پاکستان اور بھارت کے تعلقات ہمیشہ سے ہی اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔بھارت اور پاکستان میں حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں اور ان حکومتوں نے کئی بار آپس میں تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کی مگر وہ بے
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں گیس کے ان گنت ذخائر موجود ہیں اور ان ذخائر میں ماہرین ارضیات کے مطابق گیس اتنی وافر مقدار میں پائی جاتی ہے کہ اگر ماضی کی اور موجودہ
بارش تحفہ خداوندی ہے ۔ بارش انسان کے لیے اللہ کی طرف سے ایک رحمت ہے مگر جب یہ حد سے زیادہ برسنے لگے تو پھر یہ رحمت کی بجائے زحمت بن جاتی ہے۔حالیہ بارشوں نے پورے پاکستان کو تو
بادشاہ کون؟ یہ ہے وہ سوال جو اکثر کہانی سناتے ہوئے چھوٹے بچے اپنے والدین یا کہانی سنانے والے سے پوچھتے ہیں کیونکہ وہ فرضی کہانی ہوتی ہے اس لیے کچھ بھی نام لیکر بچے کو مطمئن کردیا جاتا ہے
انسانی تخلیق آزمائش کے لیے ہے ۔ قوموں کی زندگی میں امتحان اور انقلاب آتے رہتے ہیں۔ زندہ قومیں ہر آزمائش کا مردانہ وار مقابلہ کرتی ہیں۔ آزمائشوں کی تپتی بھٹیوں سے نکل کر قومیں کندن بنتی ہیں۔ ایسا ہی
پاکستان کی بنیاد کلمہ توحید پر رکھی گئی اور اسی لیے اس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا گیا۔ پاکستان حاصل کرنے کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے بے شمار قربانیا ں دیں۔ اپنے گھر بار چھوڑے ، اپنی زمین
تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے مارچوں نے اس وقت پورے ملک کو پریشان کیا ہواہے۔ کوئی شخص پریشانی سے آزاد نہیں ۔ مارچ میں شریک لوگوں نے اسلام آباد کو یرغمال بنا رکھا ہے اور باقی عوام کوٹی وی
ہر طرف آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کے چرچے ہیں۔ کسی بھی شہر یا دیہات میں چلے جائیں ہرطرف لو گ ٹی وی پر ان کی کوریج کو اس طرح دیکھ رہے ہوتے ہیں جس طرح کبھی پاکستان اور انڈیا
14 اگست آزادی کا دن ( Independenc day ) انتہائی جو ش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان 1947 ء میں برطانیہ اور ہندوؤں سے آزاد ہو کر معرض وجود میں آیا۔ 14 اگست
14اگست آرہاہے اس بار ہم یوم آزادی منائیں یا آزادی بنائیں گے؟ یہ وہ سوال ہے جو مجھ کو سوچنے پر مجبورکرنے لگا۔واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ چند نو جوان حصول تعلیم کے سلسلے میں شہر جانے کے لیے