٭ شیخ خالد زاہد ٭

ہم سب “نقل” کے ذمہ دار ہیں

Sheikh Khalid Zahid

تحریر: شیخ خالد زاہدنقل کے لغوی معنی ہیں “دیکھ کر لکھنا” مگر کہاں دیکھ کر لکھنا ہے اور کہاں بغیر دیکھے لکھنا ہے، یہ وقت اور موقع کی مناسبت سے طے پاتا ہے۔ جب بچوں کا املا درست کروانا ہو

اقتدار اور اختیار کا نشہ

Sheikh Khalid Zahid

تحریر: شیخ خالد زاہدہماری سڑکوں کے کنارے یا اوجاڑ پارکوں میں کچھ ایسے افراد نظر آتے ہیں جو بیحوشی اور نیم بیحوشی کے عالم میں پڑے ہوتے ہیں (لفظ “پڑے” استعمال کرنے پر معذرت) دراصل یہ لوگ اپنے اطراف میں

کیا “متحدہ قومی موومنٹ” متحد ہوسکے گی؟

Sheikh Khalid Zahid

تحریر: شیخ خالد زاہدبغیر کسی تاریخی حوالے کہ ایک نئی تاریخ رقم کرنے کا موقع آنے کو ہے، ایسا گمان کیا جا رہا ہے اور اللہ تعالی اچھے گمان کو یقین میں بدل دیتے ہیں۔ کراچی پاکستان کا ایک انتہائی

خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے

Sheikh Khalid Zahid

تحریر: شیخ خالد زاہددنیا آخرت کی کھیتی ہے یہاں جو بویا جائیگا وہی آخرت میں کاٹا جائے گا، پھر ہمارے پوشیدہ اور اعلانیہ کئے گئے اعمال کی روح جو آسمانوں میں پہنچ کر ہماری آمد کا انتظار کرینگے۔ یقیناً ہماری

کسی کو تو “قربان” ہونا پڑیگا

Sheikh Khalid Zahid

تحریر: شیخ خالد زاہدکوئی بھی اس بات یا الزام سے اختلاف نہیں کررہا کہ ہمارے ملک میں اعلی عہدہ پر فائز افراد میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو کسی نا کسی طرح سے کرپشن میں بلواسطہ یا بلاواسطہ

۔20اپریل آکے رہیگی

Sheikh Khalid Zahid

تحریر: شیخ خالد زاہدہم پاکستانیوں کیلئے اچانک سے کچھ اچھا ہونا اور پوری قوم کیلئے ہونا اب نا ممکن سی بات لگتی ہے۔ آپ سوچ رہے ہیں کہ یہ کیسی بات ہے، بات دراصل یہ ہے کہ پاکستان کا وجود

تم اور کر بھی کیا سکتے ہو؟

Sheikh Khalid Zahid

تحریر: شیخ خالد زاہدکسی ایک کی خوشی بھلے ہی کسی اور کی خوشی نا بن سکے مگر کسی ایک کا غم سارے جہان کا غم ہوا جا تا ہے۔ ہر روز تواتر سے کوئی نا کوئی ایسا نیا واقع رونما

گائے کو نہیں “عورت” کو تحفظ چاہئے

Sheikh Khalid Zahid

تحریر: شیخ خالد زاہدہم کسی کے مذہبی عقیدے کی ھتک یا توہین کرنے یا اس پر منفی تبادلہ خیال کرنے کا کوئی “حق” استعمال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے جبکہ آج دنیا “آزادی اظہار” کو کتنے بھرپور طریقے سے استعمال

ایک تو چوری اس پر سینہ زوری

Sheikh Khalid Zahid

تحریر: شیخ خالد زاہدہندو تاریخ میں ایک بادشاہ گزرا ہے جس کا نام “بھارتا” تھا اس بادشاہ کہ نام پراس خطہ زمین کا نام اس وقت بولی جانے والی زبان “سنسکرت” میں بھارت پڑا یعنی بھارت بہت قدیم اور کسی

چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات

Sheikh Khalid Zahid

تحریر: شیخ خالد زاہدکبھی کبھی عادت سے مجبور ہونے کی وجہ سے لکھنا پڑتا ہے اور اکثر دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر لکھا جاتا ہے۔ گھر سے باہر نکل جائیے تو آپ کو سمجھ آجائے گا کہ مسائل کس طرح