![]()
پشاور (سٹی رپورٹر) معاشرتی کمزوری اور قانون کی چشم پوشی کے باعث نوجوان اور کم عمر بچے اپنا وقت اور پیسہ برباد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی تربیت کی تباہی میں بھی پڑ چکے ہیں ، قائد اعظم کی دل پسند گیم سنوکر کو ان لوگوں نے کم عمری میں ہی جوے اور مختلف شرطوں کا اڈہ بنا دیا ہے ، گیموں میں کم عمر بچوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی غیر اخلاقی حرکات نے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے ، جمعہ کے خطبات میں لوگوں کو محتاط ہو نے اور قانون کو ہوشیار ہونے کی اپیل کی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز تھانہ پہاڑی پورہ کی حدود حاجی کیمپ سیٹھی ٹاون حسین چوک کے خطیب مسجد قاری حمید گل نے تمام نمازیوں کی توجہ انتہائی اہم مسئلے کی جانب کرواتے ہوئے بتایا کہ انہیں تحریری طور پر علاقہ کے چند افراد کی جانب سے یہ شکایات موصول ہوئیں جنکے باعث وہ جمعہ کے خطبے میں بتانے پر مجبور ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل باالخصوص کم عمر بچوں کا مستقبل تباہ ہورہا ہے ۔ والدین بچوں کو پیسے دیکر یہ نہیں پوچھتے کے وہ اسکا استعمال کہاں کر رہے ہیں ؟ ۔ جبکہ بچے سارا سارا دن گیموں کی دکانوں میں اپنا وقت اور پیسہ تو برباد کرتے ہی ہیں ساتھ ہی ساتھ چند برے لوگوں کے باعث یہ بچے غیر اخلاقی حرکات کا نشانہ بھی بن رہے ہیں جو انکی آنے والی زندگی اور معاشرے کے لئے کسی طور اچھی بات نہیں ۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم کی سب سے دل پسند گیم سنوکر کے متعدد کلبز اب جوے اور شرطوں کااڈہ بن کر رہ گئے ہیں جہاں پر بڑی تعداد انہی کم عمر بچوں اور نوجوانوں کی ہوتی ہے ۔ ان میں سے چند ایک گیم کھیلنے آتے ہیں جب کہ زیادہ تر یا تو گیم کی جیت ہار پر پیسہ لگاتے ہیں یا مختلف نوعیت کی شرطیں لگائی جاتی ہیں ۔ اہل علم کا کہنا ہے کہ کم عمری سے ہی ایسی تربیت آگے چل کر ایک بڑے طوفان کو جنم دے سکتی ہے جسکی روک تھام کے لئے والدین کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جبکہ قانون کو بھی ایسے عناصر کے خلاف کاروائی کرنی ہوگی جو گیم کو منفی سرگرمی کے طور پر استعمال کرتے اور کرواتے ہیں ۔
