکمل لاتعلقی کا اظہار کرے گا کیونکہ انھیں یہ باتیں عمران خان نہیں بتا رہا۔۔۔ناں کبھی بتائے گا کہ تین ماہ میں مختلف اداروں کے ستائیس ہزار ملازمین نے خان صاحب کے لیے ریاست کی طرف سے خدمات سر انجام دیں جن کے مکمل اخراجات حکومت پاکستان نے برداشت کیے اور عام آدمی اس سے متاثر ہواعمران خان کے ستر جلسے جلوسوں کا تخمینہ اربوں روپے کا ہے یہ پیسہ عمران خان کے پاس کس طرح کیسے آیا اس بات کا جواب خان کے ہجوم کو بھی معلوم نہیں اور عمران خان بھی یہ نہیں بتاے گا۔اس دوران کتنے لوگ زندگی سے گئے کتنے زخمی ہوئے اس کی پرواہ کون کرے پچھلے تین ماہ میں ملک کے ہر شہر کو اپنے جلسے جلوسوں سے متاثر کیا گیا جس کے باعث اربوں روپے کا معاشی نقصان ہوا اس نقصان کا ازالہ عمران خان اور اس کا ہجوم کبھی نہیں کرے گا اس انتشاری سیاست کے باعث لوگوں کے روزگار بند ہوے بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی مریض سڑکوں پر بلکے ملک کے داخلی ؤ خارجی حالات متاثر ہوئے عمران اور اس کے ہجوم کو اس سے کیا۔۔۔۔۔ہم یہ سب بھول جاتے اگر عمران خان اور اس کا ہجوم اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاتا اور حقیقی آزادی جو ان کا نعرہ ہے حاصل ہو جاتی۔۔لیکن ایسا تو کچھ بھی نہیں ہوا عمران خان اور اس کا ہجوم اپنا تین ماہ سیاسی چورن بیچنے کے بعد اپنے اپنے گھر چلتے بنے۔۔۔آزادی کے اس پلستر کا نقصان کسے ہوا یہ ہم سب کو سوچنے کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Short URL: https://tinyurl.com/2mcydb47
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *