داجی میں بے گناہ ہوں۔۔۔۔ تحریر: سعیداللہ سعید

Saeed Ullah Saeed
Print Friendly, PDF & Email

۔2مئی کو روزنامہ آزادی سوات کا ادارتی صفحہ جیسے ہی کھولا تو اس کالم پر نظر پڑی جس کا عنوان تھا’’ داجی میں بے گناہ ہوں،، اپنے اس کالم میں محترم کالم نگار نے عورت کی مظلومیت کا رونا اتنی معصویت سے رویا ہے کہ پڑھنے والے کا دل بھی بے اختیار رونے کو چاہتا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عورت آج اس مقام سے محرو م ہے ، جو اس کا حق تھا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عورت کا اپنے جائز حقوق سے محرومی عالمی مسئلہ ہے ۔ اس مسئلے کو کسی ملک ، علاقے یا قوم سے جوڑنا قطعاً جائز نہیں۔ دوسری بات یہ کہ یہ ایک ایسا حساس معاملہ ہے کہ اس پر قلم اٹھانے سے پہلے بندے کو مکمل تحقیق کرلینی چاہیے، کیونکہ محض سنی سنائی باتوں کو قلم بند کرکے عوام تک پہنچانا نہ صرف لکھاری کو ناقابل اعتماد بناسکتی ہے بلکہ ان سے ان لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے جو ہمیشہ وطن عزیز کے خلاف منفی پروپیگنڈے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ایک اور اہم بات یہ کہ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ عورت پر ظلم آخر ہوتا کیوں ہے لیکن بدقسمتی سے محترم جاوید شیخ صاحب نے اپنے کالم ’’داجی میں بے گناہ ہوں،، میں ان سب باتوں کا لحاظ نہیں رکھا۔ مثلاً: کالم کے پہلے پیراگراف کے تیسری سطر میں محترم لکھتے کہ، یہ بھی تاریخ عالم کی تلخ حقیقت ہے کہ دنیا کی بیشتر تہذیبوں میں عورت کو وہ مقام نہیں دیاگیا جس کی وہ مستحق ہے۔،،بس دنیا کے تہذیبوں کے بارے میں موصوف اتنا لکھنے کے بعد خاموش ہے لیکن جب بات پاکستان کی آتی ہے تو فاضل قلم کار کا قلم رکنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ اس حوالے سے وہ لکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے کا ایک اہم مسئلہ بھی خواتین پر تشدد ہے۔ پاکستان میں ہر مرد کلہاڑی اور تیزاب لے کر اپنی عورتوں کو نشان عبرت بنانے پر تلاہوا ہے اور عورت غیرت کے نام پر قتل ہورہی ہے۔ اکثر سننے میں آتا ہے کہ بھائی نے بہن کو غیرت کے نا م پر قتل کردیا،ماموں نے غیرت کے نام پر بھانجی کو ابدی نیند سلادیا، شوہر نے غیرت کے نا م پربیوی کو موت کے گھاٹ اتاردیا یاپھر باپ نے اپنی ہی بیٹی کو۔ ایسا واقعہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بیٹوں نے اپنی ماں تک کو غیرت کا نام قتل کیا ہے۔ایک جگہ اس نے ایک واقعے کا تذکرہ بھی کیا ہے کہ کس طرح ایک ظالم اور درندہ صفت باپ نے اپنی جواں سال بیٹی کو غیرت کے نا پر قتل کیا۔ لکھتے ہے کہ اس نے پہلے معصوم بیٹی کو گھر کے ایک کمرے میں ایک ہفتے تک بھوک و پیاس کی حالت میں تشدد کا نشانہ بنایا۔ ایک ہفتہ بعد جب ظالم باپ نے رائفل کلاشنکوف اٹھائی اور لڑکی کو قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا تو اس معصو م کی زبان پر یہ الفاظ آئے کہ ’’داجی میں بے گناہ ہوں ،، مجھے قتل مت کرو۔،، لیکن اس ظالم اور بے رحم باپ نے اپنی معصوم بیٹی پر پہلے وحشیانہ تشدد کیا اور بعد میں اسے گولیوں سے چھلنی کردیا۔ تیسرے پیراگراف کے شروع میں جاوید شیخ صاحب نے لکھا ہے کہ اس طرح کے درجنوں واقعات روزانہ کے حساب سے دیکھنے میں آتے ہیں۔
قارئین کرام! اب ہم محترم جاویدشیخ صاحب کے لکھی ہوئی باتوں کا تجزیہ کریں گے کہ اس میں کتنی حقیقت ہے اور کتنا فسانہ۔ اس بات میں کسی شک کی گنجائش نہیں کہ عورت کو وہ حقوق نہیں مل رہے ، جوان کا حق ہے۔ ہمیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہے ہندو ہو یا عیسائی یہودی ہو یا بدھ مت کے اننے والے یہ سب عورت کو بجائے عزت دینے کی منحوس شے، سماج پر بوجھ اور گناہوں کی جڑ سمجھتے ہیں۔ جدید دور پر اگر نگاہ ڈالی جائے تو آج کی جدید تہذیب نے عورت کو سبز باغ دکھاکرگھر سے بے دخل کردیا اور آج وہ بی چاری دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے آج ایک ماں جب صبح کو گھر سے اپنا چھوٹاسا بچہ چھوڑکر معاش کی تلاش میں نلکتی ہے تو اس بارے میں ہم تصور بھی نہیں کرسکتے کہ ان کی دل پر کیا گزررہی ہوگی ۔ سارا دن غیر مردوں کے ذوں معنی جملوں اور بدن کو چھیرتی ہوئی نگاہوں کا سامنا کرتے ہوئے جب شام کو گھر لوٹتی ہے تو اس کا روح گھائل جبکہ جسم تھکن کے مارے درد سے چور ہوتا ہے ۔ ایسے میں وہ بییچاری چاہتی ہے کہ اسے سکون و اطمینان ملے۔ آفسوسناک امر یہ ہے کہ سکون کے اصل زرائع کو ان کی نظروں رکھنے کے لیے جدید تہذیب نے عورت کو ڈش، کیبل ، سی ڈی ، فلم ، تھیٹر، ڈرامے اور مخلوط محافل کے پیچھے لگا دیا جس سے اس بیچاری کی حالات ایسی ہوگئی ہے کہ بیچاری گھر کی رہی نہ گھاٹ کی۔ اس کے برعکس اسلام عورت کو گھر کی ملکہ، شوہر کا لباس و سکون ، بھائی کی ہمدرد، باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اچھی تربیت کرنے کی صورت میں جنت کی ضمانت قرار دیتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ جنت جیسے عظیم نعمت کے بارے میں اسلام کہتا ہے کہ وہ ایک عورت یعنی ماں کے قدموں تلے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ عورت اپنے اس مقام کو سمجھے جوکہ اسلا م نے اسے دے رکھا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ اسلام سے پہلے لڑکی کی پیدائش کو باعث عار سجھا جاتاتھا اور ان کو زندہ دفن کرنے کی رواج عا م تھا لیکن اسلام نے اسے تحفط دیا نہ صرف تحفظ دیا بلکہ باعزت اور اعلیٰ مقام بھی دیا۔ جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں اور انشاء اللہ آئندہ کسی کالم میں اس پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔ جہاں تک تعلق ہے پاکستانی معاشرے کا تو اس میں یقیناً کسی شک کی گنجائش نہیں کہ ہمارے اس معاشرے میں کسی نہ کسی حد تک عورت کا استحصال ہورہا ہے لیکن موصوف کی یہ بات مکمل طور مبالغہ آرائی پر مبنی کہ پاکستان میں ہر مرد ہاتھ یں تیزاب یا کلہاڑی لے کر عورت کو قتل کرنے پر تلا ہواہے۔ یہ بھی موصوف کی بدگمانی ہے کہ اس طرھ کے واقعات ’’یعنی عورتوں کی قتل کے واقعات،، درجنوں کے واقعات روزانہ کے حساب سے دیکھنے میں آتے ہیں۔ نہ جانے محترم نے کہاں کی تصویر کشی کی ہے کیونکہ ہر باخبر شخس جانتا ہے کہ وطن عزیز میں واقعتاً نہ تو ہر مردہاتھ میں کلہاڑی لے کر کھڑا ہے اور ناہی تیزاب کی بوتلیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ ایسے واقعات اکثر نہین بلکہ شاذونادر ہی پیش آتے ہیں اگرچہ اصولی بات یہ ہے کہ اس قسم کا ایک بھی واقعہ ہم سب کے لیے باعث شرم ہے لیکن جیسا کہ کالم کی ابتداء میں عرض کرچکا ہوکہ ہمیں سوچنا ہوگا کہ اس قسم کے واقعات ہوتے کیوں ہے؟ تو اس کا جواب اس بات کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ دین سے دوری، اعلیٰ معاشرتی اور ثقافتی اقدار کی کمیابی آنکھیں بند کرکے غیر مسلوں کی پیروی ہی وہ عوامل ہے جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ عورت آج اپنے حق سے محروم ہے بلکہ مرد حضرات کا اس سے بھی برا حال ہے یہی وجہ ہے کہ اکثر و بیشتر سننے اور پڑھنے میں آتا ہے کہ بیوی نے آشنا کے ساتھ مل کر شوہرکو قتل کردیا، یا جوان لڑکی گھرسے سونا اور پیسے لے کر اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی۔ لہٰذا اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ پرسکون اور مطمئن ہو تو ہمیں سیکولرز کے پڑھائے گئے سبق کو بھولنا ہوگا اور اس کے بدلے اسلامی اقدار کو گلے سے لگانا ہوگا۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کیا کرتے ہیں۔

Short URL: http://tinyurl.com/zv9psg4
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *