بچوں کا اغوا، زیادتی اور بہیمانہ قتل۔۔۔۔ تحریر: ابنِ نیاز

خبر بظاہر معمولی سی تھی لیکن اس کو پڑھ کر میرے بدن کا ہر رونگٹا کھڑا ہو گیا۔ اور زبان سے بے اختیار استغفار کے الفاظ نکلنے لگے۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ ہمارا معاشرہ کس سمت میں جا رہا ہے۔ انفرادی زندگی میں اچھے اعمال کی انتہائی حد تک کمی ہو گئی ہے ، بلکہ قلت کہیں یا قحط کہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ اللہ کا عذاب اگر اس قوم پر نہیں آرہا تو صرف پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی دعا کی برکت سے۔ ورنہ ہمارے اعمال اس حد تک پراگندہ ہو چکے ہیں کہ صغیرہ تو صغیرہ ، کبائر گناہ بھی ان کے آگے کچھ نہیں۔اللہ چاہے تو ہر گناہ کو معاف کر دے گا سوائے شرک کے۔ لیکن کاش ہم رب کائنات سے یہ پوچھ سکتے کہ کراچی کے علاقے رضویہ میں ایک ڈیڑھ سالہ معصوم بچی کو پہلے اغوا کیا گیا۔ پہلے تو اس پر ہی غور کریں۔
اتنی چھوٹی بچی جو ابھی شیر خوارگی کی حالت میں ہے، پہلے تو شاید چل بھی نہ سکتی ہو، لیکن اگر چلتی بھی ہو گی تو ڈگمگاتے ہوئے قدموں سے ایسی چال میں کہ اس کے انداز پر اس کی اس ادا کو دیکھنے کے لیے سارے گھر والے موجود ہوں گے اور سب موجود ممبران کو اس پر بے اختیار پیار آتا ہو گا۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر اسکو پیار کرنے کے لیے آگے بڑھتا ہو گا۔ پھر وہ جو باتیں کرتی ہو گی اپنی توتلی زبان میں تو ہر کوئی اسکے الفاظ کو دہرا کو اسی انداز میں بے اختیار اسکی بلائیں لیتا نظر آتا ہو گا۔تو ایسے میں اس کی ماں پر، باپ پر، دادا دادی پر، نانا نانی پر غرض ہر خونی رشتہ داری پر کیا گزری ہو گی، جب انھوں نے بچی کو غائب پایا ہو گا۔ سارے گھر میں ڈھونڈنے کے باوجود اسکی کلکاریاں نہ سنائی دی ہوں گی۔ محلے بھر کا کون سا کونہ چھوڑا ہو گا جہاں اس معصومہ کو نہ تلاش کیا گیا ہو۔ ایک دوسرے رشتہ داروں کے گھر ہزاروں فون کالز کی گئی ہوں گی لیکن بچی کو نہ ملنا تھا، نہ ملی۔
اس کے بعد خبر کا اگلا حصہ کہ بچی کی لاش ملی۔یہاں تک تو بات ٹھیک تھی، اس کے ماں باپ، سارے رشتہ دار اغوا کرنے والے کو کوس کر ، بددعائیں دے کر بالآخرخاموش ہو جاتے۔ زیادہ سے زیادہ خبر پڑھنے والوں نے بھی اس سفاک شخص کو برا بھلا ہی کہنا تھا جو کہ ہمارے ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ لیکن جب ان والدین کو پوسٹ مارٹم کی رپورٹ ملی ہو گی تو اس ماں کی آہ نے عرش کو ہلا نہ دیا ہو گا، اس پر زلزلہ نہ طاری کر دیا ہوگا۔ رپورٹ کیا تھی گویا بم کا دھماکہ تھا۔
ظالم ، سفاک، سنگدل اغوا کار نے بچی کو نہ صرف اغوا کیا بلکہ اس کے ساتھ زیادتی بھی کی (لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو ہیں اور ہونٹ بھنچے ہوئے ہیں کہ میرا بس نہیں چل رہا کہ اس اغوا کار ظالم شخص کے گریبان کو پکڑ کر پوچھوں ، بتا او سنگدل، تو نے یہ ظلم کیوں کیا؟)۔ اف توبہ اس شخص کے دل میں ایک ذرہ بھی رحم نہیں جاگا۔ رتی برابر بھی پل بھر کے لیے اس کو یہ خیال نہ آیا ہو گا کہ وہ کیا ظلم کرنے جا رہا ہے۔ آخر کیوں؟ وہ یہ ظلم کرنے پر کیسے تیار ہو گیا؟ کس چیز نے اس کو یہ سفاکانہ فعل کرنے پر مجبور کیا۔بظاہر تو قیاس آرائی ہی کیا جاسکتی ہے کہ یہ وجہ ہو گی، فلاں وجہ ہو گی۔ لیکن جو وجہ سب سے بڑی ہے وہ اسلام کے احکامات سے دوری ہے، یا ان سے رو گردانی ہے یا ان کی اپنے مطلب کی تشریح ہے بالکل یہود و نصارٰی کی طرح۔بشرطیکہ وہ شخص مسلمان ہو۔
ایک مسلمان کیلئے زنا کی جو سزائیں اللہ پاک نے مقرر کی ہیں وہ قرآن پاک کے احکامات سے واضح ہیں۔کوڑے اور سنگساری کی سزا اور کسی بند جگہ پر نہیں بلکہ کھلے عام بیچ چوراہے کے۔ تاکہ دیکھنے والے عبرت حاصل کریں اور جن کے دماغ میں اگر کوئی ایسی گھٹیا ترین حرکت کرنے کی سوچ بھی لہرائی ہے وہ ابھی سے مستقبل کے لیے ہمیشہ کے لیے توبہ کر لیں۔ توکیا یہ شخص مسلمان نہیں تھا؟ اگر تھا تو پھر یہ نہیں جانتا ہو گا کہ اللہ نے جب یہ سزائیں مقرر کی ہیں تو اسکا صاف مطلب ہے کہ یہ گناہِ کبیرہ ہی نہیں بلکہ معاشرے میں بگاڑ کی بھی ذمہ دار ہیں۔
شاید یہ ظالم، سفاک شخص شادی کی عمر کو پہنچنے کے باوجود نامعلوم وجوہات کی بنا پر شادی نہ کر سکتا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ جوانی جو سر چڑھ کر بول رہی تھی، امڈ امڈ کر آئی ہوئی تھی، قابوسے باہر ہو گئی۔ اور جب یہ جوانی بے قابو ہوئی تو اس طرح کہ ایک ڈیڑھ سالہ بچی بھی نہ بچ سکی۔ یا پھر اس شخص کے جذبات خراب کرنے میں تیسرے درجے کی واہیات فلموں کا عمل دخل ہو گا جنھوں نے اس کے جذبات کو بھڑکایا ہو گا۔ جب اسکی ہیجان خیز طبیعت اس کے قابو سے باہر ہو گئی ہو گی تو گھر سے نکلا ہو گا۔ اسکو گلی میں یہ معصوم بچی نظر آئی ہو گی۔ عین ممکن ہے کہ وہ بچی کا کوئی رشتہ دار ہو۔ کیونکہ اس طرح ایک غیر شخص جب محلے کی کسی بچی کو پہلی مرتبہ اٹھا تا ہے تو محلے میں کوئی تو ایسا ہوتا ہے جو گھروں میں آنے جانے والے سب مردوں کو پہنچانتا ہے۔تو یہ بھی کوئی جان پہچان والا ہو گا۔ تب ہی بچی بھی نہیں بولی ہو گی ، کیونکہ اکثر بچے چھوٹے ہوں یا بڑے، انجان شخص کو اپنے کو ہاتھ لگاتے دیکھ کر رو پڑتے ہیں، چیخ پڑتے ہیں، شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔ پھر اس ظالم شخص نے کیا کیا، وہ بیان ہو چکا ہے۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں جو پیش آیا ہو۔ اس سے پہلے بھی ہم اخبارات میں پڑھتے رہتے ہیں۔ اور جب کہ الیکٹرانک میڈیا کا تو کام ہی سنسنی پھیلانا ہے۔ اس نے یہ خبر اور اس طرح کی مزید خبروں کو ڈراموں کی صورت میں پیش کرنا ہے اور اس طرح پیش کرنا ہے کہ بجائے اسکے کہ لوگ عبرت حاصل کریں، ان کے دل و دماغ میں ایک جنگ شروع ہو جاتی ہے کہ ایک بار یہ جرم سرز د کر کے تو دیکھیں ہوتا کیا ہے؟ کیا واقعی ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ میڈیا نے دکھایا ہے۔ آج تک میڈیا نے کبھی اس پر بحث نہیں کی کہ ان ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے کون سے قوانین وضح کیا جائیں۔میڈیا یہ تو کر لیتا ہے کہ خود ہی تین چار افراد کو مجرم بنا کر کہیں پر چھپا دیتا ہے اور پھر پولیس پارٹی کے ساتھ اس پر چھاپہ ڈالتا ہے کہ یہ دیکھیں جی ایک مجرم پکڑا گیا، دو بھاگ گئے۔ پولیس والے اس کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ ایک نے دیوار پھلانگ لی ہے، دوسرے کا پاؤں الجھ گیا ہے۔ اور باہر موجود پولیس نے دیوار پھلانگنے والے کو پکڑ لیا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں بالکہ لائیو۔ کوئی پوچھے کہ آپ کو کیسے پتہ تھا کہ یہ مجرم دیوار ہی پھلانگے گا اور آپ ایک کیمرہ لے کر دیوار کے اس پار بھی بالکل تیار حالت میں کھڑے ہوں گے؟
یہ سارا کچھ لکھنے کے بعد میرا سوال یہ ہے کہ اربابِ اختیار ایسے ایسے قوانین تو بناتے ہیں جن سے ان کے ہاتھ مضبوط ہوں، وہ ہمہ وقت حکومت میں رہیں یا ریٹائر بھی ہو جائیں تو انکو ہمیشہ سات توپوں کی سلامی ہو۔ کبھی ان کے دل و دماغ میں یہ خیال نہیں آیا کہ معاشرے کے ایسے ناسوروں کے لیے بھی کوئی قانون بنا ڈالیں۔ ایسا قانون جس کی بنیاد پر ایسے ظالم اور سفاک شخص کو پکڑ کر بیچ چوراہے میں کھڑا کر کے پہلے اس ے سنگسار کیا جائے۔ پھر اسکے زخموں پر سرخ مرچوں کا چھڑکاؤ کیا جائے۔ اس کے بعد اس کے بدن کے ہر عضو کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے انہیں کتوں کے آگے ڈالا جائے۔ ایسے شخص کو قبر کی مٹی کی ہوا بھی نہ لگائی جائے۔ بے شک یہ سزا شریعت کے خلاف ہو گی لیکن ایسے سنگدل کے لیے یہ سزا بھی کم سے کم ہے۔ہونی تو اس سے بھی بڑھ کر کوئی سزا چاہیے۔
اسکے ساتھ ساتھ میں عوام سے بھی التجا کروں گا کہ ان ناسوروں سے بچاؤ کے لیے آپ بھی اپنا کردار ادا کریں۔ بچوں کے اکیلے میں کبھی بھی گھر سے باہر نہ نکلنے دیں۔ بچوں کے سگے چچا یا ماموں تو ٹھیک ہیں، لیکن جو ان سے ہٹ کر آپ کے یا اہلیہ کے کزن بنتے ہیں وہ ایک تو آپ کی گھر والی کے لیے ویسے بھی نامحرم ہیں۔ اول تو ان کا داخلہ بھی گھر کے اندر ممنوع ہے، بیٹھک کی حد تک ٹھیک ہیں۔ دوسرا آپ کی موجودگی میں اگر وہ بچوں کو لاڈ پیار کریں تو بہتر، ورنہ کبھی بچوں کو اکیلے میں ان کے ساتھ نہ جانے دیں۔کیونکہ اس طرح کے واقعات کے پیچھے ، جس میں محلے سے بچے کو کوئی لے کر جا رہا ہو اور بچہ شور نہ مچائے تو ظاہر ہے کہ بچہ اپنے آپ کو محفوظ ہاتھوں میں سمجھتا ہے، اکثر ایسے ہی رشتہ داروں کا تعلق ہوتا ہے۔
بچوں کو اکیلے میں گھر سے نہ نکلنے دینا بھی ایک مسلہ ہے۔ آپ کے ذہن میں یہ بات ہی آتی ہو گی کہ پھر بچہ بولڈ کیسے ہو گا۔ وہ معاشرے میں کیسے زندگی گزارے گا۔ ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ جب شام ہو جائے(یعنی سورج غروب ہونے کا وقت ہو) تو اپنے بچوں کو گھر سے باہر نہ نکلنے دو۔ کیونکہ اس وقت شیاطین جن روئے زمین پر پھیل جاتے ہیں ۔ تو ایسا نہ ہو کہ وہ آپ کے بچوں کو کوئی نقصان پہنچا دیں۔ ہاں جب اتنا وقت گزر جائے کہ اندھیرا دکھائی دینے لگے تو بے شک بچوں کو چھوڑ سکتے ہو۔ یہ گھر سے باہر نکلنے کا مطلب بڑے گیٹ سے باہر نکلنا ہی نہیں ہے بلکہ اگر آپ کے گھر میں کوئی صحن ہے، لان ہے تو وہاں بھی بچوں کو نہ بیٹھنے دیں، نہ کھیلنے دیں۔ حدیث کے یہ الفاظ سامنے رکھ کر اگر آپ غور کریں تو شیاطین جن جس طرح بچوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں خاص طور پر ایک خاص وقت میں ۔ تو کیا انسان جس کی سرشت میں دونوں باتیں ہیں، سرکشی ہے تو انتہا کی۔ عاجزی ہے تو بے پناہ۔ تو کیا انسان بچوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ ذمہ داری اگر معاشرے کی ہے تو آپ کی اپنی بھی ۔










Leave a Reply