گستاخی۔۔۔۔ ابنِ نیاز

Ibn-e-Niaz

یہودیوں کے دور سے شروع ہوئی جنگ آج عروج پر ہے۔ انھوں نے اس وقت بنا کسی کے کندھے استعمال کیے ہمارے نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کی جرات کی تھی۔اور ایسے وقت میں جب آپ ان کے درمیان موجود تھے۔ جب اللہ پاک نے نبی کریم ﷺکے ذکر کو بلند کرنے کا وعدہ فرمایا ہے تو اس پاک ذات کو اپنے محبوب کی شان میں گستاخی کیسے گوارہ ہو سکتی تھی، جن کی وجہ یہ پوری کی پوری کائنات تخلیق کی گئی۔ اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺکے جان نثار و عاشقانِ رسول ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے ذریعہ سے ان گستاخانِ وقت کو جہنم واصل کروایا۔ اور پھر یہ عشق کی لڑی ایسی پروئی گئی کہ ہر گزرے وقت کے ساتھ اور ہر آنے والے پل میں اس میں عشاق کے موتیوں کا اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔اور اب جب یہودی بزعمِ خود تہذیب یافتہ کہلاتے ہیں تو بالواسطہ تیر و تفنگ چلانے کے دوسروں کے کندھے استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ کبھی ڈنمارک، کبھی ناروے تو کبھی فرانس کے چالی ہیبڈو کو سامنے لے آتے ہیں۔ چودہ سو سال پہلے کی شکست کو یہ آج تک نہیں بھولے۔ بلکہ میں تو یہی کہوں گا کہ انھیں اپنی ذلت کے وہ دن بھی یاد رکھنے چاہییں جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں انکو قریہ قریہ ، گاؤں گاؤں انکے اعمال کی وجہ سے بار بار رسوا کیا جاتا رہا اور بار بار معافی ملتی رہی۔ لیکن پھر بھی ان کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ اس طرح یہ سلسلہ آگے بڑھتا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ان کو خواب میں بھی مسلمانوں کی فتح اور اپنی ازلی شکست نظر آتی ہے۔ پھر جب وہ جاگتے ہیں تو ان خوابوں کو حقیقت سمجھ کر وہ مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی جس کو چودہ سو سال سے دیمک لگی ہوئی ہے، آج اپنے عروج پر نظر آتی ہے، لیکن جس چیز کو دیمک لگ جائے وہ کبھی بھی وہ والا عروج حاصل نہیں کر سکتی جس کی وجہ سے اس کا دنیا میں نیک نام ہوتا ہے، بلکہ جسے ہم بدنام والا عروج کہیں، ان کو یہ عروج حاصل ہے۔ انکی سازشوں کا جال ان کے دل و دماغ سے نکل کر پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ وہ نہ صرف خود اپنی سازشوں پر ذاتی طور پر عمل پیرا ہوتے ہیں بلکہ مسلمانوں کے علاوہ کسی بھی مذہب کو خاص طور پر عیسائیوں، جو کہ ریشہ دوانیوں میں ان کا بھر پور ساتھ دیتے ہیں، ہندو اور سب سے بڑھ کر ہمارے اسلام کے غدار اور نبی کریم ﷺکے باغی مرزائی انکے ساتھ میں ان سے دو قدم آگے رہتے ہیں۔اسی چیز کو سامنے رکھتے ہوئے پہلے ناروے ، پھر ڈنمارک اور پھر یورپ کے دوسرے ممالک کے کچھ اخبارات کے لوگوں کے سر میں خناس سمایا اور انھوں نے نعوذ باللہ (مجھ سے تو لفظ لکھے نہیں جارہے، اتنی جرات نہیں کر پارہا ) کچھ گستاخانہ خاکے شائع کر ڈالے۔ سلسلہ جاری رہا۔ لیکن ہر فرعونِ را موسیٰ کے مصداق راجپال ملعون کے لیے غازی علم دین شہید پیدا ہوا تو آج کے دور میں عامر چیمہ شہید پیدا ہوا۔ آج فرانس کے کے چارلی ہیبڈون اخبار نے گستاخی کرنے کی جرات کر ڈالی کہ آزادی رائے ان کا حق ہے۔ کوئی ان سے یہ پوچھے اس میں رائے کہاں سے آگئی، یہ تو سیدھا سیدھا دو جمع دو چار کا فارمولا ہے۔ آپ گستاخانہ کاکے چھاپو یعنی تصویری اور کہو کہ یہ آزادی رائے ہے۔ رائے تو تب ہوتی ہے جب کچھ لکھا جائے، اس پر تبصرہ کیا جائے، دوسروں سے بحث کی جائے، کوئی تجزیہ جاری ہو۔ تو کہا جاسکتا ہے کہ کہ آزادء رائے کا اظہار ہو رہا ہے۔ یہ کون سی آزادی ہے۔ یہ آزادی نہیں، دوسرے مذہب پر بلاواسطہ حملہ ہے۔
ویلنٹائن ڈے یعنی 14 فروری 1989 سے شروع ہونے والا قصہ جب ملعون سلمان رشدی نے شیطانی گیت (ورسس کا ترجمہ میں تو گیت ہی کروں گا) کے نام سے ایک بدنام ترین کتاب لکھی۔ جس کی بنا پر ایک تو مسلمانوں میں اشتعال پھیلا ، دوسرا ایران کے امام خمینی نے اسکے سر کی قیمت لاکھوں ڈالر میں مقرر کر دی۔ اگر کوئی اس کو اگلے دو، تین سالوں میں جہنم واصل کر دیتا تو مجھے یقین ہے کہ ملعونہ تسلیمہ نسرین کو کبھی جرات نہ ہوتی کہ وہ ہمارے آقائے نامدار ، احمد مجتبٰی ، محمد مصطفٰی ﷺکی شان میں کبھی گستاخی کر سکتی۔ ڈنمارک والوں کو اپنے اخبار یولاندر پوسٹن میں کبھی بھی گستاکانہ خاکے چھاپنے کی ہمت پیدا نہ ہوتی۔
لطف کی بات تو یہ ہے کہ انگلینڈ کے ہاں قانون موجود ہے کہ جو مذہبی ہستیوں کی شان میں گستاخی کرے گا، اس کو قرار واقعی سزا دی جائے گی، لیکن یہ انگلینڈ خود اپنے قانون سے اس وقت رو گردانی کر گیا جب 1977 میں جیمز کرکپ نامی شاعر نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کومحبت کے دیوتا سے تشبیہہ دی۔ اگرچہ شاعر کے خلاف مقدمہ کامیاب تو ہو گیا لیکن لکھاریوں اور شاعروں کے بیچ میں یہ قانون ہمیشہ کے لیے ایک متنازعہ قانون کی شکل اختیار کر گیا۔ اس کے بعد پھر عدالتوں کو جرات نہ ہوئی کہ وہ اس قسم کے کسی مقدمے کو کوئی توجہ دیتے۔
محترم قارئین۔ ہم مسلمانوں اقبال کے بقول ایک ہونا ہے حرم کی پاسبانی کے لیے اور سب جانتے ہیں کہ حرم میں صرف خانہ خدا ہی نہیں شامل بلکہ ہمارے زندگی کی راحت، ہمارے دلوں کا سکوں، وجہ تخلیق کائنات ، سرورِ دو عالم ، جانِ رحمت ﷺ( ان پر لاکھوں کروڑوں درود و سلام ) بھی ہیں۔ اسلیے جس دن ہم ایک ہو گئے، ہم میں اتحاد و اتفاق پیدا ہو گیا اور یہودیوں کے بقول جس دن ہماری صبح کی نماز میں جمعۃالمبارک کے وقت کی تعداد اکٹھی ہو گئی اس دن ان یہودیوں کا دنیا سے پتہ کٹ جائے گا۔ لیکن ہم کیوں اس وقت کا انتظار کریں۔ ہم پہلے سے ہی کیوں نہ عشقِ محمد میں اپنی زندگی گزارنے کا عہد کر لیں۔ کیوں نہ انکی چھوٹی سنتوں کو اپنانے کا عمل شروع کر دیں۔ ہم یہ نہ سوچیں کہ اور کون سی سنتوں پر عمل کرتے ہیں۔ نہ دوسروں کو یہ کہیں کہ کیا بات ہے تم نے تو داڑھی رکھ لی۔ نماز کے لیے کافی عرصہ کے بعد آنے سالے شخص کو یہ ہر گزہ نہ کہیں کہ ارے واہ، آج یہ چاند کدھر سے نکل آیا۔ نہیں بلکہ سب کی حوصلہ افزائی بھی کریں اور خود بھی ہر ممکن طریقے سے سنت پر عمل کریں۔
پھر ہم سنتوں پر عمل کرتے ہوئے اپنے اخلاق کو بھی درست کریں، اور اپنی عادات و اطوار و اخلاقیات سے یہ ثابت کریں کہ مسلمان ہر گز دہشت گرد نہیں ہے(اگرچہ ضرورت نہیں ہے ثابت کرنے کی )۔ بلکہ مسلمان تو اپنے نام کے مطابق سلامتی کا مظہر ہے۔ امن و آشتی کا پیامبر ہے۔ نہ کبھی کسی کو نقصان دیتا ہے اور نہ کبھی اس قسم کی سازش میں شریک ہو تا ہے جس میں انسانیت کو کسی بھی قسم کا نقصان کسی بھی ذریعے سے پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ ہر اس فورم پر جہاں جہاں اسکی پہنچ ہے، اقوامِ متحدہ ہو یا او آئی سی، اپنی آواز بلند کریں۔ ہمیں کسی دلیل دینے کی ضرورت نہیں، بلکہ یہ کہہ دینا ہی کافی ہے کہ ہمارے نبی کریم ﷺکی توہین ہر گز برداشت نہیں کی جائے گی۔ اگر اس قسم کی گستاخیوں کا سلسلہ روکا نہ گیا تو لازمی ہو گا بلکہ مسلمان حکمرانوں پر فرض ہو جائے گا وہ اپنے اپنے ملک کے آئین میں ، قوانین میں اس قسم کی ترمیم کریں جس میں یہ لکھا جائے کہ گستاخِ رسول ﷺکا سر تن سے جدا کیا جائے گا چاہے اسکا تعلق جس ملک سے بھی ہو۔ اگر امریکہ اپنے ملک کی جھوٹی سلامتی و بقا کے لیے ہزاروں لاکھوں میل دور افغانستان، عراق، مصر، لیبیا پر حملے کر سکتا ہے، کرواسکتا ہے تو پھر رسول پاک ﷺ کی شان میں گستاخی تو ہم کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے۔ ان کی شان تو اللہ پاک نے بلند کی ہے، تو ہم اس میں کمی کیسے آنے دے سکتے ہیں۔
سن لو اے یہودیو ، نصاریٰ ، ہندوؤ اور مرزائیو، سدھر جاؤ۔ اب بھی وقت ہے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ وقت آپ کے ہاتھ سے نکل جائے اور پھر آپ کو نہ تو کسی گھاٹی میں پناہ ملے گی اور نہ ہی کسی جہنم میں۔چارلی ایبڈو والو، تم نے اپنی عاقبت خراب تو کر ہی دی۔ اب دنیا میں کب تم نے جہنم واصل ہونا ہے یہ یا تو اللہ جانتا ہے یا پھر کوئی صدقِ دل سے عشقِ رسول میں ڈوبنے والا۔اللہ سب کا حامی و ناصر ہو۔

Short URL: http://tinyurl.com/h5ywcrn
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *