ہم کیا ہیں؟۔۔۔۔تحریر: ایس اے زیب

ایک قوم ، ایک پاکستانی، ایک سندھی،ایک بلوچی، ایک پختون، ایک کشمیری، ایک سواتی، یا کوئی عوام۔۔۔؟
ان سب میں سے سوائے قوم کے ہم سب کچھ ہیں، اور یہی ہمارا المیہ بھی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو کبھی بھی ایک قومی نظریہ سے ملتے ہیں اور نہ ہی دیکھتے ہیں۔
ہمارے ہاں یہ عداوتیں یہ رنجشیں یہ غصہ یہ شکوہ اسی وجہ سے پایا جاتا ہے کہ ہم کو شروع سے ہمارے اعلی حکام سییہ سبق نہیں ملا کہ ہم سب سے پہلے ایک قوم ہیں۔
ہم اس ملک کے کسی بھی کونے میں رہتے ہوں کوئی بھی زبان بولتے ہوں بحیثیت پاکستانی ہونے کے ہم ایک قوم ایک ملت ہیں۔
کسی کی بولی مختلف ہے تو اس کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ وہ اپنے ہم زبان کے علاوہ کسی کا دوست یا ہم وطن نہیں۔ ہمارے چاروں صوبوں کی علاقائی زبان مختلف ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم ایک قوم کی حیثیت سے اکٹھے نہیں رہ سکتے۔
عوام میں اس سوچ کا فقدان ضرور ہے کہ وہ اپنے ہم زبان کو دوسری زبان بولنے والے پر ترجیع دیتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے سے پہلے پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ملیں نہ کہ پنجابی، سندھی بلوچی یا پختون بن کر نہیں۔ اس رویے کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم آپس میں علمی اور ذہنی ہم آہنگی کو فروغ دیں اپنے سکول کالج میں بحیثیت قوم ذہنوں کی آبیاری کریں۔
دوسری بڑی وجہ ہمارا تعلیمی نظام اور نصاب ہے،جو ہمارے ذہنوں کی ہم آہنگی میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔پوری دنیا میں علمی نصاب یا تو ان کی ماں بولی میں ہوتاہے یا پھر قومی زبان میں ہمارے ہاں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میں ذہنی ہم آہنگی کا فقدان ہے۔آج ہمارا طالب علم اس غیرمعیاری نصاب تعلیم کی آنکھ مچولی کے باعث اعلی معیار کی بلندیوں کو طے نہیں کر پاتا، یہی وجہ ہے کہ ہمارا طالب علم اعلی معیار زندگی سے محروم ہوتا جا رہا ہے،اگر ہمیں دنیا میں ایک ترقی یافتہ قوم بن کر ابھرنا ہے تو ضروری ہے کہ اس تعلیمی نصاب کی آنکھ مچولی کو ختم کیا جائے اور طالب علم کو پورے ملک میں یا تو قومی نصاب فراہم کیا جائے یا پھر اس کو اس کی ماں بولی میں تاکہ اس کا ذہن کسی بھی قسم کی تقسیم کا شکار نہ ہو۔اس تقسیم نے ہماری جڑ کاٹ دی ہے یہی تقسیم ہمیں آج تک اس جھگڑے میں رکھے ہوے ہے کہ کوئی پنجابی ہے تو کوئی سندھی ، روز بروز آپس کا بڑھتا یہ ذہنی اختلاف ہماری آنے والی نسلوں کے لئے بڑا خطرہ ہے۔میری ہر ذی شعور سے گزارش ہے کہ آپ اس مطلبی تقسیم کی عینک کو اتار دیں اور ایک دوسرے کو ایک قومی نظریے سے دیکھیں۔ اگر آج ہم ایک دوسرے کو اس انداز سے دیکھنا شروع کر دیں تو بہت جلد یہ تنگ نظری ہم میں سے بلکل ختم ہو جاے گی۔ہمیں اپنے اردگرد اس بات کو اجاگر کرنا ہو گا کہ متحد ہو کر ہی قومیں ترقی کرتی ہیں۔۔۔
ان سب میں سے سوائے قوم کے ہم سب کچھ ہیں، اور یہی ہمارا المیہ بھی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو کبھی بھی ایک قومی نظریہ سے ملتے ہیں اور نہ ہی دیکھتے ہیں۔
ہمارے ہاں یہ عداوتیں یہ رنجشیں یہ غصہ یہ شکوہ اسی وجہ سے پایا جاتا ہے کہ ہم کو شروع سے ہمارے اعلی حکام سییہ سبق نہیں ملا کہ ہم سب سے پہلے ایک قوم ہیں۔
ہم اس ملک کے کسی بھی کونے میں رہتے ہوں کوئی بھی زبان بولتے ہوں بحیثیت پاکستانی ہونے کے ہم ایک قوم ایک ملت ہیں۔
کسی کی بولی مختلف ہے تو اس کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ وہ اپنے ہم زبان کے علاوہ کسی کا دوست یا ہم وطن نہیں۔ ہمارے چاروں صوبوں کی علاقائی زبان مختلف ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم ایک قوم کی حیثیت سے اکٹھے نہیں رہ سکتے۔
عوام میں اس سوچ کا فقدان ضرور ہے کہ وہ اپنے ہم زبان کو دوسری زبان بولنے والے پر ترجیع دیتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے سے پہلے پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ملیں نہ کہ پنجابی، سندھی بلوچی یا پختون بن کر نہیں۔ اس رویے کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم آپس میں علمی اور ذہنی ہم آہنگی کو فروغ دیں اپنے سکول کالج میں بحیثیت قوم ذہنوں کی آبیاری کریں۔
دوسری بڑی وجہ ہمارا تعلیمی نظام اور نصاب ہے،جو ہمارے ذہنوں کی ہم آہنگی میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔پوری دنیا میں علمی نصاب یا تو ان کی ماں بولی میں ہوتاہے یا پھر قومی زبان میں ہمارے ہاں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میں ذہنی ہم آہنگی کا فقدان ہے۔آج ہمارا طالب علم اس غیرمعیاری نصاب تعلیم کی آنکھ مچولی کے باعث اعلی معیار کی بلندیوں کو طے نہیں کر پاتا، یہی وجہ ہے کہ ہمارا طالب علم اعلی معیار زندگی سے محروم ہوتا جا رہا ہے،اگر ہمیں دنیا میں ایک ترقی یافتہ قوم بن کر ابھرنا ہے تو ضروری ہے کہ اس تعلیمی نصاب کی آنکھ مچولی کو ختم کیا جائے اور طالب علم کو پورے ملک میں یا تو قومی نصاب فراہم کیا جائے یا پھر اس کو اس کی ماں بولی میں تاکہ اس کا ذہن کسی بھی قسم کی تقسیم کا شکار نہ ہو۔اس تقسیم نے ہماری جڑ کاٹ دی ہے یہی تقسیم ہمیں آج تک اس جھگڑے میں رکھے ہوے ہے کہ کوئی پنجابی ہے تو کوئی سندھی ، روز بروز آپس کا بڑھتا یہ ذہنی اختلاف ہماری آنے والی نسلوں کے لئے بڑا خطرہ ہے۔میری ہر ذی شعور سے گزارش ہے کہ آپ اس مطلبی تقسیم کی عینک کو اتار دیں اور ایک دوسرے کو ایک قومی نظریے سے دیکھیں۔ اگر آج ہم ایک دوسرے کو اس انداز سے دیکھنا شروع کر دیں تو بہت جلد یہ تنگ نظری ہم میں سے بلکل ختم ہو جاے گی۔ہمیں اپنے اردگرد اس بات کو اجاگر کرنا ہو گا کہ متحد ہو کر ہی قومیں ترقی کرتی ہیں۔۔۔
Short URL: http://tinyurl.com/zbsrclw
QR Code: 










Leave a Reply