سیاست ایک طریقہ کار ہے جس کے ذریعے عوامی حلقوں کے مسائل پر بحث یا کارروائی ہوتی ہے اور ریاستی فیصلے عوامی رائے عامہ کی روشنی میں کیے جاتے ہیں۔پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور جمہوریت اس ملک کی شان
3 دسمبر کو پاکستان سمیت دنیا بھرمیں معذوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا اصل مقصد معذور افراد سے اظہار یکجہتی کرنا ہے اورانکو یہ بتانا کہ وہ بھی اسی معاشرے کے اہم رکن ہیں۔
ہمارے معاشرے میں اس وقت فحاشی اور بے حیائی نے بڑا نام کمایا ہوا ہے۔ اسکی ایک وجہ کیبل نیٹ ورک ہے ۔ہمارے کیبل نیٹ ورک پر انڈین چینلز کا راج ہے۔ اگرکہیں پر 100چینلز دکھائے جارہے ہیں تو ان
انداز بیان گرچہ بہت شوخ نہیں ہے شاید کے تیرے دل میں اترجائے میری بات آج کل کے دور میں جہاں تعلیم کو بہت اہمیت دی جارہی ہے وہاں پر یہ پڑھا لکھا طبقہ فحش زبان کا استعمال بھی بہت
آج کل کے دور میں انسانی زندگی کی کوئی قدرو قیمت کچھ نہیں۔ آئے روز دھماکے ، ڈرون حملے، ایکسیڈنٹ اور ذاتی دشمنی میں لوگ بلاجھجک مارے جارہے ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر قتل و غارت شروع ہوجاتی ہے۔
کالمسٹ لوگ ہر تاریخی دن کے حوالے سے کالم لکھتے رہتے ہیں کوئی اس دن کی اہمیت بیان کرتا ہے تو کوئی اس کی مخالفت پر لکھتا ہے ۔ مگر آج میں جس شخصیت پر لکھا رہا ہوں وہ قیام
بہت دنوں سے اس عنوان پر کالم لکھنے کے بارے میں سوچ رہا تھا مگر ٹائم نہیں نکال پا رہاتھا۔ خان صاحب کے ایک خطاب نے مجھے یہ کالم لکھنے پر مجبور کردیا۔ عمران خان نے دس محرم سے پہلے
قران ایمان والوں کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر وہ خود عمل نہیں کرتے ۔ قران کے پیغام کو پس پشت ڈالنے والے اسلام کے ان ٹھیکیداروں پر بھی افسوس ہوتا ہے
اللہ نے انسان بنا اس کو اشرف المخلوقات کا نام دیا مگر اس کی خواہشات نے اس کو دنیا میں ذلیل و رسوا کرادیا۔ بہت کم لوگ ہیں جو اللہ کے دیے ہوئے پر قناعت کرتے ہیں۔ ہمارا تو یہ
ملتان کا الیکشن سیاستدانوں کے لیے انا کا مسئلہ بنا ہوا تھا۔ اس الیکشن میں کئی امیدوار حصہ لے رہے تھے۔ ویسے تو جو بھی شخص الیکشن میں حصہ لیتا ہے وہ جیت کی امید لگا کربیٹھا ہوتا ہے مگر