آج بھی ہمارا علمی فکری اور نظری مقام اسقدر کم درجہ پر ہے کہ ہمیں سامنے خراب ہوتی چیزیں دیکھائی نہیں دیتیں بلکہ ہم ان کی خرابی میں کسی جگہ خود بھی موجود ہوتے ہیں۔ہم نے بحیثیت قوم ؤ ملت