تحریر: شیخ خالد زاہدکراچی کبھی عروس ا لبلاد کہلاتا تھا ، روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا ، بین الاقوامی شہر کہلاتا تھا، غریب پرور شہر کہلاتا تھااور ہماری کم علمی کہ معلوم نہیں اور کیا کچھ کہلاتا تھا، کراچی کی
تحریر: شیخ خالد زاہدحرکت زندگی کی علامت ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ حرکت میں برکت ہے ۔ حرکتیں کر کر کے برکتیں اتنی جمع کرلیں کہ انہیں سنبھالنے کیلئے سرزمین پاکستان کم پڑ گئی ، اس کے بعد
تحریر: شیخ خالد زاہدسچ پوچھئے تو ملک کے حالات اس نوعیت کے ہوچکے ہیں کہ کچھ لکھنے کو دل نہیں چاہتاجسکی سب سے بڑی وجہ عدم برداشت و مفاہمت ہے۔ مشاہدے سے ثابت ہے کہ پانی کی ایک بوند تواتر
تحریر: شیخ خالد زاہدپاکستان ایک نئی صورتحال سے دوچار ہوگیا ہے جوملک کو غیر یقینی کی کیفیت کی طرف دھکیلنے کی ایک اور کوشش محسوس کی جاسکتی ہے۔ صورتحال کی کشیدگی سیاسی ہو یا مذہبی ہمیشہ ملک کی سالمیت کو
تحریر: شیخ خالد زاہدانتھک بھاگ دوڑ کے بعد انسان اپنے سے وابسطہ لوگوں کیلئے معمولات زندگی کے لوازمات جمع کرتا ہے لیکن ان لوازمات کے ساتھ ساتھ اس انتھک محنت کا بھی کوئی صلہ ملتا دیکھائی نہیں دیتا۔ صلہ سے
تحریر: شیخ خالد زاہدوزیر اعظم پاکستان نے سعودیہ عرب میں منعقدہ سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان واضح فرق بدعنوانی کو قرار دیا جوکہ پاکستانیوں کو تو سمجھ آجانے والی بات
تحریر: شیخ خالد زاہدآسان لفظوں میں معجزہ کہتے ہیں قدرت کی مرتب کردہ ہر وہ چیز جس کی ترتیب عقلِ انسانی کی تسلیم سے ماورا ہو۔اہل نظر اس بات کی گواہی دینگے کہ پاکستان کا وجود بھی جمع تفریق سے
تحریر: شیخ خالد زاہد زندگی قدرت کی دی گئی نعمتوں میں سب سے اہم ہے کیونکہ کسی بھی نعمت سے لطف اندوز ہونے کیلئے زندہ رہنا لازمی جز ہے۔ یہ بات ہمیشہ سے معمہ رہی ہے کہ کوئی اپنی زندگی
تحریر: شیخ خالد زاہداسی اور نوے کی دہائی میں پاکستانی ڈرامہ اپنے عروج پر تھا جسکی گواہی آج بھی اردو شناس دنیا کے دوسرے ممالک بھی دیتے آرہے ہیں ۔ لکھنے والے اپنے لہو کو سیاہی بنا کر لکھا کرتے
تحریر: شیخ خالد زاہدپاکستان میں موجود جتنی بھی سیاسی و مذہبی جماعتیں ہیں وہ اس وقت حکومت پر تنقید برائے تنقید کے عمل سے گزر رہی ہیں کیونکہ انکے پاس اپنی بدعنوانیوں کے جواب میں تو کچھ ہے نہیں۔ بد