اللہ بھلا کرے واپڈا کا جو دو گھنٹے کے بعد ایک گھنٹے کے لیے بجلی بھیج دیتی ہے جس سے ہم ملکی حالات حاضرہ سے تھوڑا بہت باخبر ہوجاتے ہیں۔ آج بھی مسلسل دوگھنٹے رہنے کے بعد جب لائٹ آئی
اسلام سے پہلے لوگ بیٹیوں کو زندہ درگور کردیا کرتے تھے مگر اسلام نے بتایا کہ بیٹی زحمت نہیں بلکہ رحمت ہے۔پاکستان میں جہاں پر مرد حضرات اپنے ملک کا نام روشن کرنے کے لیے سرگرم ہیں وہاں پر عورتیں
ٹیکنالوجی نے سات براعظموں پر پھیلی ہوئی وسیع دنیا کو گلوبل ولیج بنا دیا ۔ اس تیزی اور جلدی کے دور میں ہر شخص دنیاوی معملات سے باخبر رہنا چاہتا ہے ۔ وقت کی قلت کی وجہ سے میڈیا کا
قاضی حسین جماعت اسلامی کو وہ نام ہیں جن سے ہر کوئی واقف ہے۔ قاضی صاحب نے ہمیشہ پاکستان کی ترقی اور اسکے استحکام کے لیے کام کیا۔قاضی صاحب کی حب الوطنی کی مثال آپ سب کے سامنے ہے۔ ان
آج میں جس موضو ع پر لکھ رہاہوں اگر دنیا کے تمام درخت قلم بن جائیں ،زمین کاغذ کی بن جائے اور سمندر سیاہی بن جائیں تب بھی ان کی تعریف ختم نہیں ہوسکتی ۔12ربیع الاول کو پورے عالم اسلام
سال 2014اختتام تقریباً ہوچکا ہے۔ اس سال میں جہاں ہم نے بہت کچھ پایا وہاں ہم نے بہت کچھ کھویا بھی ہے۔ زندگی کے اتارچڑھاؤ کی طرح ہمارے کھیل کے میدانوں میں بھی کچھ اسی طرح کی کیفیت رہی۔ کبھی
۔27 دسمبر2007کا دن پاکستان کی تاریخ میں نام کرگیاکیونکہ اس دن پہلی مسلمان خاتون وزیر اعظم اور ہر دلعزیزلیڈر محترمہ بینظیر بھٹو کوشہید کردیا گیاتھا ۔ ان کی شہادت کا دکھ آج تک عوام نہیں بھولی۔ مجھے یا د ہے
لا الہ اللہ کی مملکت یعنی پاکستان کے قیام کے لئے دولت اور منصب کو پیروں تلے روند کر لندن سے انڈیا آنے والے اور ہمیں ایک آزاد قوم کی حیثیت دلانے والے شخص کا نام قائد اعظم ہے۔ آپ
’’پاکستان اور ہندوستان ‘‘ آزاد خودمختار ریاستوں کے قیام کے دن سے آج تک دونوں ممالک ایک دوسرے کے مخالف رہے ہیں۔ دونوں میں بہت سی جغرافیائی ، سیاسی، لسانی اور معاشرتی قربتوں کے باوجود اختلافات پائے جاتے ہیں۔جس کی
’’وقت کسی کا ساتھ نہیں دیتا‘‘یہ محاورہ اپنے اندر نہ صرف بہت گہرے معنی رکھتا ہے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے معنی خود ہی واضح بھی کردیتا ہے۔ دسمبر 1971سے پہلے پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ہی تھے۔