سعودی عرب صرف ایک عام ملک یا پاکستان کا ’’دوست مْلک‘‘ ہی نہیں بلکہ دْنیا بھر کے مسلمانوں کی مقدس سرزمین بھی ہے۔ اس سرزمین پر مسلمانوں کی دل و جان سے عزیز مقدس عبادت گاہ بیت اللہ اور روضہ
چین کے صدر شی جن پنگ پیر 20 اپریل کو دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے۔یاد دھانی کراتا چلوں کہ گذشتہ سال اکتوبر میں چین کے صدر نے پاکستان کا دورہ کرنا تھا تاہم پاکستان کی سیاسی صورت
پاکستان کی سیاست بھی انوکھی ہے۔اس سیاست کا کوئی دین مذہب نہیں ہوتا۔ جو ملا یہ اسی کی ہوگئی۔ آج کے دوست کل کو دشمن بن جاتے ہیں اور کل کے دشمن آج دوست بن گئے۔ سیاست وہ کھیل ہے
30مارچ کو ایوان اقبال میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے سکولز ریفارمز روڈمیپ کے نئے مرحلے ’’پڑھو پنجاب، بڑھو پنجاب‘‘ کا آغازایک پروقار تقریب میں کیا۔اس پروگرام میں 2018 تک صوبہ پنجاب کے ہر بچے و بچی کے سکول
قیام پاکستان سے لیکر آج تک سیاست کے میدان میں بہت سے لوگ آئے اور اپنا اپنا کردار ادا کرکے جاتے رہے۔ قائد اعظم کے بعد ذوالفقار بھٹو تھے جن کو عوامی سطح پر اتنی پذیرائی ملی اور ان کے
اپریل فول کا مطلب ہے کہ لوگوں سے جھوٹ بول کر ان بیوقوف بنایا جائے۔ اس جھوٹ سے خواہ ان کا کتنا بڑا نقصان ہوجائے مگر جھوٹ بولنے والے کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔اس دن کو ہمارے پاکستان میں
الحمداللہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا یہ ملک اسلام کے نام پر قائم ہوا۔ اسلام نے تمام انسانوں کو برابر کے حقوق دیے ہیں مگر افسوس ہم نے ان میں فرق ڈال دیا ہے۔ آج امیر غریب کا فرق وہ
۔23مارچ وہ دن ہے جب قیام پاکستان کی پہلی اینٹ رکھی گئی۔مسلم لیگ نے پاکستان کی بنیاد اسلام کے نام پر رکھی کیونکہ قیام پاکستان سے پہلے ہندوستان میں دو قومیں آباد تھیں ہندواور مسلم ۔ مسلمانوں کو ہندوستان میں
اتوار کے دن جس وقت کوارٹر فائنل کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے پاکستان آور آئرلینڈ ایک دوسرے کوزیر کرنے کی کوشش میں مصروف تھے اسی دن دوسری طرف دہشت گرد بھی اپنی حکمت عملی بنانے میں مصروف تھے۔
پاکستان میں سیاست کا کھیل بھی نرالا ہے۔ کھیلنا بھی ضروری ، ملنا بھی ضرور اور پھر لڑنا بھی ضرور۔ پاکستان میں اتنے ترقیاتی کام نہیں ہوئے ہونگے جتنی سیاسی پارٹیاں وجود میں آچکی ہیں۔ جس کا جب دل چاہا