مولانا صاحب ذرا سنبھل کے چلیں۔۔۔۔ تحریر:سعیداللہ سعید

Saeed Ullah Saeed
Print Friendly, PDF & Email

کون نہیں جانتا کہ مولانا فضل الرحمٰن بڑے سیاست دان ہے اور ملک کی ایک ہم جماعت کا قائد بھی۔وہ جہاں اپنی پارٹی کارکنان کے لیے پیر و مرشد کا حیثیت رکھتا ہے تو وہی ان کے اکثر مخالفین بھی ان کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ پیش آتے ہے۔ مولانا صاحب کا دعوہ ہے کہ وہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کوشاں ہے اور ان کے پیروکار بھی یہی سجھتے ہیں کہ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے اگر کسی نے تن،من، دھن کی بازی لگائی ہے۔ تو وہ ہے مولانا فضل الرحمان ۔لیکن بدقسمتی سے گذشتہ کچھ عرصے سے مولانا صاحب جو سیاست کررہے ۔ اس سیاست کو کرتے ہوئے ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ تو دور کی بات اس طرف ایک قدم بھی نہیں بڑھایا جاسکتا۔بلکہ سچی بات یہ ہے کہ حضرت کو اگر ان کے مشیروں اور دیگر بہی خواہوں نے برقت اس سیاست کو جو ان دنوں وہ کررہے ہیں ، ناروکا۔ تو میں سمجھتاہوں کہ وہ دن دور نہیں جب جمیعت علماء اسلام اپنا موجودہ حیثیت کھوکر مزید سمٹ جائے۔
یوں تو کئی وجوہات بیان کی جاسکتی ہے جو JUI کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے لیکن دو وجوہات ایسی ہے کہ اگر جمیعت نے فی الفوران سے رجوع نہ کیا تو میں سمجھتا ہوں کہ جمیعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کا خمیازہ عرصہ دراز تک مخلصین جمیعت کو بھگتنا پڑے گا۔ ان دو وجوہات میں پہلی وجہ ہے مولانا صاحب کا پی ٹی آئی چئیرمین کے پیچھے ہاتھ دھوکے پڑنا۔ ویسے تو عام انتخابات 2013میں جمیعت علماء اسلام کو شکست فاش سے دوچارکرنے کے بعد مولانا کو جہاں بھی موقع ملتا ہے تو ان کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کو یہ باور کرائے کہ عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے، لیکن ان دنوں موصوف نے عمران کو یہودیوں کا کارندہ قرار دینے کی جو مہم شروع کررکھی ہے ، اس کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی۔سوات اور بنوں کے جلسوں کے بعد کوئٹہ کے جلسے میں قائد جمیعت نے تو عمران خان کو باقاعدہ چیلنج کیا کہ وہ اسے عدالت میں یہودی ایجنٹ ثابت کرسکتا ہے۔ اس بارے میں حضرت نے یہ دلیل پیش کی کہ خان صاحب نے میئر لندن کے انتخاب میں ایک پاکستانی مسلمان صادق خان کے بجائے ایک یہودی زیک گولڈ ستھ کو سپورٹ کیا لہٰذا ثابت یہ ہوگیا کہ عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے۔
کوئٹہ جلسے کی تفصیلات جب میں نے مختلف اخبارات میں پڑھی تو میں چکراکر رہ گیا۔ میں حیران و پریشان ہوں کہ محض سیاسی اختلاف کی وجہ سے بھی کوئی اتنا آگے جاسکتا ہے کہ بنا کسی تحقیق کے ایک مسلمان کو بار بار یہودی ایجنٹ قرار دیتا رہے اور اسے ثابت کرنے کے لیے انتہائی بھونڈی اور لغوقسم کی دلیل پیش کریں۔ میں بھی پی ٹی آئی کے موجودہ رویئے کے حوالے سے تحفظات کا شکار ہوں خصوصاً ان کے جلسوں میں خواتین کی ہلہ گلہ کرنے پر ، کیونکہ یہ چیزیں ہماری روایات اور ہمارے دین کا حصہ نہیں لیکن کیا ہمیں یہ حق پہنچتا ہے کہ ہم چئیرمین تحریک انصاف کو یہودی ایجنٹ قرار دیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہرگز نہیں کیونکہ اسلام ہمیں بنا کسی ثبوت کے ایسی باتوں سے منع کرتا ہے اور پھر رہبر جمیعت کو تو ایسی بات منہ سے نکالتے ہوئے سو بار سوچنا چاہیے کیونکہ وہ ایک سیاسی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ عالم دین بھی ہے اور یہ بات کسی عالم کو زیب نہیں دیتی کہ وہ محض سیاسی اختلاف اور انتخابی شکست کے خفت کو مٹانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے۔جہاں تک بات ہے لندن کے صادق خان کا ،تو اس بارے میں مولانا صاحب کی خدمت میں انتہائی ادب سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ جو باربار پاکستانی مسلمان صادق خان کا رٹ آپ نے لگا رکھا ہے، تو کیا اسلام ہمیں ہم جنسی پرستی کا درس دیتا ہے؟ جو ہم صادق خان کو پکا سچا مسلمان بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ میرے محترم !صادق خان اور زیک سمتھ کا مقابلہ ایک انتخابی عمل کا حصہ تھا ۔خدارا اسے اسلام اور یہودیت کا مقابلہ نہ بنائیں۔ البتہ آپ جو بار بار صادق خان کا تذکرہ انتہائی پیار و محبت سے کرتے ہیں تو ذرا یہ بتائیں کہ وہ برطانیہ میں کتنی بار اہل کشمیر پر ہونے والے مظالم پر لب کشائی کرچکے ہے یا اس نے کتنی بار پاکستان کے حق میں دو لفظ بولے ہیں۔ میرے محترم اس بات کی بھی ذرا وضاحت کیجیے کہ ایک شخص جو کہ لڑکے کی شادی لڑکے اور لڑکی کی شادی لڑکی سے کرنے زبردست حامی ہواور وہ اس کے حق میں ووٹ بھی دے توکیاہم اسے مسلمان اور پاکستان کا خیر خواہ کہہ سکتے ہیں؟؟؟
دوسری وجہ جو جمیعت علماء اسلام کے لیے نقصان دہ ثابت ہورہا ہے، وہ ہے مولانا صاحب کی جانب سے ہر قیمت پر وزیر اعظم پاکستان میاں محمدنواز شریف کا ساتھ دینا۔ ان دنوں وزیر اعظم پانامہ کے جس دلدل میں پھنسا ہوا ہے،اسے کوئی ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ۔ حتیٰ کہ ہر قیمت پر ان کا ساتھ دینے والی پاکستان پیپلز پارٹی بھی ان سے کنارہ کش ہوچکی ہے لیکن آفسوس کہ مولانا صاحب ان کے وکیل صفائی بنے ہوئے ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جمیعت کے مخلص کارکنان شدید اضطراب کا شکار ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جمیعت اور نواز لیگ دو الگ الگ منزلوں کے مسافر ہے لہٰذا مولانا صاحب کو چاہیے کہ وہ ذرا فاصلہ لے کر چلے۔
جمیعت کے ہمدردوں اور ان کے کارکنان کا دکھ بجا ہے کیونکہ جمیعت کا منشوروطن عزیز میں اسلامی نظام کا نفاذ ہے، جبکہ میاں صاحب اور ان کے قریبی رفقاء ملک کو لبرل بنانے پر مصر ہے اور یہ بات ہر ذی شعور اچھی طرح جانتا ہے کہ پاکستان میں لبرلزم کا مطلب کیا ہوسکتا ہے۔ جمیعت اور نواز لیگ میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ نواز لیگ ملک سے سودی نظام ختم کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں جبکہ JUIسے وابستہ علماء کرام سود کو اللہ اور اس کے رسولﷺ سے جنگ قرار دیتے ہیں۔اس کے علاوہ اوربھی کئی ایسے عوامل ہے کہ جس کے بارے میں دونوں پارٹیوں کی سوچ میں زمین و آسمان کا فرق ہے لیکن معلوم نہیں کہ مولانا صاحب کیوں اس بارے نہیں سوچتے ۔لیکن اگر ان کو جمیعت کی بقاء عزیز ہے تو ایک تو اپنی زبان کو سنبھالنا ہوگا ساتھ ہی ساتھ میاں صاحب کے وکالت سے دستبردار بھی ہونا پڑے گا۔

Short URL: http://tinyurl.com/gqovch5
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *