تحریر: شیخ خالد زاہداب وہ وقت نہیں ہے ،یہ وہ جملہ ہے جوعمر کے ہر حصے میں سماعتوں کی زینت بنتا ہے کبھی تلخ لئے ہوتا ہے تو کبھی طنز کے زہر میں بجھا ہوا ہوتا ہے اور شائد کبھی
تحریر: شیخ خالد زاہددنیا کی آبادی تقریباً ساڑھے سات ارب سے تجاوز کر چکی ہے، دنیا میں لوگوں کی بہتات ہے ۔یہ افراد کی بھیڑ ایک دوسرے کو ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، یہ جانے بغیرکہ آگے کیا
تحریر: شیخ خالد زاہدیہ پاکستا ن اور ہندوستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے درمیان کشیدگی آج کی بات نہیں ہے ۔ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ بیان دیکھیں تو اسمیں بھی اس
تحریر: شیخ خالد زاہداس بات سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ آج دنیا میں میڈیا کی حیثیت ملکوں اور ریاستوں کے اہم ترین ستون کی طرح ہے ۔دنیا میں ہونے والی ترقی سے میڈیا نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا
تحریر: شیخ خالد زاہدہمیں یہ بات کبھی بھی گوارہ نہیں ہوتی کہ کسی کی منفی کارگردگی کا تذکرہ کریں اور اس میں مین میخ نکالتے پھریں، دوست احباب کا کہنا ہے کہ منفی پہلوؤں میں سے بھی جناب کوئی نا
تحریر: شیخ خالد زاہددور حاضر میں علم جسے ہم لفظوں کا ہجوم کہتے ہیں ،کی بہت فراوانی ہے ، وہ لوگ جنہوں نے کبھی اسکول کی شکل نہیں دیکھی وہ بھی وقت کے عالم بنے بیٹھے ہیں گویا کہیں علم
تحریر: شیخ خالد زاہدسب سے پہلے بطور ایک کرکٹ فین ہونے کے ناطے ہم نجم سیٹھی صاحب کو پاکستان سپرلیگ کیلئے کی جانے والی کاوشوں اور خدمات پر انکا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ایک ایسے
تحریر: شیخ خالد زاہدبے ترتیبی زندگی کو خراب کرتی چلی جاتی اور یہ بے ترتیبی کب ، کیسے اور کہاں سے آجاتی ہے ہمیں اسکا علم اس وقت ہوتا ہے جب بے ترتیبی بہت کچھ بگاڑ چکی ہوتی ہے اور
تحریر: شیخ خالد زاہدہم اپنے آپ کوباحالت مجبوری یا اپنی مرضی سے یا وقت اور حالت کی خاطرجس قسم کے مزاج میں ڈھال لیتے ہیں ،پھر اس مزاج کو سنبھالے سنبھالے ساری زندگی گزار دیتے ہیں۔ یہ اس بات کی
تحریر: شیخ خالد زاہدایسا کیوں ہے کہ ہر بات کو ہر مسلئے کو سیاسی رنگ دیا جائے اور اس بات کو سمجھنے سے سوا ہوکر اس بات سے مختلف تنازعات کو جنم دیا جائے اور پھر اس پر لکھنے والے